مُلکی معیشت ۔۔۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟!
08 مارچ 2019 2019-03-08

تحریکِ انصاف کے قائدین کی طرف سے پچھلے چند برسوں میں تواتر کے ساتھ کہا جاتا رہا کہ جناب عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کی صورت میں مُلک کو در پیش ہر طرح کی مشکلات اورمسائل کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔اِس طرح تحریک انصاف کے حامیوں نے ہی نہیں کچھ ارور لوگوں بھی یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ جناب عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کی دیر ہے تمام مشکلات آناً فاناً دور اور تمام مسائل دِن دوگنے اور رات چوگنے حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ بے روزگاروں کو روزگار اور بے گھروں کو گھر مل جائیں گے ۔مُلک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ لوگ آسودہ حال ہونگے ۔ مہنگائی کا خاتمہ ہو گا اور قومی پیدار اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ غرضیکہ ایک سے ایک بڑھ کر توقعات وابستہ کر لی گئیں۔ایسا کیوں نہ ہوتا تحریک انصاف کی طرف سے پچاس لاکھ مکانات بنا کر دینے اور ایک کروڑ نوکریاں مہیا کرنے کے اعلانات کچھ زیادہ پُرانے نہیں اور نہ ہی حکومتی اخراجات میں کمی، حکومتی عہدداروں کے شاہانہ پروٹوکول کے خاتمے اور انتظامی اصلاحات اور گُڈ گورنس کے دعوے کچھ زیادہ پُرانے ہیں۔لیکن تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئے سات ماہ گُزجانے کے باوجود عملاً صورتِ حال کیا ہے؟ برسر زمین حقائق کیا ہیں؟ عوام کے مسائل کس حد تک حل ہوئے ہیں؟ لوگوں کو کتنی سہولیات ملی ہیں؟ مُلک کی اقتصادی صورتِ حال میں کتنی بہتری آئی ہے ؟ زرِ مبادلہ کے ذخائیر اور شرح نمو میں کتنا اضافہ ہوا ہے ؟ روپے کی قدر میں انتہائی کمی کے باوجود برآمدات کتنی بڑھی ہیں اورحکومتی سطح پر قرض لینے کی کتنی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ؟ وغیرہ ایسے سوالات ہیں اور اِن سے جُڑے کچھ دیگر معاملات اور مسائل ایسے ہیں کہ معروضی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر غیر جانب داری سے ان کا جائزہ لیا جائے تو بلا کسی ترددَ کے کہا جاسکتا ہے کہ صورتِ حال میں کچھ بہتری نظر نہیں آتی بلکہ مایوسی ،نااُمیدی اور نامُرادی کے سائے کچھ مزید پھیلتے دِکھائی دیتے ہیں۔ اِس ضمن میں سٹیٹ بنک کا مُلکی اور غیر مُلکی قرضوں کے حوالے سے حال ہی میں جاری کردہ بیان بھی مُلکی معیشت کی ابتر صورتِ حال کی نشاندہی کرتا ہے ۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جنوری 2019ء کے اختتام پر حکومتی قرضوں کاحجم 27ہزار 70ارب روپے ہو گیا ہے۔ مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں حکومت نے 2668ارب روپے قرض لیا جس میں 1299ارب روپے عالمی سطح پر اور 1569ارب روپے مُلکی سطح پر بطور قرض لیے گے ۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پچھلے سات مہینوں کے دوران ہر مہینے 409ارب روپے اور روزانہ 136کروڑ روپے قرض لینا ہمارا معمول رہا ہے ۔حکومت کے 210دِنوں کے دوران روزانہ 136کروڑ روپے کے حساب سے قرض لینے کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ 22کروڑ آبادی کے مُلک پاکستان کے ہر فرد مردو زن ، پیرو جواں پر روزانہ تقریباً6کروڑ روپے کا بوجھ لاد ا گیا ہے۔یہاں بطور جملہ معترضہ تحریک انصاف کے قائدین کی طرف

سے پچھلے 10برسوں میں مُلک میں برسر اقتدار( مُسلم لیگ ن)اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے دوران بے محابا قرض لینے اور مُلکی اور غیر مُلکی قرضوں کا حجم 30ہزار ارب روپے تک پہنچا دینے کے حوالے سے کی جانے والی شدید تنقید کا ذکر کیا جاسکتا ہے کہ سٹیٹ بنک کے تازہ بیان سے وزیراعظم جناب عمران خان سمیت تحریک انصاف کے قائدین کے سابقہ حکومتوں کے دور میں مُلکی اور غیر مُلکی قرضوں کے حجم کو 30ہزار ارب روپے تک پہنچا دینے کے بہہ تکرار کیے جانے والے دعوے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے پیش رووَں سے بڑھ کر قرض لے کر معاملاتِ حکومت چلانے کی راہ پر گامزن ہے ۔خیر اِس جملہ معترضہ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو مُلکی معشیت کے حوالے سے میڈیا خصوصاً قومی اخبارات میں چھپنے والے ماہرین اقتصادیات کے تبصرے ، تجزیے اور جائزے بھی ملکی معیشت کی صورتِ حال کی کوئی خوش کُن منظر کشی نہیں کرتے ۔یہاں مقتدر انگریزی معاصر’’ ڈان ‘‘میں اخبار کے نمائندے خُرم حُسین اور اقتصاد ی تجزیوں اور جائزوں کے لیے معروف انگریزی معاصر ’’بیزنس ریکارڈر‘‘ میں معروف ماہراِقتصادیات اور سابق وزیر خزانہ جناب حفیظ پاشا کے چھپنے والے مضامین کا حوالہ دینا کوئی بے جا بات نہیں ہو گی۔ اِن مضامین میں سٹیٹ بینک کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ اعدادو شمار کو سامنے رکھ کر مُلکی معیشت کو در پیش مسائل و مشکلات پر ٹھوس انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے ۔

ڈان کے نمائندے خُرم حُسین کے مطابق موجودہ مالی سال 2018-19کی پہلی ششماہی میں بجٹ خسارے میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جو حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ اضافے 29%کی سطح پر جا پہنچا ہے ۔اِس کے ساتھ پچھلے برسوں میں مجموعی محصولات کی وصولی کی مد میں ہر سال تقریباً 7.5%ہونے والے اضافے میں بھی کمی آئی ہے اور پچھلے مالی سال میں پہلے چھ ماہ میں جمع ہونے والے 2.39کھرب روپے کے مقابلے میں 2.33کھرب روپے تک محدود رہا ہے ۔ مضمون نگار کے مطابق محصولات کی مد میں وصولی میں کمی کی بڑی وجہ جِسے سٹیٹ بنک نے بھی اپنی رپورٹ میں بیان کیا ہے اکانومی میں سُست روی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی ہے جو مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 42.5%کمی اور دوسری سہ ماہی اس میں مزید 32.5%کمی کا اضافہ ہوا ہے ۔اِس کے مقابلے میں دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کی مدوں میں Fast Growingاخراجات معمول کے مطابق بلکہ اُس بھی بڑھ کر ہوئے ہیں۔قرضوں کی ادائیگی میں پہلی سہ ماہی میں اخراجات 13.7%اور دوسری سہ ماہی میں ڈیڑھ گنا بڑھ کر 20.1%تک جا پہنچے ہیں ۔جبکہ دفاعی شعبے میں پہلی سہ ماہی میں اخراجات 20.1%اور دوسری سہ ماہی میں 23%رہے ہیں ۔مضمون نگار کے مطابق اِس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ IMFسے بیل آؤٹ پیکج نہ لینے کے حکومتی دعووں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو IMFکی ایم ڈی کے ساتھ دُبئی میں میٹنگ میں معالی معاونت (بیل آؤٹ پیکج) کی درخواست کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ وہ مُلک میں IMFکی شرائط کے مطابق Deep Structurel Reformsکرنے کے لیے تیار ہیں۔

خُرم حُسین کے مضمون میں بیان کردہ یہ حقائق یقیناًایسے نہیں جنہیں جھٹلایا جا سکے ۔حکومت توانائی کے شعبے میں قیتموں میں بے محابا اضافہ کر چُکی ہے ۔گیس کے نرخوں میں اتنا اضافہ کر دیا گیا کہ وزیراعظم جناب عمران خان کو خود اس کا نوٹس لینا پڑا اور یہ ہدایت کرنی پڑی کہ عوام سے جو لوٹ مار کی گئی ہے اُسے واپس کیا جائے۔لیکن گیس کے اِس ماہ کے جو بِل آئے ہیں اُن میں پہلے کی شرح برقرار ہے اور کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔بجلی کے نرخوں میں بھی اِس ماہ سے فی یونٹ 2روپے کے لگ بھگ اضافہ کیا جا رہا ہے اِس سے بھی یقیناًعوام پر بے پناہ بوجھ پڑے گا ۔دفاع کے شعبے میں اخراجات ہماری قومی ضرورت ہیں اور اُن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے بھارت نے جنگی کیفیت پیدا کر کے اورجنگی جنون کو ہوا دے کر ہمارے خلاف جو صورتِ حال پیدا کر رکھی ہے اُس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہ ہوں اور اگر اِس کے لیے ہمیں مزید اخراجات بھی کرنے پڑیں تو اِس سے گریز نہ کیا جائے یقیناًبھارتی جارحیت کے خطرے کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ اِس کا بوجھ بھی مُلکی معیشت کو ہی برداشت کرنا ہوگا۔ (جاری ہے)


ای پیپر