بااثر افراد کے سرکاری زمینوں پر قبضے
08 مارچ 2019 2019-03-08

شہروں کے بڑھنے وہاں پر آبادی کی شرح میں اضافہ کے باعث صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت مختلف شہروں میں زمین کا سوال نئے سرے سے ابھر رہا ہے۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران شہروں کی طرف نقل مکانی ہوئی جس سے رہائش کے لئے زمین کی مانگ بڑھ گئی۔ بااثر شخصیات نے زمین لیز پر حاصل کی اور بعض سرکاری زمینوں پر قبضے بھی کئے۔کئی غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں بنیں۔ دو ماہ پہلے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سینکڑوں ہاؤسنگ کے منصوبوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے اوران اسکیموں کی لسٹ اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے شائع کی ہے ۔ غیر قانونی طور پر زمین الاٹ کرنے کے الزام میں کراچی کے ضلع بدین کے بعض افسران کو سزا ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایمپریس مارکیٹ کو اصلی شکل میں لانے کے احکامات کے بعد کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم چلائی گئی۔ اس مہم میں سینکڑوں کی تعداد میں تعمیرات منہدم کی گئی ۔ اب ایک مرتبہ پھر زمینوں پر قبضے ان کے ناجائز استعمال کا معاملہ میڈیا میں زیر بحث ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت سندھ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے سرکاری زمینوں، رفاعی پلاٹوں پر قبضے اور سرکاری زمین غیر قانونی طور پر دینے سے متعلق اپنی رپورٹ چیف سیکریٹری کو بھیج دی ہے۔ کشمیرروڈ پر واقع اسپورٹس کمپلیکس کی سرکاری زمین پر غیرقانوی قبضے اور نجی افراد کو الاٹ یا لیز پر دینے پر کے ایم سی کے سابق بیس ڈائریکٹرز کو ملازمت سے برخواست کرنے اور ان کے خلاف کرمنل الزامات کے تحت کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر زمینوں پر قبضے کرائے گئے جس میں کراچی بلدیہ اعلیٰ، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول بورڈ کے افسران ملوث رہے ہیں۔ ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا اور بعض صورتوں میں جعلی الاٹمنٹ آرڈر بھی بنائے گئے۔ کراچی کی پوری زمین کا کوئی ماسٹر پلان نہیں اور نہ ہی مکمل طور پر سروے کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے معاملے سے نمٹنے کے لئے متعدد سفارشات بھی پیش کی ہیں۔ لگتا ہے کہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم جو گزشتہ چند ہفتوں سے رکی ہوئی ہے، ایک بار پھر شروع کی جائے گی۔

خبروں کے مطابق تحریک انصاف سندھ کے جنرل سیکریٹری حلیم عادل شیخ کو اینٹی کرپشن ٹیم نے بلایا تھا۔ حلیم عادل شیخ سندھ اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں ۔ انہوں نے پوچھ گچھ کے لئے ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا ۔ اینٹی کرپشن ٹیم نے ان کوپوچھ گچھ کے لئے حاضر ہونے کے لئے نوٹس بھیجا تھا۔ ٹیم مقررہ تاریخ پر ان کا انتظار کرتی رہی ۔ لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ پر ملیر کی دیہہ کونکر اور کھا کھرو میں 253 ایکڑ زمین پر قبضے اور ناجائز تعمیرات کرنے کا الزام ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈرکا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے

ملیر میں زمین پر قبضے اور ناجائز تعمیرات کرنے میں بڑے بڑے نام ہیں لیکن 80 افراد میں سے اینٹی کرپشن کو صرف ان کا نام نظرآیا۔ اگر دوسرے بڑے نام انکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہونگے تو وہ بھی پیش ہونے کو تیار ہیں۔اینٹی کرپشن ٹیم کے نوٹس کے مطابق انہوں نے یہ زمین لیز پر حاصل کی اور بعد میں اس زمین پر نہ صرف فارم ہاؤس تعمیر کیا بلکہ کاروباری مقاصد کے لئے تعمیرات کی اور کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ ان کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ طارق علی قریشی، عبدالرحمٰن چوہدری اور ڈریم ڈویلپرز علیم عادل کی معرفت ان کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے پر سیاسی اور میڈیا کے حلقوں میں دلچسپ تبصرے ہورہے ہیں۔

دریں اثناء سندھ ہائی کورٹ سکھر سرکٹ بنچ نے محکمہ جنگلات کی سوا لاکھ ایکڑ زمیں کا قبضہ خالی نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قبضے خالی نہیں کرائے جاتے تو پھر کیوں نہ ڈی ایف اوز کو ہٹایا جائے۔ عدالت نے محکمہ جنگلات کی زمین پر سے قبضہ خالی کرانے کا حکم دیا تھا لیکن محکمہ جنگلات اس حکم پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا۔ سپر ہائی پر واقع نوری آباد کے علاقے میں متعدد زمینی تنازعات اور قبضے کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔نوری آباد کے گاؤں موندر پالاری میں زمین پر قبضہ کا کیس مقامی عدالت تک پہنچا ہے۔ جس میں ایس ایچ اور نوری آباد اور کراچی کے بعض بلڈرز پر ان کے کھاتے کی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

پبلک اسکول حیدرآباد کا معاملہ بھی میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس سکول کو تین سال کے لئے آئی بی اے سکھر کے حوالے کردیا گیا ہے۔ آئی بی اے سکھر امنیجمنٹ سائنسز کے ادارے کے طور پر وجود میں آیا تھا، جس کو چند سال پہلے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ گزشتہ روزحکومت سندھ نے پبلک اسکول حیدرآباد اس ادارے کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی۔ جس کے بعد اسکول کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کمشنر حیدرآباد اور آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر نثار احمد صدیقی نے معاہدے پر دستخط کئے۔ گزشتہ چند سال سے اسکول بد نظمی کا شکار ہے۔ 1961 میں صدر ایوب خان نے اس اسکول کی بنیاد رکھی تھی۔ اسکول کے پاس وسیع زمین ہے، جو کہ لطیف آباد کے تالپور خاندان نے تعلیم کے لئے بطور عطیہ دی تھی۔ اب اسکول میں صرف 1900 طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ ملازمین کی تعداد 2010 ہے۔ ایم کیو ایم کو اس معاہدے پر اعتراض ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن صابر قائم خانی نے ویزراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اطہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اسکول کو بیچنے کے خلاف جدوجہد کرے گی اور عدالت میں بھی جاسکتی ہے۔

سندھ میں 488 سرکاری افسران نے کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے تقریبا دو ارب روپے سرکاری خزانے میں لوٹا دیئے ہیں۔ اس موضوع پر بھی اخبارات نے اداریے لکھے ہیں۔نیب نے یہ تفصیلات سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی ہیں۔ اس سے قبل جب بھی کرپشن پر آواز اٹھتی تھی تو سندھ حکومت اس کی تردید کرتی تھی۔ حکومت کہتی تھی کہ کرپشن کا میڈیا نے تصور بنایا ہوا ہے۔

روزنامہ کاوش احتجاج پروف حکمران اور سیاست کا شکار سیڈا کا ادارہ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ طرز حکمرانی پر عوام کے اعتماد یا عدم اعتماد کا اندازہ وہاں ہونے والے احتجاجوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ کسی سماج میں مسلسل عددی طور پر زیادہ احتجاج عوام کی بے چینی اور اضطراب کو ظاہر کرتے ہیں ۔ مختلف ممالک کے حکمران عوام کے مزاج کے موسم کا اندازہ ان احتجاجوں سے لگاتے ہیں۔ اور ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ لیکن ہمارے حکمرانوں پر احتجاجوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ سندھ میں پریس کلبوں کے آنگن احتجاجوں کی وجہ سے آباد ہیں۔ لوگ بھوک ہڑتال، مارچ اور دھرنے لگا رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک احتجاج بدین کے کاشتکاروں نے پانی کی شدید قلت کے خلاف پچاس کلومیٹر پیدل مارچ کر کے کیا۔ پانی کی عدم فراہمی میں محکمہ آبپاشی اور سیڈا ذمہ دار ہیں۔ لیکن ان دونوں اداروں کو احتجاجوں کی پرواہ ہی نہیں۔ پانی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کے لئے سیڈا کا ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ لیکن اب یہ ادارہ بھی اسی سیاسی مداخلت کا شکار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کرپالیسیاں بنائی جائیں اور ان پر اسی اسپرٹ کے ساتھ عمل کیا جائے۔


ای پیپر