خواتین اقلیت نہیں، پھر کوٹہ کیوں؟
08 مارچ 2019 2019-03-08

اس وقت جبکہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انٹر نیشنل ویمن ڈے ( عالمی یوم خواتین) منایا جا رہا ہے تو پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر ایک ٹوتھ پیسٹ کی ایڈ چل رہی ہوتی ہے جو کہ اکثر پرائم ٹائم شام 8 سے 10 بجے تک زیادہ دکھائی جاتی ہے تاکہ کوئی رہ نہ جائے۔ اس ایڈ کا اصل مقصد تو اپنا منجن ( Tooth paste )بیچنا ہے لیکن اس میں ایک ضمنی بات ایسی ہے جو ہماری معاشرتی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ایڈ میں لڑکوں کا ایک گروپ فٹ بال کھیلنے کی تیاری کر رہا ہے وہاں تقریباً دس سال کی ایک چھوٹی بچی آ جاتی ہے اور انہیں کہتی ہے کہ میں نے بھی کھیلنا ہے وہ لڑکے اسے اپنے ساتھ کھیل میں شامل کر نے پر رضا مند نہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ ’’ لڑکی ہے نا چوٹ لگے گی تو رونے لگے گی‘‘۔ یہ پورے ملک کی نئی نسل کی لڑکیوں کے لیے پیغام ہے کہ آپ زندگی کے کسی شعبے میں لڑکوں کی برابری نہیں کر سکتے ہو کیونکہ آپ جسمانی طور پر ان سے کمزور ہو۔ میں نے اس ایڈ کے بارے میں کئی خواتین این جی او لیڈرز کو نشاندہی کی سوشل میڈیا پر بھی لکھا۔ میرا خیال تھاکہ پاکستان تحریک انصاف کے بر سر اقتدار آنے میں خواتین کا چونکہ بے پناہ Contribution ہے لہٰذا یہ ہو نہیں سکتا کہ اس طرح ایڈ بند نہ ہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا یہ سلسلہ پورے زور شور سے جاری ہے۔

پاکستان میں دو دفعہ ایک خاتون وزیر اعظم کے منتخب ہونے اور خواتین کے پارلیمنٹ میں مضبوط کوٹے کے با وجود خواتین کے حالات میں تبدیلی نہیں آئی صورت حال اس وقت بھی اتنی ہی مخدوش ہے جتنی پہلے تھی۔ نو منتخب پارلیمنٹ کے اجلاس کی تیاریوں کے بارے میں جب ٹی وی چینل خواتین ارکان پارلیمنٹ کی تیاری کی کوریج کرتے ہیں تو اس میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ پارلیمنٹ میں کون سا قانون بنوانا یا بدلنا چاہتی ہیں ان کی تیاری جو دکھائی جاتی ہے وہ ساری ان کے کپڑے میک اپ شولڈر بیگ جوتے اور بیوٹی پارلر جیسے لوازمات کو Highlight کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گراس روٹ سطح کی نمائندہ خواتین نہیں ہوتیں نہ ان کا کوئی حقوق نسواں سے تعلق ہوتا ہے یہ محض سیاستدانوں کی فیملی ممبرز ہونے کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچتی ہیں اور 5 سال تک خواتین کے لیے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے لیے لڑتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی میں جب خواجہ آصف نے شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی تو اس وقت بھی ن لیگ کی خواتین نے خواجہ آصف کا ساتھ دیا ایسی اور بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین سے بات کی ہے وہ تمام اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں Gender Equality یعنی مرد اور عورت کی برابری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر بشریٰ انور پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور بین الاقوامی جرائد میں معیشت پر لکھتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اصل میں ہمارا معاشرہ نہ تو مکمل اسلامی ہے اور نہ ہی سیکولر ہے بلکہ اب تو اس پر مغربی معاشرے کے اثرات بھی گہرے ہو چکے ہیں۔ گویا یہ ایک پیچیدہ نظام جس پر قیام پاکستان کے وقت کی Mass Migration کے بھی اثرات ہیں ان کا خیال ہے کہ عورتوں کو Emplower کرنے کے لیے یہ نا گزیر ہے کہ انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے اور ایسے Skill development کی جائے کہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔ ڈاکٹر بشریٰ انور نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے Divorce Rate یعنی طلاق کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا جو کہ بطور خاندان ہماری معاشرتی اقدار کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بطور ایک سیاسی جماعت کے خواتین کی Gross Roots سطح پر جتنا شعور دیا ہے یہ اس سے پہلے کسی دور میں نہیں ہوا۔ ڈاکٹر بشریٰ انور کا کہنا ہے کہ میڈیا کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ویلیج میں سمٹ آئی ہے ۔ لہٰذا خواتین کو جہالت میں رکھنا ممکن نہیں رہا اب تو سعودی عرب جیسے conservative ملک میں بھی عورتوں کو آزادی دی گئی ہے۔ وہ گاڑی چلا سکتی ہیں حال ہی میں شہزادی ریما نبت سلطان کو امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ انور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

محترمہ امینہ زمان کا تعلق Development Social سیکٹر سے ہے انہوں نے عمر بھر غربت کے خاتمے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہد کی ہے اور مختلف این جی اوز کے پلیٹ فارم سے ترقی نسواں کو اپنی Campaign کا حصہ بنایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم مانتے ہیں کہ NGO سیکٹر پاکستانی معاشرے میں خواتین کو ابھی تک ان کا جائز مقام نہیں دلوا سکا مگر ہماری یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ جہاں خواتین کو گراس روٹ سطح پر برابری کی یقین دھانی کا تعلق ہے تو ہم حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں مثال کے طور پر اگر آپ یونین کونسل سطح پر گورننس میں عورتوں کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسا نظام وضع کرنا ہو گا جس میں عورتیں الیکشن میں حصہ لے کر منتخب ہو کر کونسل کا حصہ بنیں۔ اس وقت ان کی نمائندگی مردوں کی مرہون منت ہے مروجہ قوانین کے مطابق عورتوں کی ucمیں نمائندگی منتخب ہونے والے مرد ممبران کی ووٹنگ سے ہوتی ہے جوکہ قطعی غیر جمہوری اور امتیازی معاملہ ہے اگر uc لیول پر خواتین ووٹوں سے جیت کر آئیں گی تو ایک تو انہیں برابری کی بناء پر ترقیاتی فنڈز ملیں گے دوسرا یہی تجربہ آگے چل کر پارلیمنٹ لیول تک Replicate کیا جا سکے گا۔ کوٹہ تو اقلیت کے لیے ہوتا ہے ہم اقلیت نہیں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ماورا عنائیت قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد مین انٹر نیشنل افیئرز کی استاد ہیں وہ شاعرہ اور افسانہ نگاری میں بھی اپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں معاشرتی طور پر جو منافقت اور دو غلہ پن پایا جاتا ہے اس وجہ سے آزادی نسواں کا تشخص متاثر ہوا ہے ۔ ڈاکٹر ماورا کا کہنا ہے کہ آپ اردو ادب کی ساری شاعری دیکھ لیں اس میں وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ سے لے کر پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے جیسی شاعری عورت کے حسن و جمال کا نقطۂ کمال ہے شاعروں اور ان کے پرستاروں نے عورت کے حسن پر جان نچھاور کرنے اور محبوب کے پاؤں کی دھول بن جانے میں کبھی دریغ نہیں کیا لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ جس معاشرے میں پوری کی پوری شاعری اور ادب کا مرکز و محور عورت ہے لیکن جب ہم عملی طور پر دیکھتے ہیں تو شاعری میں دیوتا سمجھی جانے والی عورت کے لب و رخسار اور پیکر و قامت پر قربان ہو اجانے والا مرد حقیقی زندگی میں اسے دیوی دیوتا تو کیا انسان کا درجہ دینے پر بھی مائل نہیں ہے بلکہ اس کی آزادی و منشاء پر قد غن لگا کر اپنے لیے تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے یہ ہمارے معاشرے کی دو رنگی ہے کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔

ڈاکٹر ماورا نے افلاطون کی مشہور کتاب The dialogue کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ جن تقریر پر لکھی گئی یہ کتاب در اصل سقراط کی تعلیمات تھیں اور سقراط نے یہ سارا کچھ یونانی عورت سے سیکھا تھا جس کا نام aspasia تھا آج پوری دنیا میں یہ کتاب ایک حوالہ ہے جس کے پیچھے ایک عورت کا وجود ہے اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا:

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کی آگ سے پھوٹا شرارِ افلاطون

ڈاکٹر ماورا نے مشہور مسلمان فلاسفر ابنِ رشد (1126-1178 ) کی عورت کی قائدانہ صلاحیتوں کے اعتراف کے حوالے سے اپنا ایک قطعہ پیش کیا۔

مرد تنہا جنگ کر سکتے نہیں

رشد کا کیا خوب یہ پیغام ہے

ہے محبت ان کی فطرت میں مگر

عورتیں ہیں فلسفی اور رہنما


ای پیپر