امن اور بدمعاشی کا مقابلہ
08 مارچ 2019 2019-03-08

پلوامہ حملے سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور تناؤ میں ابھی تک کمی نہیں ہوئی حالانکہ عمران خان نے پیش کش کی کہ آپ ثبو ت دیں ہم کاروائی کریں گے مہذب دنیا میں یہی اصول رائج ہے کوئی مدعی اور منصف بن کر حکم دینا شروع کردے کہیں تحسین نہیں پاتا لیکن بھارت نے ایسا ہی کرنے کی کوشش کی بغیر تفتیش کے پلوامہ واقعہ کاپاکستان کو زمہ دار ٹھہرادیالیکن اپنے فوجیوں کی شناخت کرنے والا بھارت آج تک خود کش حملہ آور کی باقیات بارے کچھ پیش کرنے سے قاصر ہے جس سے بھارت کا مظلوم بننے کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیاہے ثبوت دینے کی بجائے سزا کی دھمکیاں دینا آزاد و خودمختار ملک پر فیصلے ٹھونسنے کے مترادف ہے اسی لیے جواب میں امن کا اعادہ تو ہوا لیکن جنگ ہونے پر وطن کی خود مختاری و سالمیت کے تحفظ کوترجیح دینے کا عزم دہرایا گیا آرمی چیف قمرجاوید باجوہ نے امن ترجیح مگر جارحیت کا جواب یقینی کی بات واشگاف انداز میں کی تو بہتر تھا کہ دہلی سمجھداری سے کام لیتے ہوئے کشیدگی بڑھانے کی بجائے تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے زریعے حل کرنے کی طرف توجہ مبذول کرتا تاکہ خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوتالیکن اُسے کشمیر کی سرزمین سے دستبردار ہونا کسی طور گوارہ نہیں مگر سچ یہ ہے کہ کشمیری کسی طور اب بھارت کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں۔

اب اِس میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ پلوامہ حملے میں بھارت کی حکمران جماعت ملوث ہے جس کا اعتراف بھارت میں برملا کیا جارہا ہے بی جے پی کی مخالف جماعتیں کھلم کھلا کہہ رہی ہیں کہ الیکشن جیتنے کے لیے حکومتی جماعت اپنے فوجیوں کو مار رہی ہے بلکہ بی جے پی کے ذمہ دار بھی کہنے لگے ہیں کہ فوجیوں کے مرنے پر جنگ کا ماحول بنانے سے بیس بائیس نشستیں بڑھ جائیں گی بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اب71ء والا زمانہ نہیں پاکستان کا دفاع نا قابلِ تسخیر ہے لیکن کیا کیا جائے انتہا پسند ہندو مسلم نفرت پر مبنی اپنی زہنیت بدلنے کو تیا ر نہیں اسی لیے بار بار ہزمیت اُٹھا رہے ہیں اگر ہندو زہنیت بدل لیں تو دونوں ممالک ہتھیار اکٹھے کرنے کی بجائے

وسائل خطے سے غربت ،ناخواندگی اور بے روزگار ی ختم کرنے پر صرف کرسکتے ہیں بشرطیکہ دہلی تقسیم کا زخم بھول کر پاکستان کو صدقِ دل سے تسلیم کرلے اور علاقے کا تھانیدار بننے کا خیال دل سے نکال دے ۔

بھارت ہو یا پاکستان اکثریت متفق ہے کہ پلوامہ ڈرامہ مودی نے الیکشن جیتنے کے لیے رچایا ہے تاکہ پاکستان مخالف فضا بنا کر دوبارہ اقتدار حاصل کیا جا سکے دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا متحد ہے دہلی کے پیشِ نظر مسلم اقلیت کو ڈرانا دھمکانا اورسفارتی زرائع کو بروئے کار لا کر اسلام آباد کو عالمی سطح پر تنہا کرنا بھی ہے گودھرا حادثہ، ممبئی یااُڑی واقعات ہوں یا پلوامہ ڈرامہ دہلی کی اسی سوچ کے مظہر ہیں لیکن دنیا دہشت گردی کے خلاف تو متحد ہے مگر ڈرامہ بازی کی قائل نہیں اسی وجہ سے بھارت کو مقاصد حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے پلوامہ ڈرامے سے بھارتی قیادت کا خیال تھا کہ پاکستان پر دباؤ بڑھا کر انتخاب با آسانی جیتے جا سکیں گے اوراسی آڑ میں خطے میں بالادستی کا دیرینہ خواب بھی پورا ہو جائے گا اسی لیے تفتیش سے پہلے ہی پاکستان کو زمہ دار ٹھہرانے اور سبق سکھانے کی باتیں کی جانے لگیں جب پاکستان نے ثبوت طلب کرنے اور زمہ داروں کے خلاف کاروائی کا عندیہ دیا تو بھارت نے تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا جس سے دنیا نے یہ پیغام لیا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن بھارت بدمعاشی پر مُصر ہے امن اور بدمعاشی کے مقابلے میں دنیا کاامن برباد ہوجائے یہ کسی کو گوارہ نہیں اسی لیے دنیا نے دونوں ممالک میں کشیدگی ختم کرانے کی کوششیں شروع کیں اور بھارت کا موقف رد کردیا ۔

سرحدوں پر مورچے بنانے اورپاکستان پر الزامات لگانے سے پہلے بھارت کی جنونی قیادت وقت کے تعین میں مات کھا گئی جب پاکستان سرمایہ کاری کے لیے دنیا کو سازگار ماحول دینے کی جستجو میں ہے اورسعودی ولی عہد محمد بن سلیمان دورے پر ہے پاکستان بھلا کیونکر خطے میں تناؤ بڑھانے کی تمنا کر سکتا ہے ؟ لیکن طاقت کے زعم میں انتہا پسند ہندوکچھ سمجھنے پر آمادہ نہیں سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بھی پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا بھارتی طیاروں نے فضائی حدودپار کیں تب بھی پاکستان نے محتاط روی دکھائی جس پر جنونی ہندؤوں نے حماقتیں جاری رکھیں اور پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری سمجھا لیا تنگ آکر پاکستان نے جواب دینے کا پیغام بھیجالیکن بھارت نے سنجیدہ نہ لیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب ہندوستانی طیارے رات کی تاریکی میں وزن پھینک کر بمشکل بچ جانے میں کامیاب ہوئے تو اپنی فوجی استعداد کے متعلق ڈینگیں مارنے سے گریز کیا جاتا لیکن افرادی قوت کے نشے میں سرشار یہ بھول گئے کہ پاکستان اور بھارت کی افواج میں ایک واضح فرق ہے پاکستان کے فوجی شہید ہونے کے لیے لڑتے ہیں تاکہ جنت میں جا سکیں جب کہ بھارتی فوجی محض روزگار کی وجہ سے فوج کا حصہ بنتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میدانِ جنگ میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔

پاکستانی ائر فورس نے دن کی روشنی میں کاروائی کی اور اہداف کو نشانہ بنایا بھارتی ائر فورس نے روکنے کی کوشش کی تو پاک فضائیہ نے دوطیاروں کو مار گرایااور پاکستانی حدود میں گرنے والے طیارے کے ایک پائلٹ کوزندہ گرفتار کر لیا یہ ایسی کامیابی تھی جس سے پاکستان کی عسکری طاقت کا اظہار ہوا نیز جے ایف تھنڈر کی صلاحیتوں کے جوہر دنیا پر عیاں ہوئے لیکن وزیرِا عظم عمران خان نے امن پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا یہ فیصلہ حکمت وتدبر کا شاہکار ہے جسے یورپی کونسل،اقوامِ متحدہ،امریکہ،سعودی عرب،ترکی ،روس سمیت دنیا بھر نے سراہا بھارت میں بھی عمران خان کی صُلح جو طبعیت کی تحسین ہوئی لیکن مودی گھر جاؤ کا نعرہ بلند ہوا یہ فیصلہ پاکستان کی نیک نامی اور سفارتی کامیابی کا باعث بنا اب کئی ممالک ثالثی کرانے کا اِرادہ رکھتے ہیں کیونکہ دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان کمزور نہیں جنگ کی صورت میں بڑی تباہی کا اندیشہ ہے اسی لیے خطے میں امن کے لیے اقوامِ عالم پاکستانی موقف امن کی ہمنوا ہیں اور بدمعاش بھارت کو راہ راست پر لانے کے لیے کوشاں ہیں ۔


ای پیپر