رضا ربانی بطور چیئرمین سینیٹ کیوں قبول نہیں؟
08 مارچ 2018

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جو دراصل پارٹی کے فیصلے خود کرتے ہیں ان کو رضا ربانی بطور چیئرمین قبول نہیں۔زرداری صاحب کو فرحت اللہ بابر بھی بطور پارٹی کے ترجمان اب قبول نہیں۔ انہیں سینیٹ میں گزشتہ روز کی تقریر کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رضا ربانی اور زرداری صاحب کے درمیان اختلافات کی کہانی پرانی ہے۔ بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ پارٹی اجلاسوں اور جلسوں میں نہیں آتے تھے۔ میاں رضا ربانی نے امریکی صدر ٹرم پ کو ٹوئٹ کر کے جواب دیا تھا ۔ بلاول ہائوس سے وضاحت جاری کرنی پڑی تھی۔ لیکن اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ اور بھی کئی مواقع پر رضا ربانی کی لائن پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے مختلف رہی۔ وہ جمہوری اداروں اور جمہوری تسلسل کے حق میں رہے۔ یوں یہ اختلافات بڑھتے گئے۔ صورت حال یہ آکر بنی کہ زرداری نے رضا ربانی کو اس مرتبہ سینیٹ کا ٹکٹ بھی دینے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں سید خورشید شاہ اور بلاول بھٹو کی مداخلت پر انہیں پارٹی ٹکٹ دے دی گئی۔ رضا ربانی پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔ ان کاترقی پسندی اور روشن خیالی کے نظریات سے تعلق ہے۔ ان کے کنٹری بیوشن میں اٹھارہویں ترمیم کے علاوہ پاکستان میں مشرف دور کے بعد جمہوری عمل کو جاری رکھنے اور ڈی ریل نہ ہونے دینے میں بہت اہم رول ہے۔ وہ ہمیشہ صوبائی حقوق کے حامی رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کا یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ جمہوری عمل جاری رہے گا، اتنے منتخب ایوان مضبوط ہونگے۔
سینیٹ کے انتخابات ملک کے ایک ایسے سیاسی کلچر کو سامنے لائے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں کیا ہونے جارہا ہے۔ اس بری طرح سے اور اس بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی کہ لوگوں کا اعتماد منتخب اداروں سے اٹھ جائے۔
یہ درست ہے کہ اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کا کاروبار صرف سینیٹ کے انتخابابت تک ہی محدود نہیں۔ یہ کاروبار حکومتیں بنانے اور پارٹی ٹکٹ دینے کے وقت ہی ہوتا ہے جب بااثر شخصیات اس شرط پر بڑی پارٹیوں میں شمولیت کرتی ہیں کہ انہیں وزیر یا مشیر بنایا جائے گا۔ یہ سودے بازی الیکشن سے پہلے کی ہے۔ بعد میں یہ سودے بازی اور کاروبار کسی ایک پارٹی کے اکثریت حاصل نہ کرنے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ ان دو صورتوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ بہر حال ہارس ٹریڈنگ
پاکستان کی ہر الیکشن کا خاصہ ہے۔
اب ووٹ کے بیچنے کا کام کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ جب اسمبلی اراکین بک رہے ہوں تو کرپشن کے خلاف واویلا فضول سی بات لگتی ہے۔ وہ لوگ جو حکومت اور ریاست میں اختیار رکھتے ہیں۔ چاہے کوئی بھی پارٹی ووٹ خرید کرے اس رقم کی ادائیگی بالآخر عوام سے ہونی ہے۔ کوئی شخص یا پارٹی ذاتی طور پر اتنے پیسے کیوں خرچ کرے گی۔ یعنی رقومات اور عہدے پر کشش بن جانتے ہیں کہ اس چمک کی کوئی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں ایم پی ایز کی قیمت اس وجہ سے بھی بڑھی کہ عام انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں اور اراکین اسمبلی کو یقین نہیں کہ وہ نئے انتخابات میں جیت بھی پائیں گے یا نہیں؟ دوسری وجہ سینیٹ کے چیئرمین کا عدہ ہے۔ یہ عہدہ ملک کے حالیہ بحران کی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر حکمران جماعت کسی طور پر یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آئندہ وقت میں اس کو بعض اہم قوانین اور آئینی ترامیم منظور کرانے میں سہولت ہوگی۔ اگر عام حالات ہوتے تو اس طرح ایم پی ایز کی سٹاک مارکیٹ میں اضافہ نہ ہوتا۔
ملک کی دو بڑی پارٹیوں نے جو امیدوار نامزدکئے ہیں اس سے ان کی طرز حکمرانی اور ویژن کا پتا چلتا ہے۔ سیاسی رہنمائوں کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ کسی اور شعبے کے مقابلے میں ان کی صفوں میں کرپشن زیادہ ہے۔ اس میں یہ بات مزید اضافہ کردیتی ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو دھوکہ دے رہے ہیں۔اس صورتحال میں چاہے نعرے کچھ بھی لگائیں۔ لیکن عملاً اس سے سیاستدانوں کے ہاتھوں ہی سویلین حکمرانی اور جمہوریت کا بیانیہ کمزور ہوتا ہے۔
پیپلزپارٹی ملک کی بڑی نظریاتی اور جمہوری پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس میں اب صورت حال یہ بن رہی ہے کہ اصول پسند اور نظریاتی لوگ اقلیت میں تبدیل ہو چکے ہیں اکثریت ان لوگوں کی سامنے آرہی ہے جو کاروباری ہیں ۔ جن کا پارٹی کے نظریے، اصول پسندی ، جمہوری اداروں اور جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مفادات کے پیش نظر قتدار کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور بزنس کمپنیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ پیپلزپارٹی تھر کی دلت لڑکی کرشنا کولہی کو سینیٹ کی ٹکٹ دے کر ملک خواہ عالمی میڈیا میں واہ واہ تو وصول کرنا چاہتی ہے لیکن رضاربانی کو چیئرمین سینیٹ بنا کر ملکی اداے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا نہیں چاہتی۔ کرشنا کولہی کو سینیٹ کی ٹکٹ دینا اچھا لگتا ہے لیکن وہ اس ایوان میں کیا رول دا کرے گی اس کا اندازہ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ ہاں یہ بھی عجیب بات ہے کہ کرشنا کے قبیلے خواہ اس طرح کے دیگر پچھڑے ہوئے طبقات کے نجی جیلوں میں بند کرنے والے بھی اس پارٹی میں بیٹھے ہیں۔
گزشتہ مرتبہ رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کی تجویز عوامی نیشنل پارٹی نے دی تھی۔ لیکن تب حالات مختلف تھے پیپلزپارٹی نے اتحادی ہونے کے ناتے ان کی یہ تجویز قبول بھی کر لی تھی۔ اس مرتبہ چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے یعنی حاصل بزنجو، ڈاکٹر عبدالمالک، اے این پی، محمود خان اچکزئی نے بھی یہ تجویز دی ہے کہ رضا ربانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کیا جائے۔ یہ تجویز صرف نواز شریف کی نہیں۔
اس تمام منظر میں دو چیزیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ دن بدن مضبوط آواز کمزور کی جارہی ہے اور اور کو مزید پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ دوسرا یہ کہ آنے والے وقتوں میں سنینٹ کمزور ہو۔ اور اس کی وہ حیثیت ہو جو ضیا اور مشرف کے زمانے میں تھی۔ یعنی سینیٹ کا وہ کردار نہ رہے جو وہ صرف اس ایوان کو ہی نہیں بلکہ قومی سمبلی کو بھی مضبوط کر رہا تھا۔


ای پیپر