سینیٹ کی دستا ر اشتہا ری کے ہا تھو ں تا ر تار
08 مارچ 2018 2018-03-08

چند روز پہلے یعنی تین ما ر چ کو ہو نے وا لے سینیٹ انتخا با ت کے سر کا ری نتا ئج ا گر قا ر ئین کو یا د دلا ئو ں تو صو ر تِ حال کچھ یو ں بنتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون (جس کے امیدوار آزاد حیثیت میں لڑے) نے 15، پاکستان پیپلز پارٹی نے 12، تحریک انصاف نے 6، فاٹا اتحاد نے 4، نیشنل پارٹی نے 2، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے 2، جی یو آئی ایف نے 2، ایم کیو ایم نے 1، مسلم لیگ فنکشنل نے 1 ، جماعت اسلامی نے 1، آزاد امیدواروں نے 6 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی۔ تا ہم تو جہ طلب امر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی جا نب سے ایک ایسے شخص کو بھی امید وار کے طو ر پر کھڑا کیا گیا جسے و طنِ عزیز کی نیب عد ا لت Absconder یعنی اشتہا ری قر اردے چکی ہے۔ جی ہا ں میں با ت کر رہا ہو ں ملک کے سا بقہ وزیرِ خز ا نہ غلا م ا سحق ڈ ا ر کی ۔ یہ ہے اس ملک کا المیہ ۔ کیا یہ وہ مقا م نہیں جہا ں اور کچھ نہیں تو سپر یم کو ر ٹ آ ف پا کستا ن کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثا رکو از خود نو ٹس لینا چا ہیے کہ کس طر ح ایک اشتہا ری کے ہا تھو ں سینیٹ کی دستا ر کو تا ر تا ر کر نے کی اجا زت دے دی گئی؟ چلیں کسی اپوزیشن لیڈر کی نہیں، بلکہ گورنمنٹ آف پاکستان کے مستند ترین ادارے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ ملاحظہ فرمالیجئے۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ مالی سال 2017ء میں حکومتی اداروں کے قرضوں میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکومتی اداروں کے قرضے 568 ارب سے بڑھ کر 823 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی معیشت کی سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2017ء میں او جی ڈی سی ایل کے قرضے 2 ارب روپے سے بڑھ کر 3 ارب روپے ہوگئے۔ اسی عرصے میں پی آئی اے کے قرضے 22 فیصد اضافے کے ساتھ 122 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ مالی سال 2017ء میں پاکستان سٹیل ملز پر 43 ارب روپے کے قرضے ہوگئے جبکہ دیگر حکومتی اداروں کے قرضے 367 ارب روپے سے بڑھ کر 573 ارب روپے ہوگئے ہیں۔ مگر اسحا ق ڈا ر صا حب مسلسل فرماتے ر ہے کہ معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور پھر آگے چل کر سادہ لوح عوام کو اعداد و شمار کے چکر میں الجھا کر ثابت کرنا چا ہتے رہے کہ ملک معیشت کی مد میں ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ اب عوام بیچارے ماہرین معاشیات تو نہیں کہ جان سکتے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ سچ ہے یا اسحق ڈار کا بیان۔ مگر ان کے پاس ایک ناقابل تردید یارڈ سٹک موجود ہے جھوٹ اور سچ کو جانچنے کی ۔ وہ اس یارڈ سٹک سے اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی حالت روزانہ کی بنیاد پر پرکھ سکتے ہیں۔ وہ دیکھتے رہے اور اب بھی د یکھ
رہے ہیں کہ ان پر روزگار کے دروازے دھیرے دھیرے بند ہوتے جارہے ہیں۔ اور یہ سب اشتہا ری اسحق ڈا ر کی اند ھا دھند لوٹ ما ر کے نتیجے میں ہے۔ دکانوں اور کارخانوں کے مالک گاہکوں کی تعداد میں کمی آتی چلی جانے کے باعث اپنے ملازمین کی تعداد کم کیے جارہے ہیں۔ پھر عوام دیکھ رہے ہیں کہ منہ زور مہنگائی کہیں رکنے یا سانس لینے کا نام ہی نہیں لے پارہی۔ تو ایسے میں ان کے لیے فیصلہ کرنا کتنا آسان ہوگیا ہے کہ وزارت کی کرسی سے چمٹے ر ہنے والے اسحق ڈار سفید جھوٹ بول رہے ہیں، وہ بھی انتہائی ڈھٹائی سے۔ وہ وزا رت کی کرسی سے اگر علیحدہ ہو ئے تو صر ف اور صر ف وز یر ا عظم شا ہد خا قا ن عبا سی کے اتا ر نے کی بناء پر۔
سینیٹ الیکشن کے نتائج وا ضح اشا ر ہ کر رہے ہیں کہ مستقبل قر یب میں ہو نے والے عا م انتخا با ت پہ مسلم لیگ ن کی گر فت مضبو ط ہو گی۔ سا تھ سا تھ گا ہے بگا ہے ہو نے وا لے ضمنی انتخا با ت میں مسلم لیگ ن کی مسلسل کا میا بیا ں شر یف خا ند ا ن کی سا کھ کو مضبو ط کر ر ہی ہیں۔ لیکن میا ں بر ا درا ن کی تو جہ اس حقیقت کی جا نب مبذ و ل کرا نا ضر و ر ی ہے کہ عا م شہری کے پا س ا گر کو ئی اشتہا ری آ جا ئے تو اس شہری پر اشتہا ری کو پنا ہ د ینے کا مقد مہ در ج ہو جا تا ہے۔ اب اگر میا ں برا درا ن اسحق ڈ ا ر پہ سینیٹر کے طو ر پر ہا تھ ر کھتے ہیں تو قا نو ن کی نظر میں میا ں برا درا ن کی کیا حیثیت ہو گی؟ ا سحق ڈا ر پر بنی ہے تو ا یسی بنی ہے کہ جسمانی حالت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں۔ بطو ر سمد ھی وہ میاں نو ا ز شر یف سے کمبل کی ما نند ایسے چمٹے ہو ئے ہیں کہ لگتا ہے کہ میا ں صا حب خو ا ہش ر کھنے کے با و جو د کمبل کو خو د سے علیحد ہ نہیں کر پا رہے۔ لیکن اب وقت آ ن پہنچا ہے کہ میا ں صا حب اس کمبل سے جلد ا ز جلد پیچھا چھڑ ا لیں۔
اتفاق فائونڈریز اور پھر نذیر اینڈ کمپنی میں نوکری کے دوران سکوٹر پر گھومنے والے اسحق ڈار نے جس طرح اپنا ماضی بھلا یا ، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انہیں کالے آدمی سے بات کرنا نا گو ا ر گز را کر تا ۔یہاں تک کہ اپنی پارٹی کے وزراء کے فون تک ا ٹھا نا ان کی طبیعت پہ گر ا ں با ر گز ر ا کر تا ۔ پھر ان کا د ما غی خلل اس حد تک پہنچا کہ انہوں نے خود کو میاں شہباز شریف کی نسبت میاں نواز شریف کے لیے ز یادہ اہم محسوس کرنا شروع کردیا ۔ ا سی ز عم میں اپنی وزا رت کے دور میں اسحاق ڈار نے پا کستا ن کی معیشت کو جو نقصا ن پہنچا یا اس کے بر ے اثرا ت سے چھٹکا را حا صل کر نا اتنا آ سا ن نہ ہوگا۔ چہ جائے کہ میا ں نوا ز شر یف انہیں ایک با ر پھر اس ملک کی تقد یر پر نا ز ل کر ر ہے ہیں۔ ایک ایسا کمبل جس سے میا ں صا حب اب چھٹکا را حا صل کر سکتے تھے، نہیں کر رہے۔ ایک عا م شہر ی کے لیے بھی یہ ا ندا زہ مشکل نہیں کہ یہ کمبل میا ں صا حب کو بھی اپنے سا تھ لے کر ڈو ب سکتا ہے۔ابھی تو اپو ز یشن جما عتو ں کا ردِ عمل بھی سا منے نہیں آ یا۔ مگر یہ ضر و ر سا منے آ کر رہے گا۔ یوں یہ میا ں صا حب کے لیے ایک گھمبیر صو ر ت حا ل ہو گی۔ یو ں بھی ابھی تو یہ د یکھنا بھی با قی ہے کہ خو د مسلم لیگ ن کے ا ر کان کا اس پہ کیا رد ِعمل ہو تا ہے۔ سیا ست بذ ا تِ خو د ایک تغیر کا نا م ہے۔ چنا نچہ سینیٹ کے انتخا با ت کے مو جو دہ نتا ئج بھی سیاسی تغیر کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ سندھ اسمبلی میں جہاں ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد 50 ہے، اس کا صرف ایک سینیٹر منتخب ہوسکا۔ اس ناکامی کے پس منظر میں اگرچہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی طویل داستان ہے، لیکن سیاسی بے اصولی اور موقع پرستی جیسے رجحانات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ لہٰذا میاں نو ا ز شریف کے لیے ضر و ری ہے کہ ایم کیو ایم کی اس بڑی نا کا می کو سا منے ر کھتے ہو ئے اسحق ڈا ر کو بطو ر سینیٹر سامنے لا نے کے فیصلے پر ایک با ر پھر ٹھنڈے دِل سے غو ر فر ما ئیں۔ مشہو ر کہا وت ہے کہ ایک گند ی مچھلی پو ر ے تا لا ب کو گندا کر دیتی ہے۔ اب یہ میا ں صا حب پہ منحصر کہ انہیں گند ی مچھلی عز یز ہے یا پو ر ا تا لا ب۔


ای پیپر