چیئرمین نہیں میاں رضا ربانی کو نگران وزیر اعظم بنایا جائے
08 مارچ 2018 2018-03-08

میاں رضا ربانی جن کو پارلیمانی خدمات کے اعتراف میں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال پاکستان مل چکا ہے۔ انہوں نے بطور چیئرمین سینیٹ نہ صرف ایوان بالا کے وقار میں اضافہ کیا بلکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے بار بار درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرئہ اختیار میں رہیں۔ نواز شریف ہی نہیں دیگر جماعتیں بھی اس سے متفق ہیں۔ حقیقت میں سینیٹ کے انتخاب کی ضرورت اور اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کی 5 سالہ مدت پوری ہونے سے پہلے ایسے اقدامات کیے جائیں اور آئین میں ایسی ترمیم کی جائے جس سے اعلیٰ عدلیہ کو سول معاملات میں مداخلت کے اختیارات محدود کر دیے جائیں۔ اور نیب کے ادارے کے کردار کو ختم کر کے احتساب کا ایسا نظام لایا جائے جس سے انتقام کی بو نہ آئے۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے پہلے اس پر بھی غور ہونا چاہیے۔ میاں رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بحث میں الجھا کر متنازع نہ بنایا جائے بلکہ ان کے لیے مستقبل کا ایک اور عہدہ ہے۔ وہ عہدہ ہے نگران وزیر اعظم کا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کو کوئی بڑا فیصلہ کرنا چاہے کیونکہ جس پارٹی میں انہوں نے دہائیوں سے زیادہ وقت گزارا ہے اس جماعت میں پارٹی کے اس نظریہ کو مسلسل شکست ہو رہی ہے جس کا لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ بھٹو کا نظریہ زندہ رہے گا۔یہ رہے گا یا نہیں مگر یہ ضرور ہوگا اس جماعت پر خاندان کے چار افراد آصف زرداری، فریال تالپور، بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کا نام بلند رہے گا۔ آصف علی زرداری نے پارٹی کے بنیادی نظریے کی قربانی دے کر اسٹیبلشمنٹ کو اپنا دوست بنایا ہے۔ مستقبل میں اصل سوال تو اب یہی ہو گا کہ کسی نہ کسی طریقے سے مجھے کیوں نکالا کے مقبول نظریے کو روکا جائے اور اگر رضا ربانی جیسا شخص وزیراعظم بن گیا تو پھر دھاندلی کو روکنے کا کام آسان ہو جائے گا۔ میاں رضا ربانی کو جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے نگران وزیر اعظم کا عہدہ قبول کر لینا چاہیے۔ یہ قوم پر ایسا احسان ہو گا جسے جمہوریت سے محبت کرنے والے ہمیشہ یاد رکھیں گے اور تاریخ میں بھی ان کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
ایسے وقت میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب ہو رہے ہیں جب نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے خلاف چلنے والے مقدمات کو بوگس قرار دیا ہے۔ نوازشریف کو اس عہدے کے لیے سب سے زیادہ رضا ربانی پسند ہیں ، وجہ ان کا ماضی ہے۔ سینیٹر رضا ربانی 47 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سے ان کی نظریاتی وابستگی کا سلسلہ شروع ہوا ، سیاسی شعور میں ایوب خان کی جارحانہ حکومت کا مقابلہ کیا۔ پھر بھٹوکے پاس جا پہنچے۔ سالوں کی یہ رفاقت آگے بڑھی۔ اب اس سلسلہ کا انجام آن پہنچا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ زرداری سے کوسوں دور ہے مگر وہ پھر بھی پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔ اگر رضا ربانی پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے یہ عہدہ پانا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہیں ۔ مگر وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ قلا با زیاں کھاتی سیاست میں بھی رضا ربانی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پارٹی سے بے وفائی ان کی گھٹی میں شامل نہیں ہے۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے سب سے مضبوط آواز رضا ربانی کی ہی رہی ہے۔ انہوں نے 21 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ پارٹی کا حکم تھا شکستہ دل کے ساتھ پارٹی کے فیصلے کو قبول کر لیں۔
آخر میاں رضا ربانی سے جو خطا ہوئی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کا معاملہ یہ ہے گیند بلاول کے پاس ہے یا زرداری کے پاس۔ آصف علی زرداری کو اندازہ نہیں کہ تین سالوں میں میاں رضا ربانی نے ایوان بالا کی قدر میں کس قدر اضافہ کیا۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے انہوں نے جو کچھ کیا اور آگے جو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کا بیانیہ ہے۔ کسی اداروں کو اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ خاص طور پر انہوں نے چھ مارچ 2018 ء کو سینیٹ سے جو خطاب کیا اس سے سیاسی منظر نامہ ایسا تبدیل ہو گیا کہ 104 کے ایوان میں نواز شریف اور ان کے اتحادی 54 نشستوں کے دعوے دار ہیں۔ تمام نے بیک زبان ہو کر کہہ دیا ہے حکمران جماعت کے امیدوار میاں رضا ربانی ہیں۔ یہ بیانیہ اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ بظاہر تو یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے کہ اکثریت کے دعوے کے باوجود چیئرمین سینیٹ کا عہدہ رضا ربانی کو کیوں پیش کیا۔ یہ نواز شریف کی جانب سے انتہائی تیز رفتار بانسر ہے جس نے آصف علی زرداری کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کر دیا۔ آصف علی زرداری نے نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ وہ مانڈوی والا کو آگے لا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن اور زرداری کی ملاقات ناکام ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن زرداری کا ساتھ کیسے دیتے الٹا انہوں نے رضا ربانی کو چیئرمین قبول کرنے کی تجویز دے ڈالی۔ آصف علی زرداری کو تو اپنی پسند کے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ چاہیے تھا۔ اس کے لیے انہیں پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں مہروں کو آگے پیچھے بڑھانے کا کام جاری ہے۔ اس کھیل کے زرداری ہی نہیں بلکہ کپتان بھی حصہ ہیں۔ شیخ رشید نے تو معاملہ ہی واضح کر دیا کہ رضا ربانی نواز شریف کے امیدوار ہیں ۔
نواز شریف کا بیانیہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی صفوں میں بھی گھس گیا۔ اگر یقین نہ آئے تو پیپلز پارٹی سے طویل رفاقت رکھنے والے فرحت اللہ بابر نے بھی وہی باتیں دہرائیں جو نوازشریف نے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جی ٹی روڈ پر کی تھیں۔ فرحت اللہ کے نشانے پر محترم چیف جسٹس بھی آئے کیونکہ الزام جانبداری کا لگ گیا۔ فرحت اللہ بابر نے سینیٹ سے ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے خطاب میں کہہ ڈالا ہے اگر پارلیمنٹ کے ادارے بے توقیر کرنے کا عمل جاری رہا تو خدشہ ہے کہ 2018ء کے الیکشن تو سپریم کورٹ کے سوال پر ریفرنڈم نہ بن جائیں۔ یہ سوال تو نواز شریف کا بیا نیہ ہے۔ فرحت اللہ بابر نے اپنے خطاب کے بعد آصف زرداری کے ترجمان کا عہدہ بھی چھوڑ دیا۔ مگر ان سے بڑھ کر تو رضا ربانی گرجے اور برسے اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہوں نے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے پر بھی بات کی۔ اپنی تقریرمیں سب سے اہم بات یہ کی کہ تما م اداروں کا اپنی حدودمیں رہ کر کام کرنا ملک کے مفاد میں ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ملکی اداروں میں تصادم ہو گا۔
مگر حقیقت یہ ہے رضا ربانی صبر والا آدمی ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لیے اب مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے اتحاد نے رضا ربانی پر پیپلز پارٹی کے انکار کے بعد 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی رپورٹ دے دی ہے۔ اب جبکہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں پلڑا حکمران جماعت کی طرف پلٹ رہا ہے۔ زرداری کا یہ دعویٰ کہ چیئرمین پی پی پی کا ہو گا اور وہ مانڈوی والا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اس آپشن کو قبول نہیں کرے گی۔ نواز شریف کے امیدوار کا مقابلہ کر نے کے لیے قابل قبول امیدوار ہو گا تبھی تو پی ٹی آئی اس پر متفق ہو گی ۔پی ٹی آئی ایوان کی تیسری بڑی جماعت ہے جس کا مطلب ہے اس کے پاس 104 میں سے 12 سینیٹرز ہیں۔ اگر یہ امیدوار لاتی ہے تو بھی نواز شریف کا امیدوار آسانی سے جیت جائے گا۔ اگر پی ٹی آئی بائیکاٹ بھی کرے گی تو بھی فائدہ نواز کے امیدوار کو ہو گا۔ اگر آصف زرداری سے مل کر امیدوار کو میدان میں اتارا جاتا ہے تو آصف زرداری کو گولیاں دینے والے کپتان کا کردار کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق ، ایاز صادق، سید مشاہد حسین شاہ اور مشاہد اللہ پر مشتمل چار رکنی کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ آسانی سے چیئرمین کا انتخاب جیت جائے گی، اس کے باوجود نواز شریف رضا ربانی کے آپشن کو پہلا نمبردیں گے کیونکہ پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام جماعتیں رضا ربانی پر متفق ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا منظر پہلے نہیں دیکھا گیا کہ اکثریت رکھنے والی جماعت ایسا مظاہرہ کرے۔ ایک طرف مسلم لیگ سیاسی میدان میں اپنے ہونے کا ثبوت دے رہی ہے دوسری جانب چیف جسٹس از خود نوٹس کے نام سے جو حکم جاری کر رہے ہیں اس سے تاثریہ ابھرتا ہے کہ نشانہ ایک جماعت ہے۔ اب تو اسحاق ڈار بھی بول اٹھے ہیں کہ نظام گرانے کی سازش ہو رہی ہے مگر قوم کے بابا رحمت کی بات مان لینی چاہیے کہ وہ اس میں شامل نہیں ۔


ای پیپر