دنیا میں بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی اور مسلمان
08 مارچ 2018

جرمن حکومت کے مطابق سال 2017ء میں جرمنی میں مسلمانوں پر 950کے قریب حملے ہوئے۔جن میں 60 کے قریب حملے مساجد اور دیگر اسلامی سنٹرز پر ہوئے۔خواتین کوحجاب پہننے پر بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔چنانچہ ان حملوں میں34کے قریب مسلمان زخمی ہوئے،جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔جرمنی کی کل آبادی 82ملین سے زائد ہے۔جن میں 47لاکھ کے قریب مسلمانوں کے ساتھ جرمنی فرانس کے بعد مغربی یورپ کا دوسرابڑا ملک ہے۔جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں میں30لاکھ کے لگ بھگ مسلمان ترک نڑاد ہیں۔شامی خانہ جنگی کے بعد جرمنی سمیت یورپ میں بسنے والے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزرویوں میں اضافہ ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداریورپی ممالک شامی مہاجرین کو پناہ نہیں دے رہے اور مسلم نسل کشی اور اسلام فوبیا میں انسانی اقدار تک کو بھول گئے ہیں۔
جرمنی کی طرح یہی حال سپین کا ہے۔جہاںسال 2017ء میں 546کے قریب اسلام فوبیا کے کیس ریکارڈ ہوئے۔جن میں386 کیس میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعیاسلام اور مسلمانوں کے بارے نفرت انگیز پھیلانے کی صورت سامنے آئے۔ان واقعات میں 21فیصد سپین میں بسنے والی مسلم خواتین اور چار فیصد مسلم بچوں اور مساجد کے متعلق واقعات ریکارڈ ہوئے۔جرمنی اور سپین کے بعد یہی صورت حال برطانیہ، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، نیدرلینڈ جیسے دیگر یورپی ممالک کا ہے۔جہاں پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈر عوام کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑھکا کر ووٹ کے لیے کمپین چلارہے ہیں۔میڈیا کے ذریعے سرعام مسلمانوں کے خلاف عوامی جذبات کو بڑھکایا جارہاہے۔یہی وجہ ہے کہ نسل پرستی اور نفرت انگیز رویوں کے خلاف کام کرنے والے یورپی کمیشن ECRIنے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ نسل پرستی اور نفرت انگیز تقریروں کو سیاست اور میڈیا کے ذریعے یورپ میں خوب پروان چڑھایا جارہاہے۔جس کے بعد بریگزٹ تحریک مقبول ہورہی ہے۔
یادر ہے یورپ میں حالیہ اسلام دشمنی کی لہر2015ء سے بڑھنا شروع ہوئی ۔چنانچہ پہلی باریورپی ملک جمہوریہ چیک کے صدر اورسابق انگلش ڈیفنس لیگ کے رہنما نے یورپ میں اسلام دشمنی میں تقریریں کیں۔بعدازاں جرمنی میں پَگِیڈا (PEgida)نامی اسلام دشمن تحریک چلائی گئی۔یورپی ملک سلواکیہ کیوزیراعظم نے یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ یورپ میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر
پابندی لگائے۔ اسلام دشمنی میں بڑھ چڑھ کر حصے لینے پر ہنگریہ کے وزیراعظم اربن کو یورپ میں ہیرو قرار دیا گیا۔بعدازاں 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اسلام دشمنی کا کھل کر اظہار کیااور صدر منتخب ہونے کے بعد باقاعدہ اسلام کو دہشت گردانہ مذہب قراردیا اور بعض اسلامی ملکوں کے امریکا داخلے پر پابندی لگائی۔تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے اب سری لنکا میں مسلم کش فسادات کو بڑھکایا جارہاہے۔چنانچہ اب تک 4 کے قریب مسلمان ان فسادات میں شہید کیے جاچکے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔ 100سے زائد مسلمانوں کے گھر تباہ کیے جاچکے ہیں۔13کے قریب مساجد کو نذرآتش کردیا گیاہے۔کئی مسلمان خوف وہراس کی وجہ سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔سری لنکن حکومت نے100کے قریب شرپسندوں کو گرفتار کرکے پورے ملک میں دس روزہ ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
ان واقعات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یورپ ،امریکا اور انڈیا سمیت دنیا بھر میں کس طرح ایک منظم منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تحریکیں چلائی جارہی ہیں۔جس کا بنیادی ہدف اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں کمزور کرنا ہے۔بدقسمتی سے اسلامی ممالک کے بعض مفاد پرست حکمران بھی غیروں کا آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔چنانچہ ریڈیکل اسلام جیسی اسلام دشمنوں کی اصطلاحات اور افکار کو نہ صرف یہ مفاد پرست حکمران بلکہ بعض نام نہاد امت مسلمہ کے خیرخواہ بھی قبول کرچکے ہیں۔ایک طرف دنیا میں امن کے نام نہاد ٹھیکداروں نے دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا تو دوسری طرف یہی بے حس مفاد پرست حکمران ہیں جو آج بھی اپنے ہاں سے اسلام اور اسلام پسندوں کو دہشت گردی سے جوڑ کر خود کو بڑا سیکولراور لبرل کہلاوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔امت مسلمہ کے ان حکمرانوں اور دانشوروں کی منافقت ہی کی وجہ سے آج پوری دنیا میں دہشت گردی کے نام پرصرف امت مسلمہ کا خون بہایا جا رہاہے۔چنانچہ شام سے لے کر یمن تک،افغانستان سے لے کر عراق تک،برما اورسری لنکاسے لے کر فلسطین تک ہرجگہ مظلوم مسلمان انہی مفاد پرستوں کی منافقت کا شکارہیں۔او آئی سی جیسی اسلامی دنیا کی نمائندہ تنظیم بھی سوائے سالانہ میٹنگیں کرنے اور سالانہ نمائندہ ملکوں سے فیسیں وصول کرنے کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کرسکی۔اوآئی سی کی بے حسی کا اندازہ شامی شہر غوطہ میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری مظالم پر افسوس ناک خاموشی سے اچھی طرح لگایا جاسکتاہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ امت مسلمہ کے نام نہاد حکمران قاتلوں اور ظالموں کو اپنا ہمنوا ور ہم خیال بنائے بیٹھے ہیں۔جس کا اندازہ امریکا ،برطانیہ کے ساتھ ان کے گہرے مراسم کے ساتھ لگایا جاسکتاہے کہ کس طرح یہ اپنے مفادات اور اقتدار کے لیے ان کی خدمات لیتے ہیں،مگر امت مسلمہ کے مظلوموں پر ان کے ظلم کو رکوانے کے لیے لب تک نہیں کھولتے۔حالاں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے سروردوعالم صلی اللہ علیہ نے واضح کردیا تھاکہ کافر ملت واحد ہیں۔یہ جہاں بھی ہوں گے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہوں گے۔چنانچہ آج بھارت جیسے دنیا کے دوسرے بڑے جمہوری ملک میں بھی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا رویہ برتاجارہاہے۔اس مسلم دشمنی میں ہندوں کے ساتھ دنیا بھر کے یہود ونصاری ہم خیال نظر آتے ہیں۔مسلم دشمنی کی دوسری بڑی مثال برما کے مظلوم مسلمان ہیں،جن پر بدھ مت ظلم ڈھاتے ہیں،مگر اسلام کے ماسوا دیگر ادیان کے پیروکاروں کی طرف سے لفظی مذمت کے سوا کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔عالم کفر کے اسلام اور مسلم دشمنی میں باہمی اتحاد کی تیسری بڑی مثال فلسطین اور القدس ہے۔کہ کیسے پوری دنیا کے کافر امریکا کے بیت المقدس سفارت خانہ منتقل کرنے پر متفق ہوگئے۔کتنی غیرت کی بات ہے کہ آج دنیا میں ہرجگہ مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے۔ظلم کرنے والے سارے کافر مسلمانوں کے خلاف باہم متحد ہیں۔مگر ایک مسلمان ہیں جو آج بھی باہمی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے پاکستان سمیت عالم اسلام کے مسلمان بیدار ہوجائیں اور مفاد اور خواب غفلت کے شکار اپنے حکمرانوں کو جگائیں کہ وہ دنیا بھر میں اسلا م اور مسلمان دشمنی کا نوٹس لیں۔اگر یہ بے ضمیر حکمران نہیں جاگتے تو مسلم عوام کو ہر اُس طریقے سے ان بے حس حکمرانوں کو جگانے کی کوشش کرنی چاہیے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں۔کیوں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں،اگر جسم کے کسی ایک حصے میں درد ہو توپورا جسم تکلیف محسوس کرتاہے۔پھر کیوں نہ دنیا بھر کے مسلمان متحد ہو کر شام، عراق، افغانستان، یمن، کشمیر فلسطین ،سری لنکا اور برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا الم محسوس کریں؟اس لیے یہ ہرمسلمان کا بنیادی فرض ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے ہرممکن مدد کی کوشش کرے۔


ای پیپر