ڈر والی شے اور نواز شریف
08 مارچ 2018 2018-03-08

حضرت بابا گورو نانک کا ایک مضطرب چیلا کہنے لگا بابا جی ڈر بہت لگتا ہے۔ بابا جی نے اُس سے کہا کہ ڈر والی شے پھینک دو ڈر جاتا رہے گا ۔ دراصل اُس چیلے کو ’’لعل‘‘ اصل ہیرا کہیں سے مل گیا تھا اور وہ ڈرتا تھا کہ کہیں کوئی یہ ہیرا چھین نہ لے۔ اُس نے بابا جی سے تین مرتبہ یہی سوال کیا کہ ڈر بہت لگتا ہے کیا کروں۔ اس کا خیال تھا کہ بابا جی کوئی ریاضت بتائیں گے۔ دعا دیں گے ۔ ڈر بھی جاتا رہے گا اور ہیرا بھی بچ جائے گا مگر بابا جی نے یہی جواب دیا کہ ( ڈر والی شے سُٹ دے) یعنی ڈر والی چیز پھینک دد۔ ایک دن چیلے کے چہرے کا اطمینان دیکھ کر بابا جی نے پوچھا سناؤ اب سکون ہے، ڈر والی چیز پھینک دی ہے؟ اس نے کہا بابا جی سکون میں ہوں میں نے ڈر والی چیز پھینک دی ہے کیونکہ وہ اس ہیرا کو جنگل میں کسی نامعلوم جگہ پر دبا آیا تھا کہ خود بھی بھول جائے اور خود ڈر سے آزاد ہو گیا۔
درحقیقت وطن عزیز کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ ہم سب کے پاس کوئی نہ کوئی ڈر والی چیز ہے خصوصاً بغیر کسی میرٹ اور محنت کے سٹیک ہولڈرز یا حکمران طبقہ کے ہاتھ میں ہے اور اس خوف سے کہ کہیں چھن نہ جائے، دبکے رہتے ہیں اور جائز ناجائز کام کرتے ہیں ۔ جس نے بھی ڈر والی چیز پھینک دی وہ دراصل اپنے اندر کے خوف سے آزاد ہو گیا اور اندر کا خوف ختم ہو جائے تو پھر بندہ کوکسی کاخوف نہیں رہتا۔ شیخ مجیب الرحمن نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا ’’سیاست اقتدار کا زینہ ہے‘‘۔ اس زینے میں جو کھڑا ہوا وہ اقتدار کی کوئی نہ کوئی منزل ضرور پا گیا چاہے کونسلر ہی کیوں نہ مگر جن کی سیاسی تربیت ہو سیاست میں ان کا نظریہ حصول اقتدار کے حوالے سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے البتہ اقتدار کی سیاست کرنے والے میاں نواز شریف (جیسے ماضی میں تھے) چوہدری برادران ، شیخ رشید اینڈ کمپنی کئی نام ہیں جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں اُس کے مطابق اقتدار چاہیے ہر قیمت پر مگر سیاسی تربیت یافتہ کچھ محترمہ بینظیر بھٹو کے اس بیان جو چند حروف پر مبنی ہے پر عمل کرتے ہیں کہ ’’ہمیں اقتدار چاہیے مگر ہر قیمت پر نہیں ‘‘یہ والا رویہ سیاست میں انسانوں کو ممتاز کرتا ہے۔ مگر میاں صاحب کا رویہ تو رہا ہے کہ ہمیں اقتدار چاہیے ہر قیمت پرسیاست، صحافت، مذہب، معاشرت میں کوئی بھی کردار ایسا نہیں ہے جو تلف ہو جائے اس کردار پر کوئی نہ کوئی ضرور آ کر اس کی جگہ پر کرتا ہے ہمارے ہاں میاں نواز شریف جو کبھی ایجنسیوں کا فخر تھے، آج الحمد للہ سمجھتے ہیں کہ وہ اداروں کا ہدف ہیں۔ میرے
خیال سے اب میاں صاحب کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے اور انہوں نے ڈر والی شے بھی پھینک دی ہے اب اقتدار کو بالائے طاق رکھ کر سیاست کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لمحۂ موجود میں میاں صاحب مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں ۔ کوئی کہتا ہے انہوں نے خود کش جیکٹ پہن لی ہے کہ کوئی آئے اور ان سے جپھہ ڈال لے ، کوئی کچھ اور کوئی کچھ، کوئی جاتی امراء کو ’جائے عبرت‘ لکھتا ہے جبکہ میں جاتی امراء کو جائے پناہ سمجھتا ہوں۔ میاں محمد نواز شریف پہلی بار جب اپنا ذاتی ووٹ بینک بنانے اور عوامی نمائندہ بننے میں کامیاب ہوئے تھے جب انہوں نے غلام اسحق خان کے خلاف تقریر تھی۔ اُس تقریر نے میاں کو ملک میں دوسرے نمبر کا لیڈر بنا دیا۔ چونکہ محترمہ موجود نہیں رہیں اُن کی جگہ پنجاب میں عمران خان کو موقع دیا گیا مگر وہ آج پنجاب میں دوسرے نمبر کے طور پر تو گنے جا سکتے ہیں مگر بی بی کا مقام شاید کوئی سیاستدان حاصل ہی نہ کر پائے گویا آج نواز شریف کا بیانیہ اُن کے لیے سیاسی قدو قامت میں اضافے کا سبب ہے اور اتنا خوفناک بیانیہ، اتنا انقلابی بیانیہ صرف اس صورت میں ہی اپنایا جا سکتا ہے جب ڈر والی شے پھینک دی جائے اور نواز شریف کے ہاں ڈر والی شے اقتدار تھا، سو وہ فی الحال دفنا دیا گیا۔ یا آگے شہباز شریف کے درخنوں میں دبا دیا۔ یہی ہے کہ شہباز شریف کے پاس ابھی ڈر والی شے ہے جبکہ میاں صاحب بے نیاز ہو چکے ہیں۔ اب انہیں ڈر نہیں تو حق حکمرانی، ووٹ کی قدر، عدل کی دستیابی، اداروں کا حدود میں رہنا سب کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے کو چوتھی بار کی ضرورت بھی نہیں لہٰذا وہ اتفاق خاندان کے اتفاق کے بوجھ سے بھی اپنے آپ کو آزاد کر دیں گے یا کر چکے ہیں۔ سیاست میں اپنی بیٹی کے مستقبل کا انحصار وہ اپنی ساکھ پر اور نئے بیانیے کی کامیابی پر کریں گے۔ اتفاق خاندان کے اتفاق اور نہ ہی ذاتی اقتدار کا بوجھ اُن کے کندھوں پر ہے ۔ اب وہ ایک آزاد بے خوف سیاستدان ہیں ایسی داخلی کیفیت کسی دوسرے سیاست دان کی نہیں۔ اُنہیں اپنے مخالفین میں عمران خان کی طرف سے خوف ضرور تھا کہ وہ بی بی کا مقام حاصل کر کے کہیں میاں صاحب کو 1985ء والا میاں صاحب نہ بنا دے مگر میرے خیال میں خود عمران خان 1988ء والا نواز شریف بن چکے ہیں اور پے در پے سیاسی، اخلاقی، سماجی غلطیوں کے بعد اور اس پر اپنے گرد جمع ہونے والے کرداروں کے ساتھ وہ پی پی تو کیا میاں نواز شریف 1988ء والے کے مقام کو ہی حاصل کر پا ئیں تو بڑی بات ہو گی۔ لہٰذا آج چلتے لمحے میں میاں نواز شریف میرے خیال میں ڈر والی شے پھینکنے کے بعد اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر نئے عمرانی معاہدے کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں یہ میری رائے ہے حالانکہ میں نے ہمیشہ نواز شریف کی سیاست کے ساتھ اختلاف رکھا ہے مگر رواں لمحے میاں صاحب ڈر والی شے پھینک دینے کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز حتیٰ کہ نون لیگ کے لیے بھی مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ٹی وی کے ٹاک شوز میں صحافت کے بڑے بڑے سرخیل اداروں، ریاست اور حقائق کا بڑا راگ الاپ رہے ہیں وہ اپنے تجزیے کرتے وقت مکافات عمل سے بھری ہوئی پاکستانی سیاسی تاریخ بھول جاتے ہیں۔ اُن کے پاس ڈر والی شے ہے یا پھر جانبدار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنے کے بعد ضیاء الحق نے جو کوڑوں، جیلوں ، قلعوں کا جمعہ بازار لگایا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور محفوظ تاریخ میں مع لشکر غرق ہوا، خود میاں نواز شریف کو مکافات عمل کا سامنا ہے، مگر طاقتور حلقے بھول گئے مولوی مشتاق سمیت دیگر اکابرین عدل کا انجام، حال ہی کی بات ہے۔ پرویز مشرف کہتا تھا میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں۔ کہاں گیا اس کے دور میں نواز شریف ملک بدر تھا۔ آج وہ پاکستان نہیں آ پا رہا۔ آرمی چیف رہا۔ نو سال اقتدار میں رہا ، 36 سال فوجی وردی پہنی مگر کیا ہوا دراصل ایک طاقت اوپر بھی ہے جو نواز شریف کیمپ سے مریم کے لیے کہلواتی ہے کہ یہ بینظیر ہے۔ اللہ اللہ جس کو ساری زندگی برا بھلا کہا شیخ رشید کو بولنے کے لیے چھوڑا آج اپنی بیٹی کے لیے لوگوں سے بیان دلوائے کہ یہ بینظیر ہے گویا خود بھٹو ہیں۔ ایسا ہے تو نہیں مگر کردار تو باقی رہتے ہیں۔ نواز شریف اپنا بیانیہ مکمل کریں جب کہتے ہیں پانچ بندوں نے مجھے فارغ کیا تو ساتھ یہ بھی کہیں کہ پانچ بندوں اور بعد میں سپریم کورٹ میں چار نے بھٹو کو پھانسی دی۔ اداروں کا راگ الاپنے والے۔ پارلیمنٹ کو ادارہ کیوں نہیں مانتے۔ نواز شریف کو نظریاتی جمہوریت قبول کرنے کے لیے زمانہ جاہلیت کی تردید ہی نہیں مذمت بھی کرنا ہو گی۔ تب جا کر ڈر والی شے پھینکنے کے خوف سے مکمل آزاد ہوں گے۔ آخری طاقت رب کی ہے کوئی ادارہ کوئی شخصیت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ البتہ جس نے کبھی ہماری معاشرت میں ڈر والی شے پھینک دی وہ منزل پا گیا۔ مگر ایک بات کہوں؟ وطن عزیز آئین نہیں سکرپٹ کے مطابق چلتا ہے اور کبھی لڈو کا کھیل دکھائی دیتا ہے۔


ای پیپر