خواتین کا عالمی دن ،کشمیر و شام لہو لہو
08 مارچ 2018 2018-03-08

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز خواتین کا عالمی دن منایا گیا اور اس مناسبت سے بین الاقوامی این جی اوز کی طرف سے جگہ جگہ سیمینارز کا انعقادکرتے ہوئے خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں وہ کسی مذہب اور معاشرے نے نہیں دیے لیکن اس حوالہ سے کام کرنے والی این جی اوز درحقیقت عورت کی آزادی کے نام پر ان کا استحصال کر رہی ہیں اور انہیں معاشرے میں چلتا پھرتا اشتہار بناکر مغربی ایجنڈے پورے کرنا چاہتی ہیں وگرنہ ایسی این جی اوز اور ان کی پروردہ خواتین کی طرف سے کبھی کشمیر، برما، شام ، فلسطین اور دیگر خطوں میںبنت حوا پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کیخلاف کبھی کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔کشمیر کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھامگردشمن نے ہماری شہ رگ پر قبضہ کر رکھا ہے اور نہتے مسلمانوں سے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے لیکن ہمارے حکمران اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی شہ رگ کودشمن کے حوالے کرنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں اور مظلوم کشمیریوں کی مدد کی بجائے اپنا اقتدار بچانے کیلئے ہاتھ پائوں مار نے میں مصروف ہیں۔انہیں اپنے ذاتی مفادات کی تو فکر ہیں لیکن ملکی سلامتی و استحکام اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔ حال ہی میں ملک میں سینٹ انتخابات کے نام پر جس طرح کرپشن کا بازار گرم کیا گیا اور بدترین ہار س ٹریڈنگ کی گئی کہ اس پرپوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی
ہوئی ہے۔ کشمیر کی بات چل رہی تھی تواس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہاں ہزاروں خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر زبردستی گھروں سے اغواء کر لئے گئے اور وہ طویل عرصہ سے نیم بیوائوں کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے خاوندوں کا کسی کو معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ اسی طرح کمزور اور بوڑھی مائیں اپنے دروازوں کو کھلا رکھتے ہوئے اپنے بیٹوں کی راہ تکنے پر مجبور ہیں لیکن کوئی انہیں دلاسہ دینے والا نہیں ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد ایک سال کے عرصہ میں کتنی ہی معصوم بچیاں اور خواتین ایسی ہیں جنہوں پیلٹ گن کے چھروں کا نشانہ بنا کر ان کی آنکھوں کی بینائی چھین لی گئی مگر افسوس کہ یہ این جی اوز جن کا مقصد ہی عورتوں کو گھروں سے نکال کر بازار کی زینت بنانا ہے‘ غاصب ہندوستانی فورسز کے ظلم و بربریت پر قطعی طور پر زبان کھولنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھارت سرکار کی ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب نہتے کشمیریوں کا خون نہ بہا یا جاتا ہو۔ ابھی دو دن قبل ہی شوپیاں میں چھ بے گناہ کشمیریوں کوفرضی جھڑپ میں شہید کر دیا گیاحالانکہ شہید ہونے والے نوجوانوں کا عسکریت پسندی سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ بھارتی فوج نے پہلے اس علاقہ میں کشمیری مجاہدین کی موجودگی کا دعویٰ کیا اور پھر پورے علاقہ کو محاصرے میں لیکر سرچ آپریشن کا آغاز کیا توشدید فائرنگ کرتے ہوئے چھ نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ ہندوستانی فوج کی یہ پرانی روش ہے کہ وہ جسے چاہتی ہے مجاہد قرار دیکر شہید کرتی ہے اور پھر دعویٰ کر دیا جاتا ہے کہ انہیں بھارتی فوج پر فائرنگ کے بعد نشانہ بنایاگیا ہے۔ ایک عام بھارتی فوجی سے لیکر اعلیٰ افسران تک سبھی ترقیاں اور تمغے حاصل کرنے کیلئے ایسی وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ فرضی جھڑپوں کا معاملہ بے نقاب ہوا ہے لیکن آج تک کسی بھارتی فوجی کو سزا نہیں دی گئی۔
شوپیاں میں قتل عام کیخلاف پورے کشمیر میں اس وقت زبردست احتجاج اور ہڑتالیں کی جارہی ہیں ۔ حریت کانفرنس کے مرکزی قائدین نے ایک دن قبل شوپیاں چلو کی کال دی تو بھارتی فورسز نے پوری کشمیری قیادت کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا جبکہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو گرفتار کر کے سری نگر کی سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی او رمیر واعظ عمر فاروق نے نظربندی توڑ کر اپنی رہائش گاہوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو انہیں زبردستی واپس بھیج دیا گیا اور شوپیاں جاکر شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارتی فوج اور سی آر پی ایف نے اس وقت غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر کے پورے کشمیر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ لوگوں کو نمازوں کی ادائیگی تک کی اجازت نہیں دی جارہی۔اسی طرح بھارتی فوج کشمیریوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنے اور تحریک آزادی میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے نیا ڈرامہ رچا رہی ہے۔ بھارتی فورسز اور ایجنسیوںنے الزام لگایا کہ سری نگر کی سینٹرل جیل عسکریت پسندوں کی بھرتی کا مرکز بن چکی ہے اور جہادی تحریکوں سے وابستہ سرکردہ کمانڈر یہاں بیٹھ کر تحریک کو منظم کر رہے ہیں۔ میڈیا میں یہ جھوٹی رپورٹ شائع کر کے دختران ملت مقبوضہ کشمیر کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر اور مسلم دینی محاذ کے صدر ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی اور مشتاق زرگر کے بھتیجے عادل زرگر سمیت کئی کشمیری قیدیوں کو جموں کی مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے جہاں ان کے ساتھ نارواسلوک رکھا جارہا ہے۔ کشمیری قیدیوں کو وادی کشمیر سے باہر منتقل کرنے پر مقامی کشمیریوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ ان کی زندگیوں کے تحفظ کے حوالہ سے کئی طرح کے خدشات سے دوچار ہو چکے ہیں کیونکہ ابھی چند دن قبل ہی بھارتی فورسز نے ایک کشمیری نوجوان کو گرنیڈ پھینک کر شہید کیا اورپھر دعویٰ کر دیا گیا کہ وہ پولیس تھانہ پر اپنے ساتھیوںکے حملہ میں شہید ہوا ہے۔اس صورتحال پر بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے بھی کشمیری لیڈروں کے قتل کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ بہرحال کشمیر میں ظلم و دہشت گردی پورے عروج پر ہے۔ بھارت سرکار دنیا کو دکھانے کیلئے کشمیر میں امن وامان کی بحالی کا ڈھنڈورا پیٹتی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کشمیری قائدین کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں تاکہ وہ تحریک آزادی کی قیادت نہ کر سکیں اور کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی سے بین الاقوامی دنیا کو آگاہ نہ کیا جاسکے۔ اس وقت کشمیر میں جس طرح دہشت گردی اور ظلم و بربریت عروج پر ہے وہی صورتحال شام میں نظر آتی ہے۔ بشار الاسد نے اپنی حکومت برقرار رکھنے کیلئے پورے ملک کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں معصوم بچوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ میڈیا میں ننھے معصوم بچوں اور بچیوں کی ایسی خون آلود تصاویر شائع ہو رہی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ کو خاص طو رپر بمباری کانشانہ بنایا گیا اور سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ سلامتی کونسل نے ایک ماہ کیلئے جنگ بندی کی قرارداد منظور کی لیکن اس پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا اور کشمیر کی طرح شام بھی لہو لہو دکھائی دیتا ہے۔ شامی حکومت روس اور دیگر قوتوں سے مل کر پورے ملک کا نام و نشان مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ مشرقی غوطہ میں اس قدر بمباری کی گئی ہے کہ لاشوں کو دفنانے کیلئے امدادی رضاکار ملنا محال ہے۔ گھروں میں موجود بچوں و عورتوں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پوری دنیا ملبہ کے ڈھیروں تلے دبی ہوئی لاشوں اور زخمیوں کو دیکھ رہی ہے لیکن کوئی ملک شام کی بربادی روکنے میں مضبوط کردار ادا نہیں کر رہا۔ اس سے قبل بھی شہروں کے شہر بمباری سے ملیامیٹ کر دیے گئے۔ انفراسٹرکچر تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو چکاہے۔ لوگوں کے رہنے کیلئے جگہ نہیں رہی۔ بین الاقوامی دنیا شامی شہریوں کو بچانے میں ناکام ہے اور
اس حوالہ سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔اس سلسلہ میںاقوام متحدہ کی زیر نگرانی امن معاہدہ بھی کیا گیا تھالیکن بشار حکومت ان امن معاہدوں اور قراردادوں کو پائوں تلے رو ند رہی ہے۔ روزانہ شہری علاقوں پر بمباری کر کے نہتے شامی مسلمانوں کو شہید کیا جارہا ہے مگر عالمی طاقتیں مصلحت پسندی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں جس طرح شام میں خواتین اور بچوں کی قتل وغارت گری کا بازار گرم کیا گیا چاہیے تو یہ تھا کہ انصاف پسند دنیا شام کی ہٹ دھرم حکومت کا ہاتھ روکتی اور روس کو بمباری سے باز رکھا جاتامگر چو نکہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے اس لئے ایسا نہیں کیا گیااور کھلی آنکھوں سے نہتے مسلمانوں کا خون بہتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اور سعودی عرب قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے دوسرے اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کرکشمیر اور شام میں ظلم و دہشت گردی ختم کروائیں تاکہ مظلوم مسلمان آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔اس کیلئے مسلمان ملکوں کو باہم متحدہو کر جرأتمندانہ پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گے۔ باہمی اتحادویکجہتی کے بغیر اسلام دشمن قوتوں کی جارحیت اور سازشوں پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر