ووٹ کا تقدس …ووٹرکا مقدر
08 مارچ 2018

ووٹ کے تقدس کی جنگ میں مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیر اعظم نوازشریف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور ووٹ کی قوت و طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے باور کروارہے ہیں کہ 21 کروڑ عوام کے ووٹوں کی قوت سے پاکستان کا منتخب وزیر اعظم عدلیہ نے اسے نہ صرف وزارت عظمیٰ کی مسند سے باہر کر دیا ہے بلکہ مسلم لیگ کی صدارت سے بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے رد عمل میں نواز شریف عدل کی بحالی اور ووٹ کے تقدس کی پامالی پر غیض و غضب کا نشان بنے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیںہے کہ ووٹ کا تقدس بہت ہی زیادہ ہے۔ میاں صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جتنا ظلم کرو گے عوام اتنا ہی مسلم لیگ ن کا ساتھ دیں گے کیونکہ 20 کروڑ شہری بھیڑ بکریاں نہیں جن کے ووٹ سے منتخب وزیر اعظم کو چار پانچ لوگ پارلیمنٹ سے بے دخل کردیں ۔انہوں نے کہا کہ سکھا شاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ضروری ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ کا تقدس تو میاں صاحب کو یاد رہا مگر ووٹر کے مقدر کا فیصلہ کون کرے گا ۔ کیا اس کی یہی حالت رہے گی اس کے لئے روٹی کپڑا اور مکان کے نعروں پر ووٹ لینے والے اب اس دنیا میں نہیں ہیں مگر عوام اپنے حقوق کے حصول کے لئے اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ دیتی ہے او رپھر ووٹ لینے والے آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں انہیں چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈنے والے انہیں نہیں پاسکتے۔ کاش میاں صاحب ووٹ کے تقدس کے ساتھ ووٹر کے مقدر کی بھی بات کرتے ۔ عوام کی خوشحالی کے وعدے کرنے والے خود خوشحال ہوگئے مگر ووٹر کے حالات ابھی نہیں بدلے آج بھی بے نظیروں کے پائوں ننگے ہیں اور شریف زادوں کی اولادیں اچھے سکولوں میں داخلے سے محروم ہیں ۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ اس وقت میاں صاحب کا احتجاج عوام کے حالات سے ناواقفیت ہے ۔ اس وقت مہنگائی آسمان کی بلندیوں کو چھورہی ہے اور میاں صاحب 20 کروڑ عوام کے ووٹ کے تقدس کی بحالی کی بات کر رہے ہیں۔ رائے قیمتی ہے مگر رعایا کی بد حالی کی پرواہ نہیں ہے اس وقت میاں صاحب کا غصہ عدلیہ پر ہے اور عدل کی بحالی کی بھی تحریک چلا رہے ہیں ۔ یہ ساری باتیں منطق اور دلیل کے منافی ہیں۔ ایسی جنگیں عدلیہ کے کٹہر ے میں لڑی جاتی ہیں یا انتخاب کے دنوں میں ووٹرں کے دروازوں پر جا کر ووٹ کی بھیک مانگنے سے بھی بہت ساری بلائیں جو آسمان سے آرہی ہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں کوئی نذ ر ونیاز بھی اتاری جاسکتی ہے مگر یہ اسلوب جو اس دفعہ میاں صاحب نے اپنی وزارت عظمیٰ کی تیسری بار فراغت کے حوالے سے ایجاد کیا ہے یہ انوکھا بھی ہے اور غو ر طلب بھی۔ میرا روئے سخن صرف میاں نواز شریف کی طر ف نہیں ہے اس نظام میں سارے سیاستدانوں کا یہی حال ہے ۔ اربوں روپے سیاست میں لگانے والے کھربوں نہ کمائیں تو اُن کی سیاسی تجارت کا دیوالیہ ہوجائے گا اس لئے وہ سوچ سمجھ کر ہی تو اس بازار سے خریداری کرتے ہیں جہاں ایک روپے کے 100 بنتے ہیں۔ پانامہ سکینڈل میں15 کمپنیوں کے مالک ذوالفقار بخاری نواز شریف و دیگر کے خلاف تین ضمنی ریفرنس چوہدری شوگر ملز کے مالکان انتظامیہ پاکستان سٹیل ملز عثمان سیف اللہ، انور سیف اللہ، سلیم سیف اللہ اور وزیر اعلیٰ کے پی کے کے خلاف انکوائری کی منظوری نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں دی گئی ہے اب انکوائریوں کا پنڈورا بکس کھل گیا ہے ۔ اس میں پتہ چلے گا کہ مجھے کیوں نکالا گیا۔ آج سڑکوں پر آکر آپ 21 کروڑ عوام کی بھلائی کے لئے نہیں آئے ہیں اپنا رونا رو رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ میاں صاحب آپ کے ایم این اے اور ایم پی اے بھی اپنے ووٹروں کو شکل نہیں دکھاتے جس ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لئے آپ شور مچا رہے ہیں کاش آپ رعایا کی سہولت کے لئے سڑکوں پر آتے اور احتجاج کرتے کس کے خلاف اپنی ہی حکومت کے خلاف اس وقت وزیر اعظم آپ کا ورکر ہے جو آپ سے ملنے کے لیے جاتی عمرہ خود آتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب آپ کا برادر اصغر ہے ا س لئے آ پ کا احتجاج جو آپ ریکارڈ کروا رہے ہیں موجودہ نظام کے استحکام کو مزید استحکام عطا کرتا ہے۔ آپ عدلیہ کے خلاف بغاوت کا علم بلند نہ کریں آپ موجودہ فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ گوالمنڈی کے چوک میں مریم نواز کا دہی بھلے کی دوکان سے پلیٹ لے کر تصویر بنانا عوامی نہیں کہلا سکتا اس کے لئے اپنی ذات کے خول سے نکل کر باہر آنا پڑتا ہے اور ایثار اور قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہنا پڑتا ہے۔ عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے بھی بات ہوجائے ۔ گذشتہ روز فاطمہ ادبی فورم کے زیر اہتمام عورتوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک مشاعرہ کا اہتمام ہوا جس کی صدارت کا شرف مجھے عطا کیا گیا اور اس میں خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد موجود تھی جو عورت کی آزادی کے حصول کی بات کر رہی تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ عورت اتنی مضبوط ہے کہ اس کی طرف کوئی مرد آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اسے اپنی شخصیت کے اس پہلو پر زور دینا ہوگا کہ اسلام نے اس آدھی گواہی کو یہ فضیلت عطا کی ہے کہ اُس نے پوری گواہی کو جنم دیا ہے اور کائنات کی تصویر میں اسی کے رنگ موجود ہیں اس لئے عورت اپنی شخصیت کے اصل زیور جوتہذیب و تمدن کے ارتقا میں معاون ہیں جو آدمی کو انسان بناتی ہے۔ اس کی گود پہلی یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی ہی کے ہم سب فارغ التحصیل طلبا و طالبات ہیں۔ عورت کے عالمی دن کے حوالے سے میرا یہ پیغام ہے کہ عورت اٹھے اور صداقت کے چراغوں کی لَو تیز تر کر دے اور جہالت کی تاریکیوں کو بھگا کر دم لے۔ عدل و انصاف کے ایوانوں میں ، پارلیمنٹ اور ایوان بالا میں اپنے وجود کا احساس دلائے اور عورتوں کو عورتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ہر میدان میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اکیسویں صدی کی عورت کے سامنے مسائل بھی ہیں اور اُن کا حل بھی موجود ہے۔ شاعروں، سیاستدانوں ، ادیبوں اور صحافیوں کو جنم دینے والی عورت ہے اور وہ خود صحافی، سیاستدان ، ادیبہ اور شاعرہ کیوں نہیں بن سکتی اس لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر میدان میں اپنی آواز بلند کریں ۔ پردے میں رہ کر بھی عورت بڑے کام کر سکتی ہے جس کی زندہ مثال ہمارے سامنے دنیا کی پہلی باپردہ پائلٹ کیپٹن شہناز لغاری کی صورت میں موجود ہے ۔ اسی طرح ہر شعبہ ہائے زیست میں عورتیں موجود ہیں جو مَردوں سے زیادہ باصلاحیت ثابت ہوئی ہیں۔ تعلیم، صحت اور انتظامی امور کے شعبوں میں عصرِ حاضر کی عورت نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے اس لئے عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے میرا عورت کے لئے یہی پیغام ہے کہ اپنے عزم بالجزم سے اپنی راہ میں آنے والے مصائب و آلام کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دو دنیا کی کوئی طاقت عورت کے ارادوں کو متزلزل نہیں کرسکتی۔ اس لئے بڑھے چلو جہاں تک ہوسکے بڑھے چلو۔ عورت کائنات کی سب سے بڑی صداقت ہے۔ عورت کو اپنا مقام حاصل کرنا ہے اسے اپنی انا کا احساس دلانا ہے وہ سورج ضرور طلوع ہوگا جو جبر و تشدد اور ظلم کی تاریکیوں کو مار بھگائے گا تاریخ دبے پائوں سفر کر رہی ہے عورت اٹھے آگے بڑھے اور بڑھتی جائے ۔


ای پیپر