گہری نیلی دُھند میں چُپکا پڑا کمرہ
08 مارچ 2018 2018-03-08

جدید عمرانی اور معاشی ترقی کے سبب مرد وزن کے دائرہ کار میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں ۔ آج کی عورت گھر کی چار دیواری سے نکل کر معاشرے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔جس کو نبھانے کے لئے اس نے ہر طرح کے مسائل کا سامنا کیا ہے ۔ موجودہ معاشی ترقی میں عورت کے متحرک کردار کی نفی ممکن نہیں۔ گھریلو ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہونے کے ساتھ وہ ملازمت کر کے اپنے گھر کی معاشی معاونت بھی احسن طریقے سے کر رہی ہے۔جن گھروں میں بیٹے نہیں وہاں یہ بیٹیا ں ہی بیٹوں والا کردار ادا کر رہی ہیں ،یہ خواتین مثال ہیں کہ وہ مردوں سے کم نہیں۔ تاہم ہمارا معاشرہ ہو یا کسی ترقی یافتہ ملک کا جدید معاشرہ عورت کے لیے زندگی کہیں بھی آسان نہیں ہے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ عورت ازل سے ہی انسانی زندگی کو رواں دواں رکھنے کااہم ترین حصہ ہے ، کائنات پر رب پاک کا خوب صورت تحفہ ۔ گاؤں کی عورت گھر کے کاموں کے ساتھ کھیتوں میں بھی کام کرتی ہے، مگر اسے عزت سے جینے کا حق حاصل نہیں ۔ یہی حال شہر کی عورت کا بھی ہے جو اپنی ساری جد و جہد کے ساتھ ، اپنے حقوق کو جانتے ہوئے بھی جائز مقام حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ مغرب نے جہاں دنیا کو جدید ترین سہولتوں سے روشناس کرایا وہیں معاشرتی رویوں میں جو تبدیلیاں دیں وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔عورت آزادی نہیں مگر اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے۔ کھانا،پینا، اوڑھنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے حصے کے آسمان ، وہاں سے برستی بارش کو اپنی مرضی سے محسوس کرنا چاہتی ہے۔یہی بات کوئی نہیں سمجھ رہا،اپنے بچوں کو تو وہ خوشی سے پالتی ہے مگر بعد میںدادی بننے کے بعد بہت سارے خاندانوں میں
دادی ،نانی کے روپ میں اپنی محبت سے ہاری یہ عورت صرف بے بی سٹر بن کر رہ جاتی ہے۔ ساس بہو کے جھگڑوں کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے۔
مغرب میں بھی عورت کی زندگی آسان نہیں ، اب اُن لوگوں نے رشتوں کی اہمیت سے آگاہی کے لئے 365دنوں میںسے ایک دن مقر ر کر لیا ہے، تاکہ آگہی کا سلسلہ جاری رہے اور رشتوں کا بھرم بھی ۔
عالمی سطح پر یہ ایام بہت زیادہ جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ان میں خواتین کا عالمی دن بھی شامل ہے جو ہر سال 8مارچ کومنایا جاتا ہے ۔جب ہر طرف عورت عورت ہو رہی ہوتی ہے، اُس کے حقوق،اس کی عزت ،شعور، آزادی ہر حوالے کو بیان کیا جاتا ہے ۔سمینار،پروگرامز،ٹی وی ٹاک شوز وغیرہ وغیرہ۔
عملی طور پرمگر یہ سب کہاں ملتا ہے اور کیسے ملتا ہے اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔ تقریباً ہر ماحول میںمرد اور معاشرے اپنی تربیت کی بنیاد پر عورت کا احترام کرتے ہیں ۔ مشکل وہاں ہے جہاںمرد کو برتری حاصل ہے اور مرد اس کا ناجائز استعمال بھی کرتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کوئی سمجھ دار معاشرہ نہیں، جہاں عورت کو موبائل کال سننے پر قتل کر دیا جائے۔ وہاں جذباتی رویوں کو سمجھنے کے لئے بہت ہمت اور سمجھ کی ضرورت ہے۔ دن منانے سے کبھی بھی شعور اُجاگر نہیںہوا کرتے، اس مقصد کے لئے مسلسل اور تسلسل سے کام ہو نا چاہیے۔ عورت کو کچھ مت دو بس ریاستی آئین نے جو حقوق دئیے ہیں وہ پوری دیانت داری سے دے دو، تو ہر معاشرہ مثالی بن جا ئے گا ۔ عورت نادان ہے اور بیوقوف بھی ، جب گھر سے محبت،عزت اورعزت ِ نفس کا تحفظ نہیں ملے گا ہر انسان گھر سے باہر کا رخ کرے گا اور اس میں مرد اور عورت میں کوئی تخصیص نہیں ۔گذشتہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جو لڑکیاں گھروں سے بھاگیں اُن کے پس ِ پشت محرکات کیا تھے، باپ،بھائی اور دیگر گھروالوں کا جبر،دباؤ اور غیر مساویانہ سلوک۔
اس لیے عورت کا دن منانے کی بجائے اگر اُس کو صحیح مقام دلانے اور مرضی سے جینے کی اجازت دی جائے تو اس دن کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ ورنہ جس قدر چاہیں قراردادیں منظور کر لیں ، تحریکیں چلا لیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔اس کے لیے سوچ بدلنا ہو گی اور یہ کام مرد اور عورت دونوں نے مل کرنا ہے اور اس کا آغاز گھر کی حدود سے ہونا ہے ،یہ کام ایک ماں نے کرنا ہے۔ شعور اور آگاہی کی اس جنگ میں ہر فرد اپنا کردار ادا کرے تو بات بنے گی۔عورت کو بطور انسان اپنی مرضی سے جینے کا حق دینا ہو گا پھر بات آگے بڑھے گی۔ اس سلسلے میں مجھے معروف شاعرہ ثمینہ تبسم جی کی نظم ’’بے بی سٹر‘‘ یاد آ گئی جو عورت کے وجود اور سوچ کو نفی کرنے والے رویوں کی صحیح عکاس ہے۔
بے بی سٹر!!!
کہاں سے میں کہاں پہ آگئی ہوں
میں کیا تھی
اور اب کیا ہو گئی ہوں
بہت پہلے یہ سوچا تھا
کہ اب تک میں اکیلے ہی صبح سے شام تک ہر کام کرتی ہوں
مرے بچے بڑے ہوں گے تو سکھ کا سانس لوں گی میں
ذرا فُرصت ملے تو اپنے سارے شوق جو اب تک
مرے کاموں کی چکی میں سدا کُچلے گئے
پُورے کروں گی
وہ اچھی خُوشبوئیں برتُوں گی جو کب سے درازوں میں پڑی ہیں
وہ کارڈوں پہ لئے زیور جو لاکر میں پڑے سالوں سے میری راہ تکتے ہیں
وہ میرے قیمتی جُوتے، سویٹر، بیگ اور شالیں
سبھی ہر روز میں پہنا کروں گی
بہت پہلے یہ سوچا تھا
مرا چھوٹا سا گھر ہو گا
میں اپنے گھر کے آنگن کو حسیں پُھولوں سے بھر دوں گی
چنبیلی، موتیئے اور موگرے کے پُھول مہکیں گے
میرے سونے کے کمرے کی کُھلی کھڑکی کے ماتھے پہ رُوپہلا چاند دمکے کا
تو میں اور چاندنی سر جوڑ کے گھنٹوں ہمارے چاند کی باتیں کریں گے
بہت پہلے یہ سوچا تھا
مرے پڑھنے کے کمرے میں کتابوں سے بھری الماریاں ہوں گی
روزانہ شام کو جب سیر سے لوٹوں گی تو اچھی سی موسیقی لگا کر
دیر تک پڑھتی رہوں گی
کبھی اپنی جوانی کے دنوں کی کچھ بُنی کچھ ادھ بُنی یادوں کی چادر اُوڑھ کر
آرام کُرسی پہ پڑی جُھولا کروںگی
بہت پہلے یہ سوچا تھا
اچانک ہی
مرے منجھلے نواسے نے
بڑے بیٹے کی چھوٹی سے بڑی بیٹی کو دھکا دے کے بستر سے گرایا تو
تھکن اور خامشی کی گہری نیلی دُھند میں چُپکا پڑا کمرہ
کبھی نانو کبھی دادو کی ہاہا کار سے گھبرا کے جاگ آٹھا
گھڑی کی گود میں بیٹھی ہوئی چڑیابھی آدھی رات کی بیچین گھڑیوں پہ بلک اُٹھی
میں اپنے خواب سے خوابوں کی پگڈنڈی پہ سر پٹ دوڑتی
اُس دائرے میں آ گری
جس سے نکالنے کا کوئی رستہ نہیں ملتا
مری بھیگی ہوئی نظریں
مرے ٹوٹے ہوئے میلے کچیلے ناخُنوں پہ ترس کھاتی ہیں
میں اپنے ملگجے آنچل سے اُن کو ڈھانپ لیتی ہوں
کہاں سے میں
کہاں پہ آگئی ہوں
میں کیا تھی
اور اب کیا ہو گئی ہوں


ای پیپر