بھارتی آرمی چیف کی دھمکی: حقیقت سے آنکھیں چرانے کی کوشش
08 مارچ 2018

گزشتہ دنوں مسلح کشمیری مجاہدین نے مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی فوجی کیمپ میں گھس کر حملہ کیا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل راوت نے ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں سنجوان ملٹری کیمپ پر حملے کی جلد یا بدیر قیمت چکانا ہو گی۔ایسے حملوں کا الزام بھارت پاکستان پر الزام عائد کرتا رہتا ہے جب کہ کشمیر میں یہ نئی بات نہیں ہے بلکہ بھارتی ظلم و ستم کا شکار کشمیری اپنی سر زمین کے دفاع کے لئے برسرِ پیکار ہیں اور جہاں بھی موقع ملتا ہے بھارتی قابض فوج کو نقصان پہنچاتے آ رہے ہیں۔ یہ اہلِ کشمیر کی اپنی تحریک ہے جس کا مدعا بھارت دنیا کو دکھانے کے لئے پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ بھارت نے گزشتہ 7عشروں سے مقبوضہ کشمیر کو اپنے پنجہ استبداد میں دبوچ رکھا ہے۔ اس جنت نظیر وادی کی مانگ میں آگ بھر دی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 1985ء کے دوران باقاعدہ مسلح جد و جہد کا آغاز ہوا جسے مسدود کرنے کے لئے بھارت نے وہاں 7لاکھ فوج تعینات کی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے تصادم میں شدت آئی اور خون ریزی میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت مسلسل پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا رہتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے اندر مداخلت کرتے ہوئے جہادی بھیج رہا
ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی مدد ضرور کرتا ہے جو اس کا فرض بنتا ہے یہاں تک کہ اہلِ کشمیر کی اپنی آزادی کے لئے ہر طرح کی جدو جہد کی حمایت بھی کرتا ہے مگر کشمیریوں کو مسلح جد و جہد پر ابھارنے یا انہیں کسی قسم کی دوسری طرح کی مدد فراہم کرنے میں کسی طور پر بھی ملوث نہیں ہے۔ کشمیر پر جبری تسلط کے بعد سے بھارت کو اپنی عمل داری یقینی بنانے کے لئے سخت چیلنج درپیش رہے ہیں۔ اس وقت بھی وہ سخت قوانین اور ظلم و جبر کے باوجود کشمیریوں کے جذبٔہ حریت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا اور جب بھی اہلِ کشمیر تشدد کا جواب مسلح کاروائی سے دیتے ہیں تو بھارت بوکھلا کر بغیر کسی تحقیق کے اس کا الزام پاکستان کے سر منڈھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت کے موجودہ اور سابقہ آرمی چیف غیظ و غضب، جوش اور اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں لیکن جب وہ سنجیدگی سے سوچنے بیٹھتے تو انہیں یکا یک خیال آتا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے لہٰذا جنگ کے نتائج یقیناً ہولناک ہوں گے۔ روایتی طور پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے تناسب میں کافی فرق ہے لیکن پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے سے عدم توازن ختم ہو گیا ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی کے حصول نے پاکستان کی عسکری طاقت کو دوام بخشا ہے بھارت کا ہر شہر پاکستانی میزائلوں کی زد میں ہے، لہٰذا تعلقات برابری کی سطح پر استوار ہو سکتے ہیں۔
آئے روز پاکستان کو جنگ کی کھلی دھمکیاں دینے والے ملک بھارت کی ایک ارب تیس کروڑ آبادی میں سے دو تہائی لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر بسر کر
رہے ہیں جب کہ ایک چوتھائی آبادی کو رات کا کھانا نصیب نہیں ہوتا ۔ یہاں ایسے افراد بھی بستے ہیں جن کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے لیکن ان کا شمار انگلیوں پر کیا جا سکتا ہے۔ بھارت بظاہر دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت تصور کی جاتی ہے لیکن در اصل پسماندگی، غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی جیسے بنیادی مسائل نے اس کو جکڑ رکھا ہے ۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ مودی انتظامیہ نے اپنے جنگی بجٹ میں اچھا خاصا اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت کے جنگی بجٹ میں بے پناہ اضافے سے جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے لئے بھی بھارتی سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکیوں کے پیشِ نظر خطے میں طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لئے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ظاہر ہے اس صورتحال کے براہِ راست اثرات دونوں ممالک کے عوام پر پڑیں گے۔ پہلے سے مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا شکار دونوں ممالک کے عوام کا مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا۔ ہندوستان کا پاکستان سے معاندانہ رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں پہل کی ہے۔ بھارتی تاریخ کشمیر ومشرقی پاکستان میں تخریب کاری اور ریشہ دوانیوں سے لتھڑی پڑی ہے، بلوچستان بھی اس کی ریشہ دوانیوں سے بچ نہیں سکا۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان حکومت اور عوام کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے میں مصروف ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی اس کا منفی پروپیگنڈا جاری ہے۔ مزاکرات کی میز پر وہ آنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کے خلاف وہ آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس نے خطے میں اسلحہ کی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔ اسی نے ایٹمی تجربات میں بھی پہل کی تھی۔ وہ امریکہ، اسرائیل، فرانس اور روس سے اسلحہ کے ڈھیر خرید رہا ہے۔ بھارت کی شدت پسندی کا سب سے زیادہ خطرہ پاکستان کو ہے۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق پاک بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں کروڑوں افراد چند ہی ثانیوں میں صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ جنگ کے زہریلے مادے فضا کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک میں پھیل کر انسانی جانوں کے لئے خطرہ ہوں گے اور زرعی پیداوار کو تقریباً ختم کر دیں گے۔ بھارتی حکمرانوں کو اس حقیقت سے خبردار رہنا چاہئے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے مگر جنگ کی تباہ کاریوں اور نقصانات کو سمیٹنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔بھارت کی وجہ سے پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامان ہے۔یوں لگتا ہے بھارتی حکومت اور فوج سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف کسی خاص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کو خطرناک دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں بھارتی آرمی چیف پاکستان پر براہِ راست حملہ آور ہونے کی دھمکی دے رہے ہیں وہ ساتھ ساتھ ممکنہ اہداف کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں۔ بھارتی عہدیداروں کی جانب سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت سے دوستی ہو اس سے ہر قسم کی تجارت بڑھے، ویزے کے حصول کے لئے سخت شرائط میں کمی آئے اور دونوں ملکوں کے درمیان ایسے شاندار تعلقات استوار ہوں جیسے امریکہ اور کینیڈا میں ہیں۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننے سے باز نہیں آتا۔ وہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں دوسروں کو بھی شریک کر لیتا ہے ۔ خیر سگالی اور دیرپا امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب بھارت کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے اور خطے میں بالا دستی کی پالیسی ترک کرے۔یہ خطے کے غریب عوام کی خوشحالی کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔


ای پیپر