معرکہ بڈھ بیر کاہیرو
08 مارچ 2018 2018-03-08

کلاس روم میں بچے کی انگلی پر بلیڈ لگنے سے خون بہہ نکلا، ننھے فرشتے نے تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کاپی پر اپنے خون سے PAKلکھ دیا، اتنے میں اس کی میڈم آئیں اورانہوں نے ٹشوپیپر سے خون بند کر کے اس کی انگلی پکڑ لی ۔ بچے نے کہا میڈم مجھے اپنے خون سے Pakistanتو پورا لکھنے دیں...... پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اس نے اپنے سرخ لہو سے لفظ Pakistan پورالکھ دیا اور اب تاریخ اس بچے کو کیپٹن اسفند یار شہید کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اسفند یار کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتاہے جنہیں قومی ہیروز کا درجہ مل جاتا ہے اور ان کے کارہائے نمایاں قوم میں ایک نیاجذبہ اور امنگ پیدا کرتے ہیں۔ محترم ڈاکٹر فیاض بخاری اور ان کی اہلیہ اپنے بیٹے کی داستان شجاعت جس طرح بیان کرتے ہیں سچ پوچھئے تو ایسے عظیم والدین کے جذبات لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ ان غازیوں کے والدین سب سے پہلے سیلوٹ کے مستحق ہیں جو انتہائی استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لخت جگر دھرتی کی بقاپر قربان پر کردیتے ہیں، یہ سب آساں نہیں ہوتا اس کے لئے پہاڑ جیسے عزم کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔
اسفند یار شہیدنے 14اگست1988ء کو جنم لیا۔ان کا تعلق جانثاروں کے قبیلے سے تھا ۔ آپ کے جد ِ امجد‘ سیّد صاحب شاہ بخاری نے 1857ء کی جنگ آزادی میں قائدانہ کرداراداکرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔ مجاہد آزادی جنرل بخت خان نے ان کی دلیر ی سے متاثر ہو کرانہیں دلی میں ایک دستے کا کمانڈر مقرر کیاتھا، اس موقع پر شاہ صاحب غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل نکلسن کے آگے سد ِ سکندری بن گئے تھے۔ کیپٹن اسفند یار کے دادا غازی سید محمود شاہ بخاری 1939ء میں گجرات کے ایک گائوں میں اس وقت ہندو اور سکھ جتھے کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے جب انہوں نے ایک مسجد کو شہید کرنا چاہا۔ ان کی رگوں میں دوڑنے والے حسینی لہو کا تقاضاتھا کہ آپ بلوائیوںکے آگے ڈٹ جاتے، چنانچہ اس سید زادے نے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا اور غنڈو ں کے سرغنہ جسا سنگھ کا مقابلہ کر کے اسے جہنم واصل کیا۔مورخہ18ستمبر2015کو کیپٹن اسفند یارنے اپنے عظیم آباکی جرات رندانہ کو ایک بارپھر دہرایا اور فرنگی کے ایجنٹوں اور نام نہاد طالبان کے عزائم ناکام بناتے ہوئے وطن پر قربان ہو گئے۔
اسفند یار بخاری فطری طور پر ایک نڈر نوجوان تھا،شہداء اورغازیوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنا اس کا ذوق تھا۔ وہ شہداء اور غازیوں کی داستانیں سنتاتواس کا دل چاہتا کاش وہ بھی اپنی دھرتی کی خاطر کوئی قابل فخر کردار ادا کر سکے۔سید احمد شہید ؒ اور شاہ اسماعیل شہید ؒ جیسی شخصیات کے ساتھ اس کا لگائو والہانہ تھا ۔دھرتی ماں کے اس وفادار بیٹے نے جس عظیم مقصد کی خاطر پاک فوج کو جوائن کیا رب ذوالجلال نے وہ جلد پورا کر دیا ۔ اسفند یار نے ابتدائی تعلیم اے پی ایس اٹک سے حاصل کی اور 2006ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول پہنچے۔ فوجی ٹریننگ کے سخت مراحل اس کامیابی سے طے کیے کہ ان کی خدادا صلاحیتوں سے متاثر ہو کر میجر صفدر خان نے انہیں ’’جنرل رومیل‘‘کا خطاب دیا ۔ ہاکی ، تیراکی ،باکسنگ اور گھڑ سواری پر انہیں مہارت حاصل تھی اور ان کھیلوں میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ اسفند یار نے پیراگلائیڈنگ اور پیراشوٹنگ کے کورسز بھی کامیابی سے مکمل کیے۔2008ء میں اس مردِ مجاہد کو بہترین کارکردگی پر ملٹری اکیڈمی کے سب سے بڑ ے فوجی اعزاز Sword Of Honours(اعزازی شمشیر)سے نوازا گیا۔2009ء میں جنگی مشقوں کے سلسلے میں سعودی عرب گئے اور زبرد ست خدمات کی بنا پر سعودی حکومت نے انہیں گولڈ میڈل عطا کیا۔نیک نیتی ، خلوص اور سرشاری کے باوصف وہ انتہائی کامیاب فوجی افسر تھا۔مسائل سے گھبرانا اس کی فطرت میں شامل نہ تھا ۔نو سالہ فوجی کیریئر میں اس نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔پی ایم اے کاکول میںفوجی علوم میں اعلیٰ کارکردگی پر Military Tactics Medal دیا جاتا ہے۔ اس میڈل کا حصول ہر کیڈ ٹ کا خواب ہوتا ہے لیکن اسے پانے کے لیے غیر معمولی تگ و دو کرنا پڑتی ہے ۔عسکری قیادت باریک بینی سے کیڈٹس کا جائزہ لینے کے بعد کسی ایک کواس اعزاز سے نوازتی ہے۔اسفند یار نے اس ضمن میں بھی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور جنرل راحیل شریف سے یہ اعزاز وصول کیا۔
18ستمبر2015ء کو ایئر فورس کیمپ بڈھ بیر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ، ان نازک گھڑیوں میں دھرتی ماں نے اسفند یار کو پکارا اور وہ سربکف ہو کر میدان کارزار میں اترا۔کیپٹن اسفندیار شہید جس سرعت اور مہارت کے ساتھ آگے بڑھے بریگیڈئیر عنایت علی اس کے عینی شاہدہیں، وہ کہتے ہیں: جوں ہی مجھے خبر ملی کہ دہشت گردوں نے ایئر فورس کیمپ پر حملہ کیاہے میں نے فوراً اسفند یار کو فون کیا۔ اس نے جلد ہی ٹرانزٹ پلاٹون کو متحرک کیا اور انتہائی مختصر وقت میں اپنی ٹیم تیار کی۔ میں باہر نکلا تو اسفند یار بالکل مستعد کھڑا تھا۔ کہنے لگا سر! جلدی کیجئے کہیں دیر نہ ہوجائے، اللہ نہ کرے کہ کوئی بڑا سانحہ جنم لے ۔ سر !وہاں سکول بھی ہے ،کہیں اے پی ایس پشاور کی خون آلود شام دوبارہ نہ رونما ہو جائے۔ میں نے وائرلیس سیٹ اسفند یار کو دیا اور کہاسب سے ضروری رابطے کرواور موجود صورتحال سے باخبر رہو۔ وہ مجھے بتارہا تھا کہ دہشت گرد دو گروہوں میں بٹ کر دونوں داخلی راستوں سے اندرداخل ہوئے اور شدید لڑ ائی جاری ہے۔ اسفند یار شہید جب ایئر بیس میں داخل ہوئے دہشت گردوں کی فائرنگ جاری تھی اور میجر حسیب زخمی ہو چکے تھے ،اس موقع پر اس نے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات سپرد کرتے ہوئے درخواست کی کہ آپریشن کی کمانڈ ر اسے دی جائے۔بریگیڈیئر عنایت علی کہتے ہیں میں نے اسفند
یار کو اجازت دے دی کیونکہ اس وقت اور آپشن نہ تھا ۔میں گاڑی میں بیٹھاتھا جبکہ اسفند یارنے کوئیک رسپانس فورس کی کمانڈ سنبھالی اور چیتے کی پھرتی کے ساتھ آگے بڑھا۔ اس نے بہترین حکمت عملی کو کام میں لاتے ہوئے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا اور انہیں انجام تک پہنچا کرخودبھی جام شہادت نوش کیا۔ کیپٹن اسفند یار شہید کی یہی وہ ادا ہے جس نے اسے امر کر دیا ۔اس شہید وطن کی سوانح ’’ معرکہ بڈھ بیرکا ہیرو‘‘کے عنوان سے پروفیسر محمد ظہیر قندیل نے قلمبند کی ہے ۔ 300صفحات پر مشتمل یہ داستان مجاہد مطالعہ کے قابل ہے۔جس جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اسفند یار نے اپنی جان قربان کی اسی جوش و ولولے کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مصنف نے ان کی سوانح سپرد قرطاس کی ہے۔بلاشبہ ڈاکٹر فیاض بخاری، عظمی بخاری جیسے باہمت والدین، اسفند یارجیسے نڈر سپوت اور ظہیر قندیل جیسے لکھاری جس قوم میں موجود ہوں اس کے احساسِ تفاخر کے لئے یہی کافی ہے۔


ای پیپر