ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا انعقاد کیا جائے
08 مارچ 2018 2018-03-08

3مارچ رات کے تقریباً گیا رہ بجے کا ٹائم تھا ۔ میں ایک ضروری کام کے سلسلے میںگھر سے بازار کے لئے نکلا ۔ کچھ دور ہی گیا تھا کہ ایک آٹھ ،نو سال کی عمر کا بچہ سڑک کنارے کھڑا ملا ۔ اس نے لفٹ لینے کے لیے ہاتھ کا اشارہ کیا تو میں اس کے قر یب جا کر رک گیا ۔وہ پاس آیا اور بولا بھائی … مجھے قہوے والے چوک کے پاس اتار دیں گے۔ ؟
میں حیران ہوا کہ اتنا چھوٹا بچہ اتنی دور کیو ں جا رہا ہے ۔ بہر کیف میں نے اس کو بٹھا لیا اور راستے میں اس کے ساتھ باتیں شروع کر دیں ۔ ہمارے درمیان سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ میں نے پوچھا۔اتنی دور کیا کرنے جا رہے ہو۔ تو وہ بڑے معصوم انداز میں بولا میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔ میں نے پوچھا یہاں کیا کرنے آئے تھے ۔تو اس نے جواب میں کہا کہ ’’ میں ٹھوکر نیاز بیگ سے آرہا ہوں موٹر سائیکل کا کام سیکھتا ہوں‘‘ ۔ میں نے پوچھا کہ صبح کتنے بجے جاتے ہو کام پر۔ تو اس نے کہا… بھائی… صبح چھ بجے کام کے لئے گھر سے نکل آتا ہوں ۔اور پھر میں نے پوچھا واپسی کب ہوتی ہے تو جواب ملا… روز اسی ٹائم واپس گھر آتا ہوں ۔مطلب اٹھارہ گھنٹوں کی نوکری کے بعد ۔ اور وہ بھی اتنی چھوٹی عمر کا بچہ… تنخواہ کا پو چھا…تو اس نے بتایا کہ ’’ مجھے دو ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں ‘‘۔ میں نے اس کے گھر سے کچھ دور اتارنے کا کہا تو وہ معصوم بولا بھائی …تھوڑا آگے اتار دیں یہاں مجھے ڈر لگے گا ۔ ایک دھچکا سا لگا… یہ جوا ب سن کر بے اختیار آنکھیں نمی سے تر ہو گئیں ۔یکدم ذہن میں کئی قسم کے سوالات ابھر آئے ۔حکومت نے چالڈلیبر کے حوالے سے قانون سازی تو کر رکھی ہے مگر اس پر من وعن عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا۔یہ لمحۂ فکر ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں سکول جانے کی عمر کے اڑھائی کروڑ سے زائد بچے مختلف کار خانوں ، ورک شاپس ، فیکٹریوں ،بھٹوں ، گھروں اور ہوٹلوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تعلیم کاشعبہ بھی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔جبھی تو اتنی چھوٹی عمر کے بچے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے خاندان کا بوجھ بھی اٹھانے پر مجبور ہیں۔پاکستان اس وقت تک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا جب تک شرح خواندگی 100فیصد نہیں ہو جاتی ۔پنجاب کی کل آبادی101ملین ہے۔حکومت پنجاب تعلیم پر صرف59بلین روپے خرچ کرتی ہے جوکہ فی کس500روپے ہیں جبکہ اس وقت صوبے میں2.9ملین یعنی47فیصدبچے تعلیم سے محروم ہیں۔سٹیزن فائونڈیشن کے مطابق ایک بچے کی تعلیم پر سالانہ 15000روپے خرچ ہوتے ہیں۔اس حساب سے 2.9ملین بچوں کی تعلیم پرسالانہ44بلین روپے خرچ ہوں گے۔اسی ادارے کی تحقیقات کے مطابق ایک پرائمری سکول کی تعمیر پر17ملین خرچ ہوتے ہیں۔ 162بلین روپے سے پنجاب حکومت10000اچھے اور معیاری سکول بناسکتی ہے اور اس صوبے کے36اضلاع میں300سکول فی ضلع کی شرح سے قائم کرسکتی ہے۔ پنجاب حکومت نے 5000 سکولوں کو پرائیوٹ کرنے کاا علان کیا تھا ۔جن میں راولپنڈی کے220،ضلع چکوال کے189،اٹک کے70 ،لاہور کے28،مظفرگڑھ کے307،اوکاڑہ کے69،پاکپتن کے26،بہاولپور کے282،بھکر کے91،چنیوٹ کے21،گوجرانوالہ کے 220، قصور کے38،خانیوال کے48، سرگودھا کے63،سیالکوٹ کے114،وہاڑی کے58،جھنگ کے 63، ساہیوال کے 16، فیصل آباد کے 103، شیخوپورہ 147، خوشاب 54، لیہ 61، لودھراں 51، میانوالی 157، ملتان 86، گجرات 89، ننکانہ 40اورحافظ آباد ضلع کے75سکول بھی شامل ہیں۔ان تمام گرلزاور بوائز سکول کے اساتذہ سرپلس قراردیئے گئے تھے۔ان میں سے 4700سے زائد سکولوں کو پرائیویٹائزکر لیا گیا ہے ۔ جبکہ رواں بر س میں بھی مزید سکولوں کی پرائیویٹائزیشن کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ما ضی قریب میں صوبائی دارالحکومت کے50سے زائد
سرکاری بوائز اور گرلز کالجز میں60فیصد اساتذہ کی بوگس حاضری کا انکشاف بھی ہو چکا ہے ۔حکمرانوں کوتعلیم کے حوالے سے چند ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے تو شرح خواندگی بڑھانے کے لیے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا انعقاد کیا جائے ۔ پاکستان میں جو اڑھائی کروڑ سے زائد بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں،حکومت کے تمام تر اقدامات کے باوجود ان کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔ اس حوالے سے معاشرے میں تعلیمی شعورو آگاہی کی مہمات شروع کی جائیں۔دوسرا عوام کی قوت خرید کو بڑھا اور لوگوں کو خوشحال بناکر ہم اپنے ٹارگٹ کو حاصل کر سکتے۔اس حوالے سے زمینی حقائق کا ادراک ضروری ہے۔ اے سی کے بند کمروں میں بیٹھ کر عوام کی فلاح وبہبود کے لیے پالیسیاں نہیں بن سکتیں۔ شعبہ تعلیم عملاً حکمرانوں کی بے حسی کا شکار ہے ۔


ای پیپر