وجودِ زن سےہے تصویر کائنات میں رنگ
08 مارچ 2018

عالمی یوم خواتین بین الاقوامی طور۸ مارچ کو منایا جاتا ہے؛جس کا مقصدمردوں کو خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے پیش قدمی کی ترغیب دینا ہے۔دنیا میں سب سے پہلا ویمن ڈے(یوم ِخواتین)۱۹مارچ 1911 ءکومنایا گیا پھر 1977 ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ بل پاس کیا کہ خواتین کا بین الاقوامی دن ہر سال ۸ مارچ کو باقاعدہ طورپرمنایا جائے گا۔


سوچنے کی بات ہے کہ کیا اس معاشرے میں عورت ہی مظلوم ہے؟۔تو حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں مرد بھی اتنا ہی بلکہ کچھ درجہ زیادہ ہی مظلوم ہے، ابن آدم قوی ہوتے تو صنف نازک یعنی بنت حوا کی قوت میں خود بخود اضافہ ہوجاتا۔ یہاں اس نظام میں صرف قوی، قوی تر ہے اور جس کی طاقت ہے اس کی بھینس ، لہذا یہاں مظلومیت کسی ’’صنف ‘‘ کے ساتھ وابستہ نہیں ہے اور حقوق نہ صنف نازک کو حاصل ہیں نہ صنف قوی کو ۔لیکن آج کے دن تو بات صنف نازک ہی کی ہوگی کہ حکومت کچھ نہیں کرتی، این جی اوز اپنے مفادات کی اسیر ہیں تو ہم کیا کریں آخر…؟؟ ایک ’’شعوری بیداری‘‘ کو عام کرنے میں ہم سے ہر خاص وعام اپنا حصہ ادا کرسکتا/ سکتی ہیں۔مغرب ایک دن عورت کے نام کرتا ہے ہمارا دین تو سال کا ہر دن عورت کے عزت ووقار اور حقوق کے نام کرتا ہے۔


میں ایک یوروپین کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ پڑھ رہا تھا ۔ جسے اسپیشل یوروبیرومیٹر کے 344 کے نام سے ریلیز کیا گیا ہے ، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے قانون، آزادی اور تحفظ کے زیرِ اہتمام کی جانے والی اس سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔ کہ ہر چار میں سے ایک عورت ، گھریلو تشدد کا شکار ہے ۔ یورپی یونین کے ستائیس ملکوں سے مجتمع کی جانے والی ان معلومات سے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ 78% یورپی گھریلو تشدد کو کامن پرابلم سمجھتے ہیں۔ 2010ء میں جاری ہونے والی اس رپورٹ میں جنسی اور جسمانی تشدد کو گھریلو ناچاقیوں کا سبب قرار دیا گیا۔مغرب جس نے گھر کی عورت کو ” بازاری عورت” بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ، وہ کہاں تک عورت کو مقام دینے میں کامیاب ہوا۔ ایک طرف ریستورانوں ، بار ہوٹلوں، کلبوں ، میں نیم برہنہ اداکاری کو ” اسٹیٹس ” کے خوشنما غلاف میں لپٹا کر تہذیبِ بد کا آغاز کیا ۔ دوسری طرف بچوں کو گھر میں تعلیم وتربیت اور خاندانی نطام سے محروم کرکے ، غیر مربوط اور خود غرض معاشرتی نظام کی داغ بیل ڈالی ۔


اسلام نے 1400 سال پہلے عورتوں پر ظلم کے خلاف جو آواز اٹھائی ہے اور جو حقوق کے تحفظ کا آسمانی بل پیش کیا ہے اسکی مثال لبرل، سیکیولر، نام نہاد عالمی حقوق نسواں کے ٹھیکیدار اور این جی اوز تاقیامت پیش کرنے سے قاصرہیں اور رہیں گے۔


عورت کا سب سے بڑا حق، عزت اور محبت ہے ۔ مغرب نے کہا نہیں، آزادی اور نوکری ہے ۔ نتیجہ اولڈ ایج ہومز، سیکس مارکیٹس، گھریلو تشدد، بڑھتی ہوئی شرحِ طلاق اور اوپن میریجز کی صورت میں سامنے ہے ۔اور آج عورت عزت اور محبت دونوں سے محروم سی نظر آتی ہے ۔چادر اور چاردیواری ، اور میرا مشورقیت کا نظریہ اور کچھ دے نہ دے ، عورت کو عزت اور محبت یقینا دیتا ہے ۔تعلیم ، اور بشرطِ ضرورت روزگار سے بھی کسے انکار ہے۔ لیکن کیا کیجے ، جب بھی عورت کے حقوق کی بات آئے گی ، مذہب بیزاری ، غرب کی بے عقل تقیلد اور خود فراموش تعبیریں بال کھول کر آ نکلتی ہیں۔


جو لوگ آزادی نسواں ، مساوات مرد و زن اور خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور صحیح انداز میں عورتوں کو ان کے اسلامی حقوق دلواناچاہتے ہیں تو ان کا فرض صرف اسی پر ختم نہیں ہوجاتا کہ سال بھر میں ایک بار جلسے جلوس کی چہل پہل دکھادیں ،چند دانشوروں کو بلاکرکسی بزم میں تقریریں کروادیں،خواتین کے تحفظات پر کوئی لٹریچر شائع کروادیں؛بل کہ یہ تو ادائےفرض کی صرف تمہید ہے ،کتاب کا فقط دیباچہ ہے،عمارت کی محض بنیاد ہے ،اصل کام تو ابھی باقی ہے۔
اِس یومِ یادگار کو عمل و کردار کا جامہ پہنایا جائے ،عملی میدان میں خواتین کو ان کے حقوق فراہم کئے جائیں ،ان پر ہونے والے ظلم و تشدد کا خاتمہ کیا جائے ،بڑھتی ہوئی بے راہ روی اورہوس پرستی پر قدغن لگائی جائے،عزت و ناموس کی حفاظت ہو،خلوص ومحبت کی جلوہ ارزائی ہو،تقدس وپاکیزگی کو فروغ ملے پھر سال کاہردن صنف نازک کے حق میں ’’یوم خواتین‘‘بن جائے ۔


(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


ای پیپر