حقوقِ نسواں
08 مارچ 2018

عورت کی کس آزادی ٗکونسے حقوق کی بات کررہے ہو تم؟ کیا فرق پڑا ہے کل اور آج میں؟ ہاںاگر کچھ فرق پڑا ہے تو بس اتنا،کل اسے بادشاہوں کے دربار میں سب کے سامنے رقص پر مجبور کیا جاتا تھا تو آج ہوٹلز کے بندکمروں میں ناچنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ کل اسے زنجیروں میں جکڑ کر سرِ بازار نیلام کیا جاتا تھا تو آج مجبوریوں کے رشتوں میں باندھ کر گھروں میں قید کردیا جاتا ہے ۔ کل آہنی بیڑیاں ڈال کر اس کی تذلیل کی جاتی تھی تو آج قیمتی دھاتیں پہنا کر رُسوا کیا جاتا ہے ۔ کل اس کے جسم کے زاویوں پر بے شرمانہ قصیدے لکھے جاتے تھے اور آج اس کے حسن کی قیمت اشتہارات کی زینت بنا کر ادا کی جاتی ہے ۔ کل تم اسے ناقص العقل کہتے تھے ،آج فتنہ ساز بلاتے ہو۔ کل تم اس کی جہالت پر ہنستے تھے،آج اس کے تعلیم یافتہ ہونے کا مذاق اڑاتے ہو۔عورت کو آزاد کہا ں کیا تم نے ؟ ہاں عورت کو استعمال کیا ہے تم نے ۔

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


منعم مجید

منعم مجید ملک کے ممتاز ڈرامہ رائٹر ہیں۔ ناول ٗ افسانہ نگاری میں منفرد اسلوب کیساتھ کئی کتابوں کے مصنف اور بلاگر ہیں۔

ای پیپر