مجھ پر اب تک کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا : نواز شریف

08 مارچ 2018 (14:50)


اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھ پر اب تک کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا ، لگتا ہے بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت سب کچھ ہورہا ہے۔


احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف نیب ریفرنسز جعلی ہیں، 6 مہینے ہوگئے آج تک پتا نہیں چل سکا کہ نواز شریف پر الزام کیا ہے جب کہ کہا جارہا تھا کہ رابرٹ ریڈلی آئے گا اور ہمارے خلاف گواہی دے گا لیکن اس کی گواہی ہمارے حق میں آئی۔انہوں نے کہا کہ کوئی کام کی چیز اب تک سامنے نہیں آئی، 6 ماہ میں کچھ نہیں ملا تو اگلے دو ماہ میں کیا ملے گا، سب سیاسی ایجنڈے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ایسے لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے جن کی وجہ سے وزیراعظم کو نکالا گیا، ریفرنسز بنے اور ابھی تک کچھ نہیں پتا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کچھ نہیں ہے، واجد ضیا نے کل کہا کہ والیم ٹین غیر متعلقہ ہے،تحقیقات اب ہو رہی ہیں تو پہلے کیا پیش کیا گیا، پانچ مرتبہ پبلک آفس ہولڈر رہا لیکن کرپشن کا ایک بھی کیس نہیں لیکن اب میری پیدائش سے پہلے کے اثاثے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔


نواز شریف نے کہا کہ دو بار وزیراعلیٰ، تین مرتبہ وزیراعظم رہا، کبھی کرپشن کا مرتکب نہیں ہوا، مکمل اطمینان ہے کہ کبھی کرپشن نہیں کی اور میرے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا۔سینیٹ کے نئے چیئرمین سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایسا شخص چیئرمین سینیٹ دیکھنا چاہتے ہیں جس کی جمہوریت کے لئے کمٹمنٹ ہو، رضا ربانی کی پارٹی قیادت ان کا نام نہیں دینا چاہتی تو ہم اپنے اندر ایسے بندے کو تلاش کر رہے ہیں جو معیار پر پورا اترے۔ نواز شریف نے کہا کہ ابھی ایک ہارس ٹریڈنگ کا عملی نمونہ دیکھا اور رضا ربانی کا بطور چیئرمین سینیٹ نام اس لیے دیا کہ اگلی ہارس ٹریڈنگ کو روکا جائے، رضا ربانی اپنا کام اچھے طریقے سے کرتے ہیں اور موزوں آدمی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر کمزور بندا بٹھانا نہیں چاہتے، اپوزیشن اور ہماری خواہش تھی کہ رضا ربانی چیئرمین سینیٹ بنیں اور وہ ہمارے معیار پر بھی پورا اترتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے جس کے لیے ہم تیار ہیں، بلوچستان میں دو تین ماہ پہلے ہی ہارس ٹریڈنگ شروع ہو گئی تھی جو ایک بری ریت ہے اور اس کا سد باب ہونا چاہیے۔ ہم سینیٹ میں واحد اکثریتی جماعت ہیں اور ہمارا حق ہے کہ اپنا امیدوار دیں، مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو کو ملا کر اچھی تعداد بن جاتی ہے۔

مزیدخبریں