Dr. Tehsin Firaqi, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 جون 2021 (11:45) 2021-06-08

ایک سوال ان دنوں اکثر میرے اور میرے جیسوں کے لیے موجبِ پریشانی رہتا ہے: کم و پیش پچھتر برس بیت گئے۔ ہمیں ابھی قوم بننے میں مزیدکتنی مدت درکار ہے؟سوچتا ہوں کہ کسی قوم کی تشکیل و تکمیل میں پون صدی کا عرصہ کچھ اتنا کم بھی تو نہیں ہوتا مگر ہمارا عالم یہ ہے کہ یہاں قوم بن کے نہیں دیتی۔ انتشار اور افتراق، بے سمتی اور بے جہتی، بے اصولی اور بے ضمیری، الزام تراشی اور افترا پردازی کا ایک سیلِ بے زنہار ہے کہ جس کا زور ٹوٹنے میں نہیں آتا۔ اس طویل عرصے میں کتنے ہی مسئلے ہیں جو ابھی تک حل نہیں ہو پائے۔ قرضوں پر قرضے لیے جاتے ہیں مگر ہل من مزید کی تکرار تھمنے میں نہیں آتی۔ غربت اور افلاس کی دلدل میں پھنسے ہیں مگر واہ ری زندہ دلی: لنگوٹی میں پھاگ کھیلتے ہیں۔ قومی زبان کی اجتماعی برکات سے فیض یاب ہونے کے بجائے اس کا اور اس کے چاہنے والوں کا استہزا کرتے ہیں اور جھوٹ تراشتے ہیں۔ علاقائی زبانوں کو (جنہیں ہم احتراماً پاکستانی زبانیں بھی کہتے ہیں)، قومی زبانوں کا درجہ دینے پر اصرار کرتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے طول و عرض میں کم و بیش چھہتر زبانیں بولی جاتی ہیں اور چھہتر زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینا اپنے ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت دینا ہے۔ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہے۔ کاش ہم یہ سمجھ پاتے کہ قومی زبان اردو کسی بھی علاقائی/ پاکستانی زبان کی حریف نہیں ، حلیف ہے۔ پاکستانی زبانوں بشمول اردو کی اصل حریف تو انگریزی زبان ہے جس کو ہماری سفاک بیوروکریسی نے اس قوم کی گردنوں پر مسلط کر رکھا ہے۔ حق یہ ہے کہ اردو کے دوش بدوش پاکستانی زبانوں کو پھلنے پھولنے کا پورا حق حاصل ہے بلکہ میری دانست میں تو پاکستانی زبانوں کے زندہ اسالیب اور موضوعات سے اردو کو مزید استفادہ کرنا چاہیے۔ میری رائے ہے اور میں اس رائے کا اظہار پندرہ سولہ برس سے متواتر کر رہا ہوں کہ عرفان اور تصوف کی انوکھی لہر بہر اور آتش نفسی جیسی مثلاً پنجابی شعراء بلھے شاہ، شاہ حسین، میاں محمد بخش اور خواجہ غلام فرید کے ہاں ملتی ہے، اردو صوفی شعراء کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اردو زبان کی سمندر جیسی موضوعاتی وسعت اور علوم، آداب اور فنون کے قابلِ قدر سرمایے کے باعث نیز ملک کے ایک کونے سے دوسرے تک رابطے کی زبان ہونے کے ناتے یہی واحد زبان ہے جو صحیح معنوں میں قومی زبان کہلانے کی اہل ہے۔ ہم اس زبان کے قومی زبان کے طور پر نفاذکی راہ میں حائل ہو کر آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے کا منہ چڑانے کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

پچھلے چند برس سے وطنِ عزیز میں بعض مسائل و مناظر بڑے تکلیف دہ ہو گئے ہیں مثلاً لاہور کے ہر چوراہے پر (غالباً باقی بڑے شہروں کا بھی یہی حال ہے) دوپہر سے رات گئے تک جنسِ سوم اور بھک منگوں کی ہوش ربا کثرت نظر آنے لگی ہے۔ کیا تالیاں پیٹتے، بھاؤ بتاتے اور دلخراش آوازیں نکالتے عزتِ نفس سے محروم یہ لوگ وطنِ عزیز کا حصہ نہیں اور قومی دھارے میں شامل کیے جانے کے مستحق نہیں ؟ ان کے دکھ درد کا مداوا کیوں نہیں ہو رہا ؟ قومی دولت کا چند خاندانوں میں مرتکز ہوجانا اور ملک کی کثیر تعداد کا خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنا کس قدر الم ناک ہے۔ دھن دولت، دھونس دھاندلی اور علاقوں اور ذاتوں کی بنیاد پر اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی حاصل کرنے والوں کو پاکستان کے پچھڑے اور پسے ہوئے غریبوں کی کرب ناک زندگی کا کچھ بھی اندازہ ہے؟ کیا اہلِ اقتدار کو پانی کی طرح قومی دولت بہانے اور وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج کھڑی کرنا 

زیب دیتا ہے ؟ مجھے پڑوسی ملک بھارت میں کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ ایسی ہی ایک کانفرنس عرصہ پہلے دہلی یونیورسٹی اور این سی سی آر کے اشتراک سے فکرِ اقبال پر منعقد کی گئی تھی۔ پاکستان کی نمائندگی جن تین اہلِ قلم نے کی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا۔ افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور مجھے ہندوستانی اکابر کے دوش بدوش مجلس صدارت کے ارکان کے ساتھ اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ میرے ساتھ جموں و کشمیر کے ممبر پارلیمنٹ کرن سنگھ بیٹھے تھے۔ میں ان کا لباس دیکھ کر مبہوت تھا۔ ان کا پہناوا نہایت سستا اور معمولی نوعیت کا تھا ، پاؤں میں بیش قیمت جوتے کے بجائے سادہ سی کھڑاؤں نما چپل تھی اور سر پر عام سے سفید کپڑے کی کشتی نما ٹوپی تھی۔ ادھر ہمارے غریب ملک کے عیش مست ارکانِ پارلیمان اور وزرا کا حال یہ ہے کہ لباسِ فاخرہ پہنے ، بڑی بڑی بیش قیمت گاڑیوں پر شاہراہوں کو روندتے، رعونت کی زندہ تصویر بنے، اپنے خدم و حشم کی بیسیوں گاڑیوں کو پس و پیش لیے گزرتے ہیں اور کوس ِ لمن الملک بجاتے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سادہ زندگی اور اعلیٰ سوچ ( سمپل لوِنگ اینڈ ہائی تھنکنگ) کا سنہرا اصول ابھی تک اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔ بیدل نے عرصہ پہلے کتنی بڑی حقیقت کس سہولت سے بیان کر دی تھی:

 حرص قانع نیست بیدل ورنہ از ساز معاش

آنچہ ما درکار داریم اکثرے درکار نیست

(اے بیدل، حرص قناعت سے محروم ہے ورنہ ہم انسان معیشت کے اسباب کے جو ڈھیر کے ڈھیر لگائے جاتے ہیں ان میں سے اکثر ہماری ضرورت نہیں ہوتے)۔

غالب قرض کی مے پیتا تھا، ہم ایک برادر ملک سے تیل قرض پر لیتے ہیں۔ عالمی حرارت (گلوبل وارمنگ) سے نمٹنے کے لیے امیر ملکوں سے مالی اعانت طلب کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ یہ امیر ملک ہی تو گلوبل وارمنگ کے اصل ذمہ دار ہیں۔ میر کا شعر مجھے کس موقع پر یاد آیا:

 میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

آخر ہماری قومی غیرت کب تک کشکول برداری کی ذلت برداشت کرتی رہے گی۔ ہم اسے توڑ دینے کا اعلان تو کرتے ہیں، اقدام نہیں کرتے:

 کشکول لیے پھرتے ہیں اب کوچہ بہ کوچہ

عادت ہی نہ پڑ جائے ہمیں دربدری کی

لگے ہاتھوں حمیت اور غیرت پر ایک شعر عرفی شیرازی کا بھی سنتے جائیے اور ہوسکے تو حرزِ جاں بنا لیجیے۔ کہتا ہے:

 حقا کہ باعقوبتِ دوزخ برابر است

رفتن بہ پائے مردی ِ ہمسایہ در بہشت

(خدا کی قسم، ہمسایے کی مدد اور یاری سے جنت میں داخلہ دوزخ کے عذاب کے برابر ہے!)

ادھر ہماری عام گزرگاہیں تو ایک طرف، وسیع و عریض شاہراہوں پر کچھ عرصے سے ٹریفک اصولوں کو پاؤں تلے روندنے کی روش عام ہو گئی ہے۔ ڈبل روڈ ہونے کے باوجود اپنی سڑک چھوڑ کر مقابل سے آنے والی گاڑیوں پر چڑھے "شہسوار" پے در پے قانون شکنی کرتے چلے آتے ہیں جس کے باعث سنگین حادثات ہو رہے ہیں مگر کوئی روکنے والا نہیں۔ پچھلے پچاس برس سے میری آنکھیں عیدین کے موقعوں پر دیکھتی آرہی ہیں کہ اپنے اپنے قصبوں قریوں کو جانے والے بے بس مسافر ٹرینوں اور بسوں کی چھتوں اور پائیدانوں پر لٹکتے لمبے سفر کرتے نظر آتے ہیں مگر ہم سب یہ شرمناک اور خطرناک مناظر دیکھتے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ کیا ہم نے اس ریاست کے چلانے کے لیے یہ طے کر لیا ہے کہ یہاں بے بس اور بے نوا افراد کی تذلیل کرتے رہنے سے کاروبارِ حکومت سہل ہو جاتا ہے۔ اسٹگ لٹنر نے، جو ایک شہرہ آفاق نوبل انعام یافتہ مصنف ہے، چند برس پہلے اپنی کتاب ’’دی گریٹ ڈیوائیڈ‘‘ میں لکھا تھا کہ اب امریکہ کی وال اسٹریٹ میں جلوس نکالنے والے مفلس امریکی مظاہرین مسلسل نعرے لگانے لگے ہیں کہ ایک فیصد حاکموں کے مقابلے میں ہم ننانوے فیصد ہیں۔ اسٹگ لٹنر نے اس ضمن میں 1789 کے معروف انقلابِ فرانس کے دوبارہ ظہور میں آنے کی پیش قیاسی کی ہے اور گلوٹین کی روایتی سر تراشی کے خوف سے دولت والوں کو خبردار کیا ہے۔

 صاحب نظراں! نشہِ دولت ہے خطرناک !

سچ تو یہ ہے کہ بڑے افراد ہوں یا بڑی قومیں، وہ عدل و مساوات کے آفاقی اصولوں کے علمبردار ہوتے ہیں۔ انہی آفاقی اصولوں سے زندہ اور پائیدار معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری قوم (اگر اسے قوم کہا جاسکے) نعروں پر زندہ قوم ہے ، ایک ایسے ڈھول کی طرح جو اندر سے خالی ہو۔ آپ پچھلے دس بیس برس کے اخبار اٹھا کر دیکھ لیجیے، اہلِ اقتدار اور ان کے حریف ’’ چاہیے‘‘ کا لفظ نہایت کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ’’ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، ملک میں امن و امان ہونا چاہیے، ہمیں معاشرے میں رواداری کو رواج دینا چاہیے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، پاکستان کا سوفٹ امیج پیش کرنا چاہیے‘‘۔ اگر ہم اگلے دس بیس برس کے لیے ’’ چاہیے‘‘ کو تین طلاقیں دے کر عمل کی پاکیزہ اور حرکی دوشیزہ کو اپنے ازدواج میں لے آئیں تو پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک زندہ، توانا، خود انحصار ملک کے طور پر ظہور میں لا سکتے ہیں۔ ایک پائیدار فلاحی مملکت جس کے خدوخال شاہ ولی اللہ اور اقبال متعین کر چکے ہیں۔


ای پیپر