Sajid Hussain Malik, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 جون 2021 (11:39) 2021-06-08

مسلم لیگ (ن) یا دوسرے لفظوں میں اس کے قائدین کا یہ مخمصہ ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی حلقوں سمیت پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں سامنے آیا ہوا ہے کہ آیا اسے (مسلم لیگ ن کو) پارٹی کے قائد میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کے تقریباً گزشتہ چار سال سے اختیار کردہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ سے موسوم مزاحمتی اور ریاستی اداروں سے بظاہر ٹکرائو کے بیانیے پر کاربند رہ کر اپنا سفر جاری رکھنا ہے یا پھر پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف اور ان کے بعض ہمنوا پارٹی کے قائدین کے تجویز کردہ ریاستی اداروں سے مفاہمت اور ان سے ٹکرائو سے اجتناب کرنے کے مفاہمتی بیانیے یا حکمت عملی پر عمل پیرا ہو کر اپنا سیاسی سفر جاری رکھنا ہے۔ یہ بحث اس لئے شدت کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ حالیہ دنوں میں پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی اور پارٹی کے قائد میاں محمد نوازشریف کے پائوں پکڑ کر انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ اداروں سے ٹکرائو کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ سے موسوم اپنے مزاحمتی بیانیے کی بجائے اداروں سے مفاہمت کی حکمت عملی کو اختیار کرنے پر آمادہ ہو جائیں کہ اس میں جہاں ملک و قوم کا مفاد اور سلامتی اور تحفظ کا راز پوشیدہ ہے، وہاں پارٹی (مسلم لیگ ن) کا مستقبل بھی اسی حکمت عملی سے وابستہ ہے کہ اسی پر عمل پیرا ہو کر آئندہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) آنے والے دنوں میں بظاہر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے لبادے میں ملفوف میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کے مزاحمتی بیانیے کو بدستور اپنائے رکھتی ہے یا مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی مفاہمتی حکمت عملی کو اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے یا مزاحمتی بیانیے اور مفاہمتی حکمت عملی دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلتی ہے اس کا جلد اندازہ ہو جائے گا تاہم یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ مزاحمتی بیانیے اور مفاہمتی حکمت عملی ہردو کے حامی مسلم لیگ (ن) میں موجود ہی نہیں چلے آ رہے ہیں بلکہ اپنے اپنے مؤقف کے حق میں مضبوط دلائل بھی سامنے لاتے رہتے ہیں۔

میاں محمد نوازشریف، ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور ان کے ہمنوا اگر مزاحمتی بیانیے پر کاربند ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس میں بڑی حد تک حق بجانب ہیں۔ بلاشبہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مئی 2013 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور تیسری بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس میں میاں محمد نوازشریف کو اپنے بیٹے کی کمپنی کا اقامہ رکھنے کی پاداش میں صادق اور امین نہ سمجھے جانے کی بنا پر عوامی نمائندگی کے لئے تاحیات نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے فیصلے کے سامنے آنے تک تقریباً چار سال کے عرصے میں وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجاآوری میں میاں محمد نوازشریف کو انتہائی کٹھن، ناخوشگوار اور پریشان کن صورت حال سے ہی پالا نہیں پڑا رہا بلکہ انہیں ریاستی اداروں بالخصوص عسکری قیادت کی طرف سے قدم قدم پر غیرضروری دبائو کا سامنا  بھی رہا۔ میاں صاحب خود کو درپیش اس صورت حال کا اس طرح تذکرہ کر چکے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا اور انہیں تاحیات نااہل قرار دینا اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے مقتدر اداروں کے سامنے سر جھکا کر نوکری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنا ان کا سب سے بڑا جرم بنا۔ ادھر مشرف کے خلاف مقدمے میں تیزی آئی، ادھر اسلام آباد میں عمران خان اور علامہ طاہرالقادری کے دھرنوں کا منصوبہ بنا۔ عمران خان اور طاہرالقادری کے منہ میں وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ ڈالا گیا اور چار ماہ تک ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔ عمران کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے کہ بس ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ ایمپائر کون تھا؟ میاں محمد نوازشریف کے 

نزدیک پوری قوم اس سے آگاہ تھی اور اس کی پشت پناہی عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کو حاصل تھی یہاں تک کہ ان دھرنوں کے دوران ایک ایجنسی (آئی ایس آئی) کے سربراہ کا انہیں پیغام پہنچایا گیا کہ وہ (میاں نوازشریف) مستعفی ہو جائیں، اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلے جائیں۔ میاں محمد نوازشریف کے بقول ان کے لئے اس سے بڑھ کر دکھ کی اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ ان کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیراعظم (انہیں) مستعفی ہونے یا طویل رخصت پر چلے جانے کا پیغام بھیج رہا ہے۔ میاں محمد نوازشریف کا یہ مؤقف بھی رہا ہے کہ میں نے بطور وزیراعظم اپنے گھر کی خبر لینے، حالات کو ٹھیک کرنے اور خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی تو مجھے رکاوٹ ڈالنے والا سمجھ کر میرے اور میری حکومت کے خلاف ڈان لیکس جیسے ایشو کھڑے کر کے ان کو غیرمعمولی اہمیت اور تشہیر دی گئی۔

میاں محمد نوازشریف اور ان کے ہم نوائوں کے بظاہر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ سے موسوم اپنے مزاحمتی بیانیے پر کاربند رہنے کے حوالے سے اور بھی دلائل یا جواز ہو سکتے ہیں یا ہیں۔ تاہم جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتائج اور عمران خان کو بطور وزیراعظم برسراقتدار لانا ایک اور ایسا اہم معاملہ ہے جس کو بنیاد بنا کر میاں محمد نوازشریف، ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور دوسرے کئی اہم مسلم لیگی رہنما نہ صرف میاں محمد نوازشریف کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ سے موسوم مزاحمتی بیانیے پر چلنے اور قائم دائم رہنے کو اپنا اصولی اور جائز مؤقف گردانتے ہیں بلکہ بقول ان کے ’’سلیکٹڈ‘‘ وزیراعظم (عمران خان) کو ’سلیکٹ‘‘ کرنے والوں (عسکری قیادت یا اسٹیبلشمنٹ) کا ایسا قصور بھی سمجھتے ہیں جس کی بنا پر وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے نام لے لے کر ان پر تنقید کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

خیر یہ صورت حال کا ایک پہلو ہے جس کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تو اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ میاں شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان (جنہیں بعد میں مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی یا انہیں مسلم لیگ ن سے علیحدہ کر دیا گیا) سمیت مسلم لیگ (ن) میں کتنے ہی ایسے رہنما موجود تھے یا اب بھی موجود ہیں جو شروع سے ہی میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کے مزاحمتی بیانیے کو دل و جان سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اور اب بھی انہیں اس بیانیے کے حوالے سے کئی طرح کے تحفظات ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس بیانیے پر چل کر مسلم لیگ (ن) کا مستقبل محفوظ نہیں رکھا جا سکتا اور نہ ہی آئندہ کے لئے مسلم لیگ (ن) کی اقتدار کے لئے رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ان کے ان تحفظات کو یہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کہ ووٹ بینک میاں محمد نوازشریف کا ہے لہٰذا ان ہی کا بیانیہ یا مؤقف قابل قبول ہو سکتا ہے۔ مئی 2013ء میں مسلم لیگ ن کے بیانیے میں یکسوئی تھی تو پنجاب میں میاں شہباز شریف کی حکومت کی مثالی کارکردگی اس کا بڑا سرمایہ تھا۔ اس کے ساتھ اس کا اداروں کے ساتھ کسی طرح کا ٹکرائو نہیں تھا نتیجہ جس کا مسلم لیگ (ن) کی انتخابات میں کامیابی اور اس کے پنجاب میں دوبارہ اور مرکز میں بھی برسراقتدار ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔ جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے بیانیے میں یکسوئی اور اس کے قائدین کے اقوال و افعال میں ہم آہنگی کا فقدان تھا تو اداروں کے ساتھ اس کے قائدین کا کھلم کھلا ٹکرائو موجود تھا پھر اس کی اعلیٰ قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ بھی تھی اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگی حکومتوں کی اچھی کارکردگی کے باوجود وہ انتخابات میں اتنی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکی جس سے اس کے پنجاب اور مرکز میں برسراقتدار آنے کی راہ ہموار ہو سکتی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بن سکتی تھی لیکن اس کی اعلیٰ قیادت نے حکمت عملی سے کام لینے کی بجائے ٹکرائو کے لائحہ عمل کو جاری رکھا جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ تحریک انصاف پنجاب سمیت مرکز میں آسانی سے اپنی حکومتیں بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ حرف آخر یہ کہ مسلم لیگ (ن) ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ عوام میں اس کی حمایت اور ساکھ موجود ہے۔ لیکن انتخابات میں کامیابی کے لئے اتنا کچھ کافی نہیں اس کے لئے بیانیے کے حوالے سے یکسوئی اور کامل ہم آہنگی کے ساتھ اداروں سے ٹکرائو سے اجتناب، قائدین کی ذات پر شفافیت کے حوالے سے کسی طرح کا داغ نہ ہونا اور اسی طرح کی کچھ دوسری خوبیوں کا مالک ہونا اور لوازمات پر پورا اترنا بھی ضروری ہے۔


ای پیپر