Asif Anayat, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 جون 2021 (11:28) 2021-06-08

شاید 33 سال گزر گئے ہوں جب بھی کوئی قانونی کارروائی کے لیے درخواست لکھی ہے یا کسی دوست ، رشتہ دار واقف نے دکھ بیان کیا ہے تویہی کیا ہے کہ فلاں بندہ میرے پیسے دبا کر بیٹھ گیا۔ پنچایت ہو یا عدالت میں معاملہ ، دھوکہ دہی یا زبردستی کسی کی زمین ہتھیانے یا پیسہ دبانے کا ہی قصہ ہوا۔ موجودہ حکومت کا توخیر قانون سازی کی طرف رجحان ہی نہیں آرڈیننس جاری کر کے ضابطہ میں کچھ ایسا بندوبست کیا جا سکے کہ لوگوں کے دبائے ہوئے پیسے اور ناجائز قبضہ شدہ جگہ واپس دلائی جا سکے۔ کبھی جب کسی حکمران یا خاندان کا دور پڑھتے تو باقاعدہ ایک باب اس کے کارناموں پر محیط ہوتا ، ایٹمی توانائی، ایٹمی قوت، میزائل پروگرام ، خارجہ پالیسی، آئین سازی، اسلامی کانفرنس ،سکولوں ، کالجوں اور میڈیکل کالجوں کے علاوہ ہسپتالوں وغیرہ جیسے کارنامے جناب بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو حکومت جبکہ سڑکیں انفراسٹرکچر ، ایٹمی دھماکے، میاں نواز شریف، شہباز شریف کے کھاتے میں ہیں۔ تنقید کے بھی بہت سے پہلو ہیں مگر اس وقت چند مثبت پہلو پر طائرانہ نظر ماری جائے گی۔ اسی طرح موجودہ حکومت کے کارناموں میں اپنے علاوہ سب کو چور، ڈاکو، ملزم، مجرم، بھگوڑے، غدار کہنا اور سابقہ حکومتوں کے کھاتے میں مغلیہ دور کی کوتاہیاں بھی ڈال دینا البتہ مارشل لاء کے ادوار کو بڑی چابکدستی سے باہر رکھا جانا  احتساب کے نام پر انتقام، کینہ، منفی اقدامات اور تاریخی قرضے بھی موجودہ حکومت کا خاصہ ہے۔ وزیراعظم اپنے بہنوئی کا ایک پلاٹ دلواسکے ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو احساس کا نام دے سکے یا سابقہ حکومتوں کے منصوبوں پر تختیاں لگانے کے علاوہ ایک عورت کو ٹی وی پر درخواست کرنے سے اس کے 5 لاکھ دلوا سکے ۔ ایسے کاموں کے لیے سستی شہرت نہیں بلکہ قوانین بنائے اور اپنائے جاتے ہیں۔ یہ کام تو میرے جیسا کمزور آدمی درجنوں لوگوں کے کرا چکا بلکہ لاہور پولیس نے جو قبضہ گروپ وغیرہ کی لسٹ جاری کی اس میں ڈان کے طو رپر لاہور کے خواجہ عقیل احمد (گوگی بٹ) کا نام سب سے اوپر لکھا گیا (وہ لسٹ عدالت عالیہ میں چیلنج ہو چکی) جبکہ بٹ صاحب ایسی نیکیاں بغیر تشہیر کے عمر بھر کرتے رہے ہیں۔ ان پر دشمنی کی بنا پر جو مقدمات ہوئے وہ دس سال پہلے ختم ہو گئے ۔ ہر مقدمہ میں باعزت بری ہوئے۔ اب وہ ایک صوم الصلوٰۃ کے پابند اور عاشق رسول آدمی کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ دشمنی کی بنا پر گارڈز رکھنا پڑتے ہیں۔ ا نتخابات سے پہلے بٹ صاحب کو بااثر دوستوں نے کہا آپ عمران خان کے تاجروں کے 

جلسے میں آئیں انہوں نے انکار کیا سیاست سے کچھ واسطہ نہیں مگر ایک دوست کے مشورے پر وہ عمران خان کے جلسہ میں آگئے۔ لوگوں نے عمران خان کی نسبت ان سے زیادہ سیلفیاں بنوائیں۔ اس جلسہ کی تصویریں سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی نے وائرل کر دیں اور الٹے پاؤں دھمال ڈالی کہ گوگی بٹ ہمارے جلسے میں آئے ہیں۔ اس جلسہ کے بعد وہ پھر اپنی معمول کی زندگی گزارنے لگے۔ گوگی بٹ پر ان کی پوری زندگی میں ایک بھی ناجائز قبضہ، بھتہ خوری ، ناجائز فروشی اور کسی کی ایک انچ زمین پر قبضہ کا کوئی ایک مقدمہ نہیں ہے۔ صحافی، دانشور، جج، بیوروکریسی کو میں سمجھتا ہوں کہ اگر جانبدار ہوں تو معاشرہ نہیں چل سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر حکمران جانب دار، منتقم المزاج اور شہرت کا متمنی ہو تو پھر عوام رل جاتے ہیں۔ لاہور پولیس نے جو لسٹ جاری کی ہے وہ متنازع ہے،اس میں کسی پولیس والے کا ذکر بھی نہیں ہے۔ اور پھر لاہور کے علاوہ پنجاب میں جرائم نہیں ہوتے وہاں کی لسٹیں کون جاری کرے گا؟ گوگی بٹ پر جو پہلی حالیہ ایف آئی آر کٹی ایک تو ان پولیس والوں کو 15 پر کال وصول ہوئی اور یہ پولیس اتنی جابکدستی سے لسٹ کے مطابق لاہور کے سب سے بڑے ’’ڈان‘‘ کے گھر کو ڈیرہ ظاہرکرکے سول کپڑوں میں ریڈ کرنے نکلی۔ ایف آئی آر کے مطابق درجنوں پولیس والے تین اشتہاریوں کو پکڑنے جاتے ہیں آگے اندھا دھند فائرنگ ہوتی ہے یہ شور مچاتے ہیں کہ ہم پولیس والے ہیں وہ فائرنگ بند کرتے ہیں تو یہ ’’بہادر‘‘ پولیس ان کو دبوچ لیتی ہے اوراشتہاری فرار ہو جاتے ہیں جبکہ ایف آئی آر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ باہر کے گارڈ کو دبوچ کر رات 12 بجے سیڑھی لگا کر چڑھتے ہیں اور ان کے طالب علم کم سن بیٹے کو حراست میں لے لیتے ہیں۔ بٹ صاحب اطلاع ملنے پر گھر کے نچلے پورشن پر آتے ہیں۔ اپنے طالب علم بیٹے اور اس کے دوست کو چھوڑنے کاکہہ کر گرفتاری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے اطلاع تھی آپ نے حکومت کو کارروائی دکھانی ہے ورنہ مجھ پر کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ دراصل خواجہ عقیل احمد بٹ عرف گوگی بٹ لاہور کی مقبول ترین شخصیت ہیں۔ آج وہ جھوٹے مقدمات میں جیل میں بند ہیں ۔ پورے لاہور کے لوگوں میں جس سے پوچھیں وہ یہی کہے گا کہ جعلی مقدمے ہیں ۔ ایف آر کے حوالے سے مجھے سب سے زیادہ حیرت ہوئی کہ اردو ادب یا پنجابی ادب اتنا غریب ہو گیا کہ غیر استعمال شدہ گولی کو زندہ گولی لکھے اور حالانکہ چلی ہوئی گولیوں سکے یا خول کا ذکر آتا ہے اور یا پھر گولیاں جس سے مراد ہی غیر استعمال شدہ گولیاں ہوتی ہیں۔ 

عدالتی حکم ہے کہ اگر پولیس یونیفارم میں نہیں ہے تو اس پر حملہ آور کار سرکار میں مداخلت کا مرتکب اور پولیس مقابلے کا مرتکب نہیں ہو گا۔ پولیس یونیفارم میں ریڈ کرے گی۔ ایف آئی آر کے مطابق جن تین اشتہاریوں کی اطلاع تھی وہ تو فرار ہو گئے اور ان کے نام پتے بھی لکھے ہیں کیا لاہور پولیس نے گوگی بٹ کی گرفتاری کے بعد ان اشتہاریوں کے گھر پر یا ان کی گرفتاری کے لیے کوئی ایک ریڈ بھی کیا ہے بلکہ اس کے بعد گوگی بٹ پر جھوٹے مقدمے بنتے چلے گئے جو عدالت میں جا کر مٹی ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان نے بھی روایت مگر بدترین روایت کو اپناتے ہوئے حکومت کرنا ہے تو پھر تبدیلی میرے خیال سے صرف ماہ و سال کی تبدیلی ہے۔ 

اگر معاملہ عدالت میں نہ ہوتا تو میں اس ایف آئی آر کی دھجیاں ادھیڑ دیتا ۔ شاید پورے برصغیر میں کوئی وکیل ، جج صاحب، ملزم حتیٰ کہ منشی بھی یقین نہ کرے جبکہ مہذب دنیا میں تو پولیس پارٹی کو ہی مقدمہ کاسامنا کرنا پڑ جائے۔ گوگی بٹ پر ایف آئی آر سے مجھے حبیب جالب کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک دفعہ ان پر شراب کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ مجسٹریٹ نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر الزام ہے کہ فلاں وقت فلاں دن فلاں جگہ پر آپ سے شراب کی بھری ہوئی بوتل برآمد ہوئی ہے۔ اب حبیب جالب بھی جالب تھے شراب نوشی سے انکار نہیں کر سکتے مگر مقدمہ جھوٹا تھا۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جناب شراب کی بوتل اگر آدھی ، کوارٹر یا تھوڑی سی ہوتی تو میں مان لیتا مگر شراب کی بوتل بھری ہو اور جالب سے برآمد ہو ممکن نہیں۔ اسی طرح گوگی بٹ کے گھر ریڈ پر پولیس نے جتنی فائرنگ اور دیواروں سے پیچھے چھپ کر لیٹ کر جانیں بچائیں، اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو پھر ایف آئی آر دوسری پولیس پارٹی آ کرلکھواتی یہ نہ لکھوا پاتے کیونکہ یہ سول کپڑوں میں تھے اور گوگی بٹ دشمن دار لہٰذا اس واقعہ کا وجود سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی ایسی حکومت ہے کہ جس پر بھی مقدمہ قائم ہو عوام پکار اٹھتے ہیں مقدمہ بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔ وہ مقدمہ رانا ثناء اللہ پر ہو، فریال تالپور، احسن اقبال پر ہو، جاوید لطیف پر ہو یا پیپلزپارٹی کے کسی لیڈر پر حتیٰ کہ گوگی بٹ کے لیے بھی لاہور کے ہر علاقے سے یہی آواز ہے کہ بٹ صاحب پر مقدمے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ جب کسی حکومت کی ساکھ راکھ میں بدل جائے اس کو اپنے رویے اور طرز حکمرانی پر غور کرنا چاہیے۔ 


ای پیپر