Shakeel Amjad Sadiq, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 جون 2021 (11:26) 2021-06-08

اپنی وفات سے قبل، ایک والد نے اپنے بیٹے سے کہا:’’ میری یہ گھڑی میرے والد نے مجھے دی تھی جو کہ اب 200 سال پرانی ہو چکی ہے لیکن اس سے پہلے کہ یہ میں تمہیں دوں کسی سنار کے پاس اس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ پھر دیکھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتا ہے‘‘۔

بیٹا سنار کے پاس گھڑی لے گیا۔ واپس آ کر اس نے اپنے والد کو بتایا کہ سنار اس کی 25 ہزار قیمت لگا رہا ہے کیونکہ یہ بہت پرانی ہے۔ 

والد نے کہا کہ اب گروی رکھنے والے کے پاس جاؤ۔ بیٹا گروی رکھنے والوں کی دکان سے واپس آیا اور بتایا کہ گروی رکھنے والے اس کی 15 سو قیمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ استعمال شدہ ہے۔

اس پر والد نے بیٹے سے کہا کہ اب عجائب گھر جاؤ اور انہیں یہ گھڑی دکھاؤ۔ وہ عجائب گھر سے واپس آیا اور پرجوش انداز میں والد کو بتایا کہ عجائب گھر کے مہتمم نے اس گھڑی کی 8 کروڑ قیمت لگائی ہے کیونکہ یہ بہت نایاب ہے اور وہ اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر والد نے کہا:’’ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحیح جگہ پر ہی تمہاری صحیح قدر ہو گی۔ اگر تم غلط جگہ پر بے قدر کئے جاؤ تو غصہ مت ہونا۔ صرف وہی لوگ جو تمہاری قدر پہچانتے ہیں وہی تمہیں دل سے داد دینے والے بھی ہوں گے۔ اس لیے اپنی قدر پہچانو، اور ایسی جگہ پر مت رکنا جہاں تمہاری قدر پہچاننے والا نہیں‘‘۔

ہمیں یہ اب جان لینا چاہیے کہ کسی بھی شے کے انتخاب میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ پچھتاوے بعد میں تنگ کرتے ہیں۔ویرانی دشت میں ہو یا گھر میں ،دل اس کا مسکن ٹھہرے یا ملک دل اور دماغ میں جنگ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔حکومت صوبائی ملازمین کو عرصہ دراز سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کرایک نیا لولی لوپ دیتی رہی۔ بالآخر کفر خدا خدا کرکے ٹوٹا اور صوبائی حکومت اپنے ملازمین کو اپنے کمی کمین یعنی اساتذہ کو ڈسپیریٹی الاؤنس دینے پر رضا مند ہوگئی۔حکومت کے اس اعلان پر اساتذہ کرام نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ چلیں بڑھتی ہوئی اس مہنگائی میں ہماری مجروح ہوتی ہوئی عزت نفس ذرا بحال رہے گی۔اس الاؤنس کا بنیادی مقصد وفاق اور صوبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں زمین اور آسمان جتنا پایا جانے والا فرق افق تک تو نہیں آئے گا مگر ذرا کم ضرور ہو جائے گامگر صوبائی حکومت کے ممبران اور بیوروکریسی نے اساتذہ کے وقار اور عزت کو صرف 2017ء کی بنیادی تنخواہ پر سپیشل الاؤنس لگا کر مجروح کر دیا۔یہ اضافہ گریڈ ایک کے ملازمین سے لے کر گریڈ 19کے ملازمین کی تنخواہوں میں صرف مبلغ 4ہزار روپیہ نصف جن کا دو ہزار ہوتا ہے سکہ رائج الوقت کی صورت ہو گا۔ اسے کہتے ہیں بائیں دکھا کر دائیں مارنا۔۔۔ تنخواہوں میں یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے برابر بھی نہیں ہے۔اس اضافے سے وفاق اور صوبوں کے ملازمین کی تنخواہیں برابر تو نہیں ہوں گی بلکہ صوبائی ملازمین سے گھناؤنا مذاق ضرور ہے۔بقول جاوید رامش یہی کہہ سکتے ہیں :

کشکول کچھ بھرا تو سخی بانٹنے لگا

دو چار روٹیاں بھی غریبان ِ شہر میں

ہر دور کی موجودہ حکومت اگلے 5 سال کا خواب صرف اس وقت دیکھتی ہے۔ جب وہ عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اپنے ملازمین کی معاشی حالت کا خاص خیال رکھتی ہے۔اس کی سفید پوشی کا بھرم نہیں ٹوٹنے دیتی۔جب کسی بھی محکمے کے ملازمین کو 2 وقت کی روٹی کے لالے پڑ جائیں تو وہ ملازمین پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے غیر ذمہ دار ،بے ایمان،کام چور اور راشی ہو جاتا ہے۔اسی طرح ادارے تباہی کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور آنے والی نسل اپنے پرکھوں کی ڈگر پر چل نکلتی ہے اور پھر ملک تباہی کے دھانے پر آ کھڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب ہے۔ ملک عزیز کے علاوہ ہر قوم اور ہر معاشرہ اساتذہ کے احترام کو فوقیت دیتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے اپنے اساتذہ کو معمارِ قوم نہیں مزارع قوم سمجھتے ہیں۔کوئی ایک بیوروکریٹ ،کوئی ایک سیاستدان،کوئی جرنیل،کوئی وکیل اور جج ،کوئی پولیس آفیسر یا کوئی ڈاکٹر یہ باور کرا دے کہ اس نے یہ مقام بغیر استاد کے پایا ہو۔(اس طبقے کی اساتذہ کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی، بے رخی اور احسان فراموشی ہے)۔استاد وہ نایاب گھڑی ہے جس کی قیمت انداز لگانا ہے تو صرف لفظ ’’اقراء‘‘ پڑھانے والے کے معانی و مطالب اور پس منظر سے لگا لیجیے۔ آپ کو اساتذہ کی تعظیم کا اندازہ ہو جائے گا۔ 


ای پیپر