کرونا کی طرح تباہیاں پھیلاتا ٹڈی دل ،وبال جان
08 جون 2020 (23:52) 2020-06-08

محمد منیرالدین

جس طرح کرونا کی وبا عالم انسانیت کے لئے ایک وبال بنی ہوئی ہے اسی طرح ٹڈی دل کا مسئلہ کھڑی فصلوں کے لئے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں،ٹڈی دل کا مسئلہ اب صرف کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ اس نے پاکستان، ایران، بھارت اور کئی دوسرے ممالک کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔عالمی اور قومی سطح پر اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر مربوط اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل قریب میں کئی ممالک میں غذائی اجناس کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے اور صورتحال قحط سالی کی جانب بھی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں زرعی اجناس پیدا کرنے والے بہت سے علاقوں کو ٹڈی دل کے خطرے کا سامنا ہے جن میں پنجاب اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ کا وسیع زیر کاشت علاقہ بھی شامل ہے۔ حکومت سندھ حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ اس سنگین مسئلے کی جانب وفاقی کی توجہ مبذول کراچکی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل نے ایک بار پھر صوبے میں کھڑی فصلوں پر حملے شروع کردیئے ہیں ۔انہوں نے حال ہی میں وفاقی حکومت سے مزید6 ائر کرافٹ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ صحرائی علاقوں میں اسپرے کیا جا سکے۔ سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے بھی ٹڈی دل کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کئی مرتبہ وفاق سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے پر جلد از جلد توجہ دی جائے بصورت دیگر غذائی تحفظ کا مسئلہ ناگزیر ہوجائے گا۔ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر گھوٹکی اور کشمور اضلاع اپریل2020ء میں ٹڈی دل سے متاثر ہوئے تھے ‘ زیادہ تر صحرائی علاقوں کو خطرہ لاحق تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹڈی دل بلوچستان سے آئے تھے اور اس نے جیکب آباد ، لاڑکانہ، قنبر شہدادکوٹ، جامشورو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دوسرے اضلاع تک کا سفر کیا۔ اس وقت سندھ کا محکمہ زراعت فصلوں کے ساتھ ساتھ صحرائی علاقوں میں بھی سروے اور کنٹرول آپریشن کر رہا ہے۔ سیکرٹری زراعت رحیم سومرو نے بتایا ہے کہ این ڈی ایم اے اور ڈی پی پی نے کنٹرول ٹیم کے لیے استعمال ہونے والی28 ٹیموں کو سیفٹی کٹس فراہم کی ہیں‘ اسپرے گاڑیوں کے ساتھ 5 ٹیمیں تعینات کی گئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یکم مئی2020ء کو وزیر اعظم کو خط لکھا جس میں 6 ہوائی جہاز ، یو ایل وی اسپریئر ، کیڑے مار ادویات و دیگر آلات کی درخواست کی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے۔ حکومت سندھ نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ مزید 6 ائر کرافٹس اور مطلوبہ کیڑے مار دوا اور ٹیمیں بھیجے تاکہ خریف کی فصلوں کی بوائی سے پہلے ٹڈیوں پر قابو پایا جاسکے۔پاک فوج بھی اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے حکومت سندھ کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کا آنے والے دنوں میں خطرہ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے اور قومی امکان ہے جون کے شروع میں ہمسایہ ملک ایران کے علاقوں فارس، جسک اور سیستان سے ٹڈی دل کا رخ پاکستان کی طرف ہو گا‘ اس لئے ضروری ہے کہ ٹڈیوں کی نقل مکانی کے دوران کنٹرول آپریشن تیز کیا جائے ۔محکمہ موسمیات نے ملک کے بہت سے حصوں کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی بڑے پیمانے پر بارشوں کی پیش گوئی کردی ہے۔ برسات کا موسم ٹڈی دل کے پھیلائو اور ان کی افزائش نسل کے لئے بہت زیادہ سازگار سمجھا جاتا ہے سندھ حکومت نے بارشوں کے پیش نظر ٹڈی دل کے خاتمے کیلیے 98 فلیڈ ٹیموں کی ڈیوٹیاں لگادی گئی ہیں. انہوں نے کہا کہ بارشیں ہونے سے ٹڈی ریگستانی علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔بارش پڑنے کے بعد نرم زمین پرٹڈی دل 1 اسکوائر میٹر تک ایک ہزار انڈے دے سکتی ہے, تیز بارشیں ٹڈیوں کی افزائش کے لئے ریگستانی علاقوں میں سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں.صوبائی وزیرنے کہا کہ محکمہ زراعت کی ٹیمیں دن رات کام کررہی ہیں, ریگستانی علاقوں میں سروے ٹیمیں الرٹ ہیں, سروے اور مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے ۔سندھ حکومت کی جانب سے متاثرہ فصلوں پر اسپرے مہم جاری ہے،گزشتہ دو روز کے دوران صوبے کے 12 متاثرہ اضلاع میں 8448 ہیکٹرز پر اسپرے کرکے ٹڈی دل کا خاتمہ کیا گیا, سندھ میں 63 لاکھ 50 ہزار سے زائد فیلڈ ٹیموں نے سروے کیا اور 27 ہزار 433 ہیکٹرز پر اسپرے کیا گیا جن میںبدین، گھوٹکی، خیرپور، سانگھڑ، نوشہروفیروز، سکھر، شہید بے نظر آباد (سابقہ نوابشاہ )کشمور، ٹنڈواللہیار، مٹیاری، دادو اور جامشورو م شامل ہیں۔سندھ کی حکومت اس کے وزراء،کاشتکار اورزرعی شعبہ سے متعلق تنظیمیں ٹڈی دل کے بڑھتے ہوئے خطرے پر مسلسل تشویش کا اظہار کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام منتظر اس بات کے منتظر ہیںکہ وفاق ٹڈی دل کہ خاتمے کیلیے کب عملی اقدام اٹھائے گا؟سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے حال ہی میں وفاقی حکومت کے رویہ پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو اگر سیر سپاٹوں سے فرصت ملی ہو تو ٹڈی دل پر بھی ایکشن لیں, وفاقی حکومت نے ابھی تک سندھ میں فضائی اسپرے شروع نہیں کرایا۔سندھ میں ٹڈی دل کے مسئلے پر صرف صوبائی حکومت پریشان نہیں ہے بلکہ صوبے کی اپوزیشن کے وہ بڑے سیاستداں بھی فکرمند ہیں جن کی بڑی زمینداری ہے اور وہ ہر سال ہزاروں ایکٹر اراضی پر مختلف اجناس اگاتے ہیں۔ سندھ کے معروف سیاستداں پیر صاحب پگارا کا شمار بھی بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں کے باعث ان کی زیر کاشت اراضی پر فصلوں کی پیداوار میں پندرہ سے سولہ فیصد کمی آگئی ہے اور ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے اگراس معاملے پر توجہ نہ دی گئی تو صورتحال اندازوں سے کہیں زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔آج صورتحال بے قابو ہوتی نظر آرہی ہے اگرٹڈی دل کو قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے بروقت اقدامات کرلئے جاتے توشاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔اس حوالے سے ہم بہت سا قیمتی وقت گنواچکے ہیں۔ اس سال 17اپریل کو وزیراعظم کی زیرِصدارت ایک اہم اجلاس ہوا تھا۔ اس موقع پر عمران خان نے کروناوائرس کے بعد ٹِڈّی دَل کو ملک کا اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اس پر قابو پانے اور خاتمے کے لئے مکمل تیاری کی جائے ۔کسی کو نہیں معلوم کہ اس ہدایت پر کس حد تک عمل درآمدکیا گیا؟۔ سندھ میں کاشتکاروں کی مختلف انجمنوں کا کہنا ہے کہ خیرپور کے بعد اب ٹڈی دل نے دیگر اضلاع کا رخ کرلیا ہے۔ خطرناک ٹڈیاں خیرپور، نوابشاہ، سانگھڑ، جامشورو اور مٹیاری میں پہنچ گئیں اورکھیتوں اور بیابانوں میں بسیرا کرلیاہے۔بڑی بڑی ٹڈیوں نے ان اضلاع میں کاشت کی گئی مختلف فصلوں پر حملہ کرکے تباہی مچادی ہے۔ مختلف اضلاع میں آم اور کیلے کے باغات پر ٹڈیوں کے حملے سے کاشتکار پریشان شدید پریشان ہیں۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل نے حملہ کرکے کپاس اور گنے کی فصلوں کو اجاڑنا شروع کردیا ہے۔ مختلف شہروں میں سبزیوں کے کھیت بھی ٹڈیوں کی زد میں آگئے ہیں۔ کاشت کاروں نے شکایت کی ہے کہ سندھ حکومت ٹڈی دل کے حملے سے تاحال لاتعلق دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ نے صرف خیرپور میں ٹڈیوں کی آمد کے متعلق وفاق سے رابطہ کیا تھا۔محکمہ زراعت سندھ نے ٹڈی دل کے حملے کے تدارک کے لیے از خود کوئی پیش رفت نہیں کی۔تاہم سرکاری زرائع سے یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ جامشورو ضلعی انتظامیہ نے مانجھند اور تھانہ بولا خان میں سروے کا اعلان کردیا ہے۔ان اضلاع میں زمیندار، آبادگار اور کاشتکار ٹڈیوں کے آگے بے بس دکھائی دیتے ہیں اور وہ روایتی طریقوں سے ٹڈیوں کو بھگانے میں مصروف عمل ہیں۔سندھ آبادگار بورڈ نے ٹڈیوں کے حملے پر تشویش ظاہر کردی ہے۔ نائب صدر آباد گار بورڈ محمود نوا زشاہ کا کہناہے کہ ٹڈیوں نے تباہی مچادی ہے مگر محکمہ زراعت ابھی تک نیند میں ہے۔سندھ آباد گار بورڈ نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹڈی دل کے اس خطرناک حملے کے تدارک کے لیے کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا ہے کہ ٹڈی دل کا وقت پر تدارک نہ کیا گیا تو کیلے ،کپاس اور سبزیوں کی فصلوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا اور صوبے کی معیشت تباہ ہوجائیگی۔واضح رہے کہ ملک بھر میں ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے کے بعد محکمہ زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور پاک آرمی نے مشترکہ طور پر ٹڈیوں کے خاتمے کیلئے کنٹرولڈآپریشن شروع کررکھا ہے۔ اب تک ملک کے 61 اضلاع میں ٹڈی دل نے حملے کرکے فصلوں کو شدید نصان پہنچایا پے۔ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناکافی اقدامات کے باعث کسان شدید گرمی کے باوجود ہاتھوں میں تھال اور پلاسٹک کی بوتلیں لیے اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیاں بھگانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر