گل ود ھ گئی اے
08 جون 2020 (23:49) 2020-06-08

احمد قریشی

قطر سے طالبان نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں منفی کردار ادا کیا ہے ، ہم منفی کردار ادا کرنے والوں کو سبق سکھانے جا رہے ہیں ، اب یہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہو جائیں ،اس بیان کے بعد این ڈی ایس ، را کے ٹھکانوں پر غزنی ، قندھار ، قندوز ، ہلمند ، فرا ، میں کئی فوجی چوکیوں پر حملہ کر کے افغان طالبان قبضہ کر چکے ہیں۔

اشرف غنی ، عبداللہ عبداللہ اسی لئے فوری طورپر اتحادی حکومت تشکیل دے رہے ہیں تاکہ افغان طالبان کیخلاف لائحہ عمل تیار ہو،افغان طالبان نے ایک بڑی فوج تیار کرلی ہے ، جو کابل پر حملے کیلئے کسی بھی وقت لانچ کی جا سکتی ہے ، ابو بکر صدیق سینٹر سے فوج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تصاویر جاری کی جا چکی ہیں ، اس فوج کا نام غزنوی لشکر رکھا گیا ہے ، محمود غزنوی کے نام پر جس نے بھارت پر سترہ بار حملے کئے ، اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی ، انڈیا بہت پریشان ہے، اپنے میڈیا سیلز سے جھوٹی خبریں چلا کر شور مچآ رہا ہے ، شیر آیا ، شیر آیا کے مصداق ہے۔بھارت کی یہ بھی کوشش ہے کہ کشمیر ، افغانستان سے پاکستان کا پانی بند کیا جائے ، جونہی پاکستان حکومت نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا ، بھارتی ، پی پی ، سندھ قوم پرست جماعتوں کا پروپیگنڈہ سوشل میڈیا پر شروع کر دیا گیا ہے،ڈیم گلگت بلتستان میں بن رہا ہے ، کالا باغ ڈیم کے بعد سندھ کو بھاشا پر بھی اعتراض شروع ، دریائے سندھ کا پانی کم ہو جائے گا۔

ان جماعتوں کے را کیساتھ خفیہ تعلقات اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ،انڈیا پاکستان کو بنجر دیکھنے کا خواہشمند ہے ، دریائے کابل ، کشمیر میں ڈیمز بنا بنا کر پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش جاری ہے،بھارت نے چین سے کہا ہے کہ اگر چین چاہتا ہے کہ بھارت تائیوان کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کمیٹی کا ممبر نہ بنائے اور چینی یونٹ تسلیم کرے ، تو پہلے چین ، پاکستانی مظفر آباد ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر کو انڈیا کا یونٹ تسلیم کرے، تب بھارت ، تائیوان کو چینی یونٹ تسلیم کرے گا ، دوسری طرف امریکہ ، اسرائیل کو چین سے دوستی ختم کر کے امریکہ کا بھرپور ساتھ دینے پر آمادہ کر رہا ہے ، بدلے میں گریٹر اسرائیل بنانے میں بھرپور مدد کی پیشکش، یہ انتہائی اہم ڈیویلپمنٹس ہیں اب جبکہ WHO کا چیئر پرسن بھارت بننے جا رہا ہے ، کرونہ پھیلاؤ کے تمام الزامات چین پر عائد کئے جائیں گے ، امریکہ ، چین جنگ تمام عالمی اداروں کیمطابق تیار ہے ، جبکہ ٹرمپ کو واشنگٹن پوسٹ ، نیوز ویک ، پینٹاگون رپورٹس کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا ہے ، چین سے جنگ نہیں کرنی ، امریکہ کی برے طریقے سے شکست کنفرم ہے ، ادھر انڈیا خود پر جعلی حملہ کروانے کے چکروں میں ہے یا پاکستان پر حملہ کرنے کے چکر میں،چینی سفیر کا تل ابیب ( اسرائیل ) میں اپنے گھر میں مردہ پایاجانا ، دل کا دورہ بتایا جا رہا ہے ، اس پر ( یہودی ربیوں کے ماضی کے بیانات چین کی تباہی ، یہودیوں کا عروج ہو گا )۔

اس تمام صورت حال کا چین خاموشی سے جائزہ لے رہا ہے ، چینی تفتیشی ٹیمیں اسرائیل پہنچ چکی ہیں ، اگر اس موت کے پیچھے سی آئی اے ، موساد کا ہاتھ نظر آ گیا تو دنیا میں طوفان آ جائیگا۔یورپ ، اٹلی کی پارلیمنٹ سے بل گیٹس کیخلاف آواز اٹھ چکی ہے ، دنیا کے سب سے بڑے قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، عمران خان کو اب نا تو دوبارہ بل گیٹس سے بات کرنے کی ضرورت ہے ، نا امداد لینے کی ۔ ریاست پاکستان فیصلہ کر چکی ہے ، ڈیم ، سی پیک ، گوادر ، پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ، عمران خان ، جنرل عاصم باجوہ میٹنگز ، دیگر اہم اجلاسوں سے رزاق داؤد ، حفیظ شیخ ، ڈاکٹر ظفر مرزا کو دور رکھا جا رہا ہے ، حکومتی مشینری میں اہم تبدیلیاں جاری ہیں ۔ چین نے لداخ کے 40 فیصد علاقے پر قبضہ کرلیا ہے اور مزید پر بھی کرے گا،بھارت نے آنکھیںدکھانے کی کوشش بھی کی تو چین نے آرٹلری، گن شپ ہیلی اور دیگر وہ چیزیںلا کھڑی کی ہیں جو بھارت سوچ بھی نہیں سکتا ، چین کے ارادے بڑے دور تک کے ہیں،آنے والا وقت بھارت کے لئے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں بس دیکھتے جائیں، رہی بات پاکستان کی تو جہاںسے ہمارے دشمنوںکی سوچنے کی حد ختم ہوتی ہے پاکستان وہاں سے ابتدا کرتا ہے۔ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد بھی بیوقوف جذباتی پاکستان کو کوس رہے تھے کہ پاکستان نے اپنے مسلم پڑوسی افغانستان کی مدد نہیں کی وغیرہ وغیرہ پر پھر دنیا نے دیکھا کہ روس خود چیخ اٹھا کے سوویت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کے وہ گمنام مجاہد ہیں جنکی مکمل حمایت افغان مجاہدین کے ساتھ تھی، اور آج امریکہ بھی اپنی شکست پر ایک طرف افغان مجاہدین سے جان بخشی کی بھیک مانگ کر نکل رہا ہے اور ساتھ میں ماتم کر رہا ہے کہ افغان مجاہدین کی پشت پر پاکستان کی مکمل حمایت ہے۔

سپر پاور امریکہ بھی دوران جنگ کچھ نہ سمجھ سکی۔ایک طرف چین نے لڑائی شروع کر دی ہے اور دوسری چوکیاں تعمیر کرنا شروع کر دیں دوسری طرف کشمیری مجاہدین نے انڈیا کیخلاف جہاد شروع کر دیا مودی سرکار صدمے سے دو چار بھارت کے چودھراھٹ کے خواب چکنا چور امریکہ کا بھارت کو کرارا جواب،چین نے کئی کلومیٹر لداخ میں پیش قدمی کر کے مستقل مورچے بنالئے ۔چین کی فوج لداخ کے متنازع علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، چین نے لداخ ریجن میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا، بھارتی میڈیا نے شکست فاش پر چپ کا روز رکھ لیا۔

بھارتی فوج کو لداخ میں ہونے والی مسلسل جھڑپوں میں چین کے ہا تھوں شدید مذمت کاسامنا کرنا پڑا جس کے بعد مودی سرکار نے چین کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلی۔بھارتی میڈیا لداخ میں ہونے والی شکست پر اس قدر حواس باختہ ہے کہ اُس نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے منسوب کرکے جھوٹا بیان چلانا شروع کردیا۔یاد رہے کہ بھارت نے رواں سال کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد لداخ کے متنازع علاقے کے ساتھ بھی کھیلنے کی کوشش کی تھی جس پر چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور سکم بارڈر پر مزید فوجی تعینات کیے۔کشمیر میں داخل ہونے کے لئے گورداسپور سے ہوتے ہوئے پٹھان کوٹ سے گزرنا پڑتا ہے یہ ایک ایسا کوریڈور ہے جہاں پٹھان کوٹ بیس واقع ہے۔جنگ کی صورت میں پاکستان کی طرف سے نصر مزائیلوں کی بارش اس راستے کو مکمل طور پر غیر محفوظ بنا کر رکھ دے گی جس کے بعد مقبوضہ کشمیر انڈین فوج کا قبرستان بن سکتا ہے۔

دوسری طرف حالیہ ہونے والی انڈو چین جھڑپ میں سکم کے علاقے میں چند کلومیٹر اندر آنے پر انڈیا کا وہ کوریڈور آتا ہے جسے فوجی زبان میں مرغی کی گردن سے تشبیہ دی جاتی ہے جہاں ہونے والی چھوٹی سی جھڑپ بھی انڈیا کو اس کی سات ریاستوں سے زمینی طور پر مکمل کاٹ کر رکھ دے گی۔نتیجہ آسام، منی پور اور ناگا لینڈ کے فریڈم فائٹر انڈین فوج کو کتوں کی طرح بھگا بھگا کر مار سکتے ہیں چائنا کی طرف سے سرگرم کئے جانے والے صرف دو پوائنٹس نے انڈیا کی سالوں کی محنت پر صرف دو دنوں میں پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔

چین نے لداخ اور سکم کی سرحد پر مزید 5 ہزار فوجی تعینات کردیے اور واضح کیا کہ بھارت نے متنازع علاقہ کا اسٹیٹس یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی چین کی فوج نے لداخ اور سکم کے قریب زیر زمین بنکرز بھی بنانے شروع کردیے جبکہ وادی گالوان کے اطراف میں چینی فوج کے 8 سو خیمے نصب کیے جاچکے ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا تھا تو اس دوران چینی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار بھی کیا جسے مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا۔

بھارتی آرمی چیف نے فوجی دستے کی گرفتاری کو بھارت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا تھا۔ چین نے کہا ہے کہ بھارت نے سکم اور لداخ میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، اگر اس طرح کی خلاف ورزی دوبارہ کی گئی تو بھارت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لداخ، سکم اور وادی گولوان میں جہاں بھارتی فوج موجود تھی وہاں کا کنٹرول اب چینی فوج کے پاس ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو شروع ہوا تھا جس کے بعد چینی فوج نے بھارت کو ہر موڑ پر ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔

گیلون ندی ( لداخ ) سمیت تین مختلف مقامات پر چینی فوج پانچ کلومیٹر تک لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے آگے مورچہ بند ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ بھارتی میڈیا کی طرف سے جاری کردہ سیٹ لائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف گلون ندی کے مقام پر بہت سے ٹرک دیکھے گئے ہیں ۔ تینوں پوزیشنز پر ٹینٹ کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تین سے پانچ ہزار چینی فوجی اس وقت بھارت کے زیر قبضہ لداخ میں داخل ہوچکے ہیں۔ چین کا لداخ میں متنازع ایریا کا کنٹرول حاصل کر لیا، سکم بارڈر پر بھی مزید فوج تعینات، بھارت بھیگی بلی بن گیا۔ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر بڑھ چڑھ کر ظلم کرتی ہے لیکن چینی فوج کے سامنے بھیگی بلی بن چکی ہے۔ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کے مسلسل اضافے سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ چکے ہیں۔ سرحد پر چینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین فوج زمین دوز بنکر بھی بنا رہی ہے۔ چین کا کہنا ہے بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔ چینی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار کر لیا جسے بعد میں رہا کر دیا گیا۔ بھارتی آرمی چیف نے اسے شدید جھٹکا قرار دیا۔ بھارت نے سکم اور لداخ میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی۔ بھارت نے متنازع علاقہ کا سٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھارتی میڈیا نے ایسی تصاویر جاری کیں ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں پہلے ہندوستانی فوج موجود تھی، وہاں اب چینی فوج موجود ہے۔ یہ معاملہ 5 مئی کو شروع ہوا تھا، جب مشرقی لداخ کی سرحد پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے آ گئے تھے۔ ادھر بھارت کا نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ نیپالی وزیراعظم نے نیا نقشہ جاری کیا جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو لیکھ کے علاقے کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ نیپالی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ہندوستانی وائرس چین کے وائرس سے زیادہ مہلک ہے نیپال کے وزیراعظم نے لیپو لیکھ پر ہندوستان کے ساتھ تنازع کے بعد ایک اور بیان دیا جس سے ہندوستان کو مرچیں لگ گئی ہیں ۔ نیپالی وزیراعظم نے الزام لگایا کہ نیپال میں کرونا وائرس انڈیا کی وجہ سے پھیلا کیونکہ لوگ انڈیا سے غیر قانونی طور پر نیپال آتے ہیں اور ہندوستان انکی مناسب ٹیسٹنگ نہیں کر رہا۔ ہندوستان میں نیپال کے وزیراعظم کے بیان کو کہ " ہندوستانی وائرس چین سے زیادہ مہلک ہے"

لوگ نیپال کا بھارت پر طنز کے طور پر لے رہے ہیں پارلیمنٹ سے خطاب میں وزیراعظم اولی پہلے بھی متنازع علاقوں کے بارے میں بیان دے چکے ہیں کہ نیپال اپنے علاقے کے ایک انچ سے دستبردار نہیں ہوگا ہندوستان نے پچاس سال لگائے نیپال کو اپنا غلام ملک بنانے کے لیے پیسہ لگایا مگر کوئی نیپالی آج بھارت پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں یہ خطے میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف واضح اشارہ ہے۔ نیپال کی جانب سے اپنے ملک کا نیا نقشہ جاری کرنے کے بعد اب نیپال کا سرکاری میڈیا ان علاقوں کا موسم بھی بتانا شروع ہوگیا ، نیپالی حکومت نے ہندوستان کی تمام تر کوششوں اور دھمکیوں کے باوجود مہا کالی راہداری کے منصوبے کے تحت مغربی نیپال کو چائنہ سے ملانے کے لیے 87 کلو میڑ روڈ کی تعمیر کا کام اپنی فوج کے حوالے کر دیا جو ہندوستانی علاقے دھاراچولے کے بالکل متوازی ہوتی ہوئی چین تک جائے گی۔ ہندوستان مہاکالی دریا کے اس پار یہ راہداری خود تعمیر کرنا چاہتا تھا

تاہم نیپال کے وزیراعظم کے مطابق یہ انکے اپنے علاقے ہیں اور وہ اپنی سرزمین کے ایک انچ سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اس راہداری کے بعد چائنہ اور نیپال کی مشترکہ پیٹرولنگ سے ہندوستان کی پریشانیوں میں اضافہ ہو جائے گا ہندوستان سے سرحد پر تنازع کے بعد نیپال نے اپنے ملک کا نیا نقشہ جاری کر دیا ہے نیپال نے ہندوستان سے لیپو لیکھ تنازعے کے بعد نیا نقشہ جاری کر دیا جس میں ان علاقوں کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا ہے جن کو بھارت اپنے علاقے کہتا ہے ، ان علاقوں میں لیپو لیکھ ، کالا پانی ،لمپیید ہورا کے علاقے شامل ہیں حالیہ تنازعہ کے بعد نیپال نے اپنی سرحد پر اضافی دستے پیٹرولنگ کے لیے بھیجے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر