اہم واقعات، اہم انکشافات،کال کوٹھری،پھر اصغر خان نے جنرل ضیا کی مخالفت شروع کر دی
08 جون 2020 (23:47) 2020-06-08

پی این اے کی تحریک ایک طوفان بن کر اُٹھی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت اس کا مقابلہ نہ کرسکی۔ جب اپوزیشن کی قیادت کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا تو نئی قیادت نے تحریک کو سنبھال لیا۔ تحریک کو کچلنا ناممکن ہو گیا تھا۔ ملک کی تمام جیلیں سیاسی قیدیوں سے بھر گئیں۔ اس تحریک کے دوران تقریباً ایک لاکھ افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا گیا تھا اور ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ مردان اور مالاکنڈ میں 250 سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر کے پشاور جیل پہنچا دیا گیا۔ پانچ دن بعد انہیں ہری پور جیل منتقل کیا جانا تھا۔ ان قیدیوں کے لواحقین ان کا کھوج لگا کر پشاور جیل پہنچ گئے۔ وہ ان کے لیے کپڑے، رقم اور دیگر ضروری چیزیں ساتھ لائے تھے اور انہوں نے قانونی امداد کا بھی بندوبست کردیا۔ اسفندیار ولی خان اور نثار خان پر یچ خیل بھی پہلے سے پشاور جیل میں مقیم تھے۔ ان لوگوں کو بم دھماکہ کرانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دھماکے میں حیات محمد خان شیرپائو مارے گئے تھے۔ اسفند یار ولی اور نثار خان نے جیل حکام کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ گرفتار شدگان کو ہری پور نہ بھیجا جائے۔ جیل حکام اور صوبائی انتظامیہ نے قیدیوں کو ہری پور جیل نہ بھجوانے کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ اگر مزید لوگ آگئے تو انہیں کہاں رکھا جائے گا۔ جب گرفتار شدگان کو ہری پور منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے جانے سے صاف انکار کردیا۔ اسفندیار ولی میری کوٹھڑی میں آگئے۔ انہوں نے باہر کا دروازہ توڑا اور مجھے بھی ان قیدیوں کے ساتھ شامل ہونے کو کہا۔ اس موقع پر پشاور جیل میں ہنگامہ آرائی کی صورتحال تھی اور فرنٹیئر کانسٹیبلری نے جیل کی عمارت کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔

مجھے اسفند یار ولی، نثار خان اور عبدالخالق خان ایم این اے کو جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنے دفتر میں طلب کرلیا۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں ان کی کُرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ انہوں نے ہمیں اپنے سامنے بٹھادیا۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ آپ لوگ پریشانیاں پیدا کررہے ہیں اور وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کریں گے۔ آئی جی اپنی بات ختم کرنے ہی والے تھے کہ عبدالخالق خان نے ان کے ہاتھ سے چھڑی چھین لی اور چھڑی سے ان کی دھنائی شروع کردی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ یہ سارا ماجرادیکھتا رہا۔ انہوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ آئی جی جیل خانہ جات کی جیل کے اندر ایسی پٹائی کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ ہم چاروں سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے نکلے اور بیرکوں میں واپس چلے گئے جہاں دیگر قیدی ہمارا انتظار کررہے تھے۔ جیل میں موجود سرکردہ افراد کا ایک اجلاس ہوا جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ میں نے بتایا کہ ہمارے پاس جیل میں مٹی کا تیل اور کمبل موجود ہیں۔ جیل کی چھتیں لکڑی کی بنی بوسیدہ چھتیں ہیں۔ ہم آسانی سے جیل کو آگ لگا سکتے ہیں یا پھر ہم بہت سارے لوگ جیل ٹاور پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس کارروائی میں ہمیں زیادہ سے زیادہ سات افراد کا نقصان اُٹھانا پڑسکتا ہے۔ جب جیل میں آگ لگ جائے گا تو گارڈ خودبخود ٹاور خالی کردیں گے۔ جیل حکام کو بلاشبہ ہماری منصوبہ بندی کا علم ہوا ہو گا۔ بالآخر انہوں نے قیدیوں کو ہری پور منتقل کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا اور قیدیوں پر سختیاں اُٹھالیں۔ اب میں جیل کے اندر گھوم پھیر سکتا تھا، یہاں تک کہ ہم نے جیل کے اندر شام کے وقت والی بال کھیلنا شروع کردیا۔ اب جیل کے اندر زندگی کافی قابل برداشت بلکہ خوشگوار ہو گئی تھی۔ قیدیوں کے رشتہ دار، دوست اور سپورٹر ہر قسم کے پھل، سبزیاں اور کھانے پینے کی چیزیں جیل کے اندر پہنچاتے تھے۔ ہم لوگ خبریں سُن سکتے تھے۔ ہر شام کو بی بی سی کا نمائندہ مارک ٹیلی جب پاکستان کے حوالے سے اپنی رپورٹ دینے لگتا تو جیل کے اندر سننے والے خوش ہو جاتے۔ وہ پاکستان میں پی این اے کے مظاہروں کی خبریں تفصیل سے دیتا تھا۔ ہم نے مارک ٹیلی کا نام ’’مارٹلی‘‘ رکھ دیا تھا جس کے معنی گھنٹی بجانے کے ہیں۔

کچھ عرصے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ کا تبادلہ ہوا اور لیفٹیننٹ کرنل (ر) عابد حسین گیلانی پشاور جیل کے نئے سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے۔ میں اور کرنل عابد حسین مشرقی پاکستان میں ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور ان کا تعلق شیردل پلٹن سے تھا۔ وہ روز مجھ سے ملنے آتے اور ہم دونوں کال کوٹھڑی کے باہر درخت کے نیچے بیٹھ کر ہر شام چائے پیتے تھے۔

کراچی میں تعینات پولیس، پیراملٹری فورسز اور آرمی بھی عوام اور اپوزیشن کی طرف سے سخت دبائو کا شکار تھے کیونکہ بھٹو کی برطرفی کے لیے لوگ سڑکوں پر نکل چکے تھے۔ بھٹو نے جوائنٹ چیف آف سٹاف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کو کابینہ کے اجلاس میں بلالیا تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت ان کے ساتھ ہے۔ مسلح افواج کے سربراہوں کی طرف سے کابینہ کے اجلاس میں بھٹو کی حکومت پر اظہار اعتماد کے حوالے سے بیان بھی جاری کردیا گیا۔ بھٹو کی برطرفی کے بعد فوجی افسروں نے ایسے کسی بیان سے لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کیا۔ پاکستان نیشنل الائنس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔ حکومت کے خلاف تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ پیپلزپارٹی کے وزراء کا سکھ چین لٹ چکا تھا۔ وہ گھر بدلتے پھر رہے تھے۔ ایک ہی جگہ وہ دو دن سے زائد قیام نہیں کرتے تھے۔ اس دوران بھٹو نے صدر بازار اور راولپنڈی میں جلسہ کیا اور امریکہ کو ہاتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف لوگوں کو اُکسانے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے کیونکہ ان کی حکومت نے ایٹمی پروگرام شروع کیا ہے جسے امریکہ پسند نہیں کرتا مگر بھٹو کا یہ جادو نہ چل سکا۔

4جولائی 1977ء کو امریکی یوم آزادی کے دن امریکی سفارت خانے میں ایک استقبالیہ دیا گیا تھا۔ زیادہ تر حکومتی اہلکار اس تقریب میں شرکت کرنے امریکی سفارت خانے گئے ہوئے تھے۔ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے خصوصی عدالت کے جج کو پیغام بھجوایا کہ گوہر ایوب کے خلاف مقدمات کو سمیٹ کر انہیں سزا سنائی جائے۔ چیئرمین نے یہ پیغام قبول کرلیا اور بھری عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ اگلے روز اس مقدمے کا فیصلہ کریں گے۔ میں نے چیئرمین اور استغاثہ کے وکلاء سے کہا کہ ’’ہم بھی کل د یکھ لیتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے‘‘۔ چیئرمین نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟ میں نے کہا۔ ہرگز نہیں۔ مجھے یقین تھا کہ چیئرمین مجھے سخت سے سخت سزا دینے کے لیے اپنا ذہن بنا چکے تھے۔ اگلی صبح سوا چھ بجے لیفٹیننٹ کرنل (ر) علیم آفریدی میری کوٹھڑی کے دروازے پر آئے۔ انہوں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا تاکہ مجھے نیند سے جگاسکے۔ انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ ان کی معلومات کے مطابق بھٹو اور پی این اے کی قیادت کے درمیان مذاکرات ابھی تک جاری تھے۔ مذاکرات کے اختتام کے ساتھ اعلان کردیا گیا کہ وزیراعظم کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ فوج کی قیادت کون کررہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کہیں فائرنگ کا تبادلہ تو نہیں ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھال لیا ہو گا کیونکہ اگر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا تو اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ جونیئر فوجی افسروں نے ٹیک اوور کیا ہو گا۔

اس روز مجھے خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ جب میں عدالت میں داخل ہوا تو پریزائیڈنگ جج اور کورٹ کے دیگر دو ارکان مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ چائے کے ساتھ سموسے پسند کرو گے یا کیک؟ میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابھی ناشتہ کیا ہے۔ میں نے ان سے عدالتی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے جواب دیا: کیسی عدالتی کارروائی؟ میں نے کہا کہ وہی عدالتی کارروائی جسے آپ لوگ آج ختم کر کے مجھے سزا دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا: ان سب باتوں کو بھول جائیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جنرل ضیاء الحق نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا ہے اور بھٹو کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مجھے واپس جیل لے جایا گیا۔ وہاں جیل کے اہلکار مجھ سے ملنے کے لیے ایک دوسرے کے اوپر سے گزرنے کی کوشش کرنے لگے۔ سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے مجھے ٹریٹ بھجوائی گئی۔ ٹرے میں چائے کے ساتھ کیک اور پھل بھی تھے۔ مجھے اسی دن جیل سے رہا کیا جانا تھا تاہم ضمانت پر رہائی پانے کے لیے مجھے مزید دو ہفتے انتظار کرنا پڑا۔

جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالنے کے لیے اپنے منصوبے ’’آپریشن فیئرپلے‘‘ اور نوے دنوں کے اندر ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔ میں نے جنرل ضیاء کے منصوبے کو ’’آپریشن فائول پلے‘‘ کا نام دیا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے بھٹو کے خلاف سو فیصد شہادتیں بھی ملیں، تب بھی وہ ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کو نہیں کہیں گے۔ اس وقت ہمیں ایسا لگ رہا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ محاذآرائی سے بچا کر جنرل ضیاء نے بھٹو کی حکومت ختم کر کے ان کی مدد کی ہے اور حالات بہتر ہوتے ہی وہ دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔ شاید جنرل ضیاء الحق نے اپنا ارادہ اس وقت تبدیل کیا جب انہوں نے مری میں بھٹو سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سابق وزیراعظم نے آرمی چیف کو دھمکی دی تھی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخواہ) کے ایک سرکردہ سیاستدان نے جنرل ضیاء الحق کو بتایا تھاکہ ایک قبر اور دو آدمی ہیں۔ انہوں نے جنرل ضیاء سے یہ بھی کہا کہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ خود قبر میں جانا پسند کرو گے یا بھٹو کو اس میں بھیجو گے۔ ظاہر ہے کہ جنرل ضیاء الحق خود کبھی قبر میں جانا پسند نہیں کرسکتا تھا اس لیے انہوں نے بھٹو کو اس میں دھکیل دیا۔

ملک میں عام انتخابات کا اعلان کردیا گیا۔ سیاسی جماعتوں نے غیریقینی انداز میں انتخابی سرگرمیاں شروع کردیں۔ یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ چند دن بعد بھٹو کو گرفتار کرلیا گیا اور انتخابات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس مرحلے پر میں نے محسوس کیا کہ اصغرخان پاکستان نیشنل الائنس توڑ دیں گے کیونکہ انہیں جنرل ضیاء الحق کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں وزیراعظم بنایا جائے گا۔ لوگ جوق درجوق تحریک استقلال میں شامل ہورہے تھے کیونکہ گمان یہ تھا کہ دوسری جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ کرسکتی ہیں۔ اس صورت میں تحریک استقلال کو واک اوور مل جائے گا۔ جب اصغرخان کو یقین ہو گیا کہ جنرل ضیاء انہیں وزیراعظم بنانے کو تیار نہیں تو انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف بولنا شروع کردیا، جس پر انہیں تقریباً چار سال تک گھر میں نظربند رکھا گیا۔

5جولائی 1977ء کو جب مارشل لاء نافذ کردیا گیا تو بھٹو کے ساتھ پی این اے رہنمائوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ جب انہیں رہا کردیا گیا تو فوجی حکومت کو بھٹو کی مقبولیت نے چونکا دیا۔ بھٹو اپنی رہائی کے بعد ٹرین کے ذریعے لاہور روانہ ہوئے اور ہر ریلوے سٹیشن پر ہزاروں افراد ان کے استقبال کے لیے موجود ہوتے تھے جبکہ پی این اے کے بیشتر قائدین اس قسم کی عوامی مقبولیت کا دعویٰ نہیں کرسکتے تھے۔ پی این اے کے قائدین انتخابات کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھے کیونکہ مارشل لاء کے زیرانتظام ہونے والے انتخابات میں بھی انہیں اپنی کامیابی کا یقین نہیں تھا۔ بھٹو کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ پی این اے کی قیادت کا خیال تھا کہ گرفتاری سے بھٹو کی عوامی مقبولیت میں کمی ہو جائے گی۔ حکومت نے اس دوران عام انتخابات کا دوبارہ اعلان کیا تھا۔ لوگوں نے کاغذات نامزدگیاں جمع کرائی تھیں اور ان کی جانچ پڑتال بھی ہوچکی تھی تاہم دوسری بار انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیاگیا۔ اس کے بعد سیاستدان خصوصاً پی این اے سے تعلق رکھنے والے قائدین نے کابینہ میں شامل ہونے کی دوڑ دُھوپ شروع کردی۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو کابینہ میں شامل کرلیا گیا۔ قومی اسمبلی کی جگہ نامزد افراد پر مشتمل مجلس شوریٰ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بہت جلد ہمیں محسوس ہوا کہ ہمیں ایک طویل مارشل لاء کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔ (ختم شد)

٭٭٭


ای پیپر