آئو امن قائم کریں …!!
08 جون 2020 (23:43) 2020-06-08

اسد شہزاد

اناو یونیورسٹی میں اپنے عرب دوستوں کے ساتھ سیاست پر بات نہیں کرتیں۔ مجھے اُمید ہے کہ وہاں حالات اب بہتر ہوں گے۔ جنگ سبھی کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ میں نے خود یہ پچھلا سال اس کے ساتھ گزارا ہے۔

آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہاں رہتے ہوئے میں وہی درد، تکلیف اور موت کے مناظر دیکھتی ہوں جن کے بارے میں آپ نے لکھا ہے۔اسرائیلیوں کے لیے حماس کی مزاحمت محض علامتی نہیں۔دیکھ لیں یہ آٹھ سالہ بچہ اب چل نہیں سکتا۔ ایک راکٹ دھماکے میں اس کی بائیں ٹانگ جاتی رہی۔یہاں کبھی چوبیس ہزار لوگ رہا کرتے تھے۔ پچھلے سات سال میں ان گھریلو ساخت کے راکٹوں نے کم ازکم پانچ ہزار افراد کو نقل مکانی پر مجبور کردیا ہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں کے ہتھیار چاہے اتنے اعلیٰ معیار کے نہ ہوں مگر ان کی وجہ سے اسرائیل کے اس علاقے میں اتنی ہی تباہی ہوئی ہے جتنی بڑے فوجی ہتھیاروں سے ہوتی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ آپ کے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو گا مگر اسرائیلی فوج بے گناہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کو مارنا نہیں چاہتی۔ اسرائیلی فوج غزہ سے ان کا خاتمہ چاہتی ہے جو اسرائیل پر حملے کرتے ہیں۔معصوم جانوں کے ضیاع پر آپ کی تکلیف میں محسوس کرسکتی ہوں۔ آپ یاد رکھیں کہ اسرائیل پر داغے جانے والے زیادہ تر راکٹ سکولوں اور ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔

یہ بچوں اور خواتین کو ڈھال کی طرح استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر حملے کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔کیا دنیا بھر سے آنے والے یہودیوں کو اس سرزمین پر آباد ہونے کا حق ہے؟ کیا آپ اسرائیل کو بطور ایک یہودی ریاست تسلیم کرتی ہیں؟

جب بھی کوئی راکٹ گرتا ہے تو اسرائیلی بچوں کے نشانہ بننے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ تمام راکٹ یا تو صبح اس وقت داغے جاتے ہیں جب ان کے والدین انہیں سکول چھوڑنے جاتے ہیں یا دوپہر میں جب ان کے والدین انہیں سکول سے گھر واپس لارہے ہوتے ہیں۔ان کی کارروائی اسرائیلی فوج کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے عام یہودیوں کے خلاف ہے۔

یہ بتایئے کہ آپ کے آبائواجداد اصل میں کہاں سے آئے اور یہاں کتنی دیر تک مقیم تھے؟

میری دادی کا تعلق پولینڈ سے ہے۔ وہ تو وہاں سے بچ کر اسرائیل آکر آباد ہوگئی تھیں۔کیا سب کو اس سرزمین پر آباد ہونے کا حق ہے؟ کیا آپ اسرائیل کو بطور ایک یہودی ریاست تسلیم کرتی ہیں، اگر ان شہروں کے عبرانی عبارات سے متعلق ہم ہم نہیں جان سکتے تو پھر امن کیسے ہوگا؟

آج کل آپ کون سی انگریزی کتاب پڑھ رہی ہیں۔ مونا کے دادا اور ایک بھائی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک بار پھر آپ کو خط لکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ ہاں آج کل قدرے خاموشی ہے، فوجی حملوں کے حوالے سے۔ دراسل ایک جابر معاشرہ ہیتھ کلف کا قصوروار ہے، مگر ہیتھ کلف خود طاقت حاصل کرتے ہی جابر بن جاتا ہے۔ کیا آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی مظلوموں کے ہاتھ میں طاقت آجاتی ہے وہ خود ظالم بن جاتے ہیں۔

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے کہ میرے آبائواجداد کہاں سے آئے تھے اورکب۔ تاریخ اقوام کی نقل مکانی سے بھری پڑی ہے جس میں آپ کی قوم بھی شامل ہے۔ تین ہزار سال تک دُنیا کے مختلف ممالک میں رہنے کے بعد آپ کو اچانک اپنا ’’گھر‘‘ یاد آگیا!

آپ نے کہا کہ آپ کی دادی نازیوں کی وجہ سے پولینڈ چھوڑ کر فلسطین آگئیں؟

دوسروں کے مظالم کا خمیازہ فلسطینی کیوں بھریں؟ اگر آپ کی دادی کے خاندان کو نازیوں نے ہلاک کردیا تو اس کے بدلے میں آپ ہمیں کیوں مار رہے ہیں؟ ظاہر ہے ’آپ‘ سے میرا مطلب اسرائیلی ریاست ہے، نہ کہ آپ خود۔

میں ایک ایسی ریاست کو کیسے تسلیم کرلوں جس نے میرے وطن پر پچھلے چالیس سال سے قبضہ کررکھا ہے؟ جس کی وجہ سے نہ جانے کتنے فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں؟

جہاں تک ’’دہشت گردی‘‘ کا تعلق ہے، یہ بتائیں کہ گھریلو ساخت کے ہتھیاروں سے سدرت کے بچوں پرحملے دہشت گردی ہے تو پھر غزہ میں ایف سولہ طیاروں،مرکاوا اور ٹینکوں سے بچوں کو ان کے اپنے گھروں میں ہلاک کرنا دہشت گردی کیوں نہیں؟

سمر اور سماح تیرہ اور تئیس سالہ دو بہنیں تھیں۔ دونوں ایک ساتھ اپنے گھر میں بیٹھی تھیں، جب ایک اسرائیلی شیل نے دونوں کی جانیں لے لیں۔ وہ تو کسی کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کررہی تھیں…

اگر ہمارے پاس بھی جدید اسلحہ ہوتا تو یہ سارا معاملہ ہی الگ طریقے سے دیکھا جاتا۔ تب یہ دو ممالک کے درمیان جنگ کہلاتی اور کوئی ’’دہشت گردی‘‘ کا ذکر نہیں کرتا۔ میرے خیال میں ’’دہشت گردی‘‘ کا تعلق ہتھیاروں اور اسلحہ کے معیار سے ہے۔ اگر ہمارے پاس بھی جدید اسلحہ ہوتا تو یہ سارا معاملہ ہی الگ طریقے سے دیکھا جاتا۔ تب یہ دو ممالک کے درمیان جنگ کہلاتی اور کوئی ’’دہشت گردی‘‘ کا ذکر نہیں کرتا۔

ایک اور بات غزہ کی پٹی میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی سپلائی پر پابندی کو آپ کیا کہیں گی؟ کیا یہ ایک طرح کی دہشت گردی نہیں؟

امن کہیں بھی ممکن ہے اگر اس پر توجہ دی جائے اور اگر لوگوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔ میں امن میں یقین رکھتی ہوں اسی لیے آپ کو خط لکھ رہی ہوں۔

میرے خیال میں امن ہی ہے جو ہمیں انسان بناتا ہے۔ آپ ایک یہودی، میں ایک عرب مسلمان، دونوں انسان ہیں اس لیے امن ممکن ہے۔

میگرکیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ اسرائیل کیوں ہماری سرحدیں سیل کرتا ہے، ہمیں ایک سے دوسری جگہ جانے نہیں دیتا؟

آپ کو نہیں لگتا کہ بین الاقوامی برادری کے متعصبانہ اور غیرمنصفانہ رویے نے اس مسئلہ کو مزید اُلجھا دیا ہے؟

کیا آپ اس سب کو آپ کے اور میرے درمیان بقاء کی جدوجہد تصور کرتی ہیں؟میری پسندیدہ انگریزی ناول جوزف کانریڈ کی ’’ہارٹ آف ڈارک نیس‘‘ ہے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ نوآبادیاتی نظام کی سوچ ہمیشہ ایک سی ہوتی ہے؟کیا آپ کو شیکسپیئر پسند ہے؟ ’’ہیملیٹ‘‘ میرا پسندیدہ ڈرامہ ہے۔ جتنی بار پڑھتی ہوں اتنی بار ہیملیٹ کی کوئی نئی مصیبت آشکار ہوتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر