ماہ رمضان کے بعد زندگی کیا ہے ؟
08 جون 2020 (23:40) 2020-06-08

لیاقت بلوچ :نائب امیر جماعت اسلامی

رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں کا مہینہ سایہ فگن رہا اور سعادتیں لٹا کر رُخصت ہو گیا۔ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں ماہ فرقان نصیب ہوا اور کتنے ہی سعید ہیں وہ لوگ جنہیں ان سعادتوں، مغفرتوں، جہنم کی آگ سے بچ جانے کا موقع ملا۔ ماہ رمضان رُخصت ہوا، عیدالفطر اللہ کے شکر کہ ادائیگی اور خوشیوں کا جذبات کے اپنے پیچھے مسلسل امتحان چھوڑ گیا ہے۔ کرونا وباء لاک ڈائون سے اقتصادی تباہی، احتیاطی تدابیر کے ساتھ شعائر اسلام، اسلامی تہذیبی قدروں پر خطرناک سائے منڈلا رہے ہیں۔ کرونا وائرس اور عالمی تدابیر سے دُنیا بدلی ہے، دُنیا بدل رہی ہے، دورس اثرات نمودار ہورہے ہیں، کیا اہل ایمان ماہ رمضان کی تربیت کے بعد بھی خاموش تماشائی بنے لقمہ شر بنتے جائیں۔ اشتراکیت نظام ناکام ہوا، سیکولرازم، قوم پرست کا تعصب کا دھندا بے کار ثابت ہوگیا، مغربی تہذیب اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام بھی اپنے انجام کی طرف سرپٹ دوڑا جارہا ہے اس لیے نئے عالمی ضابطے، نیا عالمی استعماری نظام، نیوورلڈآرڈر اپنی نئی شکل اختیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دُنیا کو، انسانوں کو امن، انصاف، استحکام، عزت نفس، خودی اور وقار کے تحفظ کی تلاش ہے۔ دُنیا کے مفادپرست، انسانی استحصال کے گرد اور محدود ظالم اشرافیہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ اسلام کا آفاقی اور فطری نظام ہی دُنیا کے لیے نئے نظام کا اہم ترین موقع اور متبادل نظام ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیم اور عبادات کے ذریعے پوری دُنیا کے اہل ایمان کو متحد کرنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی ہمدردی، انسانوں کے دُکھ درد کا احساس، مظلوموں اور پریشان حالوں کی دادرسی ہی رمضان کا نظام تربیت ہے۔ ماہ رمضان کے بعد کی زندگی انفرادی طور پر سچائی، نیک اعمال، حق کی راہ پر قائم رہیں۔ شیطان کی چالوں میں نہ آئیں، اجتماعی طور پر عالم اسلام، امت متحد ہو جائے اور دُنیا کو اسلام کا سیاسی، اقتصادی، سماجی نظام دے۔

نیکی کا عمل جاری رکھو!

ماہ رمضان اہل ایمان کی ہمہ گیر تربیت کا مہینہ اور اہل ایمان کو غفلت سے بیدار کرنے اور تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کا پیغام جو رُخصت ہو گیا لیکن نیکی کا عمل جاری رہنا چاہیے، یہی اس تربیت کا مطلوب ہے وگرنہ بھوکا پیاسا رہنا تو اللہ کو مطلوب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مرد آدم علیہ السلام اور ایک عورت حوا علیہا السلام سے پیدا کیا اور انسانوں کی ذاتیں اور برادریاں بٹوا دیں تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرسکیں وگرنہ اللہ کے نزدیک محبوب وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے، نیک اعمال کا پابند ہے، اللہ تو ہر شے پر قادر اور ہر عمل سے باخبر ہے۔ بندہ مومن کا فرض ہے کہ ہر نیک وبد کے ساتھ نیکی کرے اگر دوسرا نیکی کرنے پر آمادہ نہیں تُو اس لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرما دیا کہ تم میرے پاس حسب ونسب لے کر نہ آئو بلکہ اعمال لے کر آئو، شرم وحیا ہی تو سراسر نیکی ہے، بُرے اعمال پر قابو پالینا کمال فضیلت ہے اسی لیے جو شخص اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے اور گناہوں سے برأت کرتا ہے وہی دلیر ہے۔ انسان کے تین دوست ہیں ایک دوست سانس کے ختم ہونے تک، دوسرا قبر تک اور تیسرا قیامت تک۔ پہلا دوست مال ہے، دوسرا خاندان ہے اور تیسرا اُس کے نیک اعمال ہیں۔ نیک اعمال تو اخلاص نیت اور للہیت سے ہوتے ہیں وگرنہ فضول مشقت ہے۔ کسان جو کچھ ہوتا ہے وہی کاٹتا ہے یہ حاصل تو ہر انسان کا ہے جو عمل کرے گا نتیجہ ہی وہی پائے گا۔ غلط اعمال سے جو شخص ڈرے وہ سب سے زیادہ بہادر ہے۔ نیک اعمال تو یہ ہی ہیں روزانہ قرآن پاک پڑھیں۔ روزانہ احادیث مبارکہ کا مطالعہ کریں اور روزانہ نیکی کا پختہ ارادہ کریں۔ گھر، اولاد، خاندان کو نیکیوں سے جوڑیں۔ دعوتِ دین کے لیے ہر دم آمادہ ہوں، اپنی روزی اور تنہائی کو پاکیزہ بنایا جائے۔ جھوٹ، غیبت، فریب، حسد اور کسی کی کردارکشی سے بچاجائے بس نیکی کا عمل جاری رکھو۔

دوستی/ دُشمنی

ہر انسان اپنے اپنے ماحول میں رہتا ہے، اُس کے دوست بھی ہیں اور دُشمن بھی اسی ماحول میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جہاں دوستی ہو وہاں اندھا اعتماد بھی جنم لیتا ہے۔ جہاں مخالفت اور دُشمنی کا عنصر پیدا ہو جائے وہاں سوچ وفکر منفی اور شک وشبہ حتیٰ کہ انتقام کی آگ بھڑکتی رہتی ہے۔ یہ انسانی مزاج ہے کہ افراط وتفریط کا شکار ہوتا ہے۔ بسااوقات دوستی دُشمنی کا روپ دھار لیتی ہے اور دُشمنی دوستی کا رنگ پکڑ لیتی ہے۔ وہ خوش نصیب ہے جسے خیرخواہ، مخلص اور غم گسار دوست میسر آجائیں، جیسے دُشمنی کے ماحول میں ظاہری اور چھپے دُشمن سے پالا ہو اُس کے لیے بڑی آزمائش ہوتی ہے اسی لیے اسلامی تعلیمات رہنما ہیں کہ دوستی بھی اللہ کے لیے اور دُشمنی بھی اللہ کے لیے۔ معیار صرف ذات اور مفادات ہی ہوں تو نتائج اور پھل کڑوا ہوگا۔

اچھا دوست کھو دینا خدا کو کھو دینے کے مترادف ہے، اچھی دوستی عظیم جنت ہے جس کی قدردانی کرنی چاہیے۔ خیرخواہ دوست وہی ہوتا ہے جو دوست کو اُس کی خامی سے بھی آگاہ کرے، انسان کا خیرخواہ دوست وہی ہوتا ہے جو اُس سے نیکی کر کے بھول جائے۔ انسان اگر نفس، حال اور زندگی سے محبت کرے تو یہ اُس کے لیے ہمیشہ کا خسارہ ہوتا ہے۔ دیکھیں حقیقت میں آدمی کے تین دوست ہوتے ہیں، ایک روح کے قبض ہونے تک ساتھ رہتا ہے، دوسرا قبر تک اور تیسرا قیامت تک۔ قبض روح کا ساتھی مال ہے، قبر تک کا ساتھی اُس کے گھروالے اور قیامت تک کے ساتھی اُس کے اعمال ہیں۔ دوست کے ساتھ بات چیت میں آہستگی اختیار کرو، کہیں کم بخت دُشمن ہی نہ سُنتا ہو۔ دُنیا میں اس سے زیادہ سخت چیز کوئی نہیں کہ تمہاری کسی کے ساتھ دُشمنی ہو۔ جو شخص اپنے دوستوں کی ہر خطا پر عتاب کرے اُس کے دُشمن بہت ہوں گے، دوستوں کی تعریف لوگوں میں کردار اور نصیحت تنہائی میں کرنی چاہیے، وگرنہ تمام تر نیک نیتی کے باوجود دوستی میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ وہ شخص دانا ہے جو دُشمن کے کہنے سے اپنے دوست کی بُرائی نہ چاہے، بدخواہ کو پہچاننے اور اس کے کہنے پر ہرگز عمل نہ کرے۔

٭٭٭


ای پیپر