زمینی حقائق
08 جون 2020 (20:46) 2020-06-08

1947ء سے 1970ء کے دوران اقتدار میں حق حکمرانی اور رسہ کشی کے ساتھ ایوب خان کے دور کی ’’ترقی‘‘ دراصل حق تلفی کے 10 سال تھے۔ 1962ء میں ایوب خان نے جب اپنے وزیر کے ذریعے پیغام دیا کہ بنگال الگ ہو جائے تو انہوں نے منیر احمد کو جواب دیا تم الگ ہو جاؤ ہم سات کروڑ ہیں تم پانچ کروڑ اور پاکستان مسلم لیگ اور تحریک کی بنیاد ہم نے رکھی تھی۔ آپ نے نہیں رکھی اس موضوع پر پھر بات ہو گی۔ بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد قومی اتحاد کی عبوری حکومت کے پنچھی گھروں کو لوٹے۔ 1982ء میں وہی قومی اتحاد کی انتہائی اکثریت جماعتوں نے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد قائم کیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو مردانہ جیل میں بند رکھا۔ محترمہ نصرت بھٹو کو سر پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پیپلزپارٹی کی ہر سطح کی قیادت کو جیل ، شاہی قلع، قید ، جلا وطن، پھانسیاں، کوڑے مارے گئے اور ان میں ایک بھی کرپشن کا قیدی نہ تھا سب سیاسی حقوق مانگنے والے تھے۔ 1985ء کے انتخابات کے بعد جونیجو حکومت 86ء میں مارشل لاء اٹھا دیا۔پرویز صالح صاحب کی کنوینئر شپ میں لاہور موچی دروازہ مین ایم آر ڈی کا جلسہ ہوا تب میں گوجرانوالہ کا کنوینر تھا۔ غالباً وہ آخری جلسہ تھا اس میں اصغر خان کو تقریر نہ کرنے دی گئی وہ اعلان کر کے چلے گئے اس کے بعد میں ایم آر ڈی کے سٹیج پر نہیں آؤں گا۔ گویا قومی اتحاد کی قیادت نے بھٹو صاحبکی تصویر کے سائے میں جلسہ کیا۔ روسی فوجوں کے انخلاء والے جنیوا معاہدے کی پاداش میں جونیجو حکومت توڑ دی گئی۔

88 میں ضیاء کی ہلاکت کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کی زبردست کامیابی کے باوجود پنجاب چھین کر صرف وفاق میں محترمہ کو جس طرح حکومت دی گئی اور جس طرح 20 ماہ بعد ہی بی بی کی حکومت ختم کر کے انتخابات کے بندوبست کے ساتھ میاں صاحب کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ سب کے سامنے ہے 1993ء میں حکومت ٹوٹنے کے بعد احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ اس سلسلہ میں گوجرانوالہ وکلاء بار میں بھی آئے۔ میاں صاحب کی آمد سے پہلے شیخ رشید تب وگ نہیں لگاتا تھا سر کے عقبی حصہ سے بال اٹھا کر سارے سر پر گھما لیا کرتا تھا، کے ساتھ رانا نذیر اور دیگر لوگ بھی آئے۔ شیخ رشید کی طرف سے میاں صاحب کی خوشامد دیکھ کر مجھے سیاست سے ہی نفرت ہو گئی۔ دراصل 1977ء میں تو شیخ رشید کے پاس ’’تشریف‘‘ کے علاوہ برتن نہیں تھا اور 1990ء تک ہوش آ چکی تھی۔

ان دنوں ایک کالم نگار نے میاں صاحب کے حق میں کالم لکھا ’’65ء کا بھٹو‘‘ ۔ان کی عوامی مہم اور مقبولیت کی بات کی۔تب میں نے کہا کہ 65 کا بھٹو 5 جولائی 1977ء سے 4 اپریل 1979ء کا بھٹو بھی بننا ہو گا احتجاجی سیاست نے میاں صاحب کو بار بار بھٹو صاحب کی گلی کا راستہ دکھایا جو تاریخ میں زندہ رہنے کا راستہ ہے۔

مولانا رومیؒ فرماتے ہیں

خشک مغز و خشک تارو خشک پوست

اورکجی می آید ایں آواز دوست!

گویا کسی کی لگن، عشق، نظریے، انا اور محبت و محویت میں غرق ہو جانے کے بعد ہی گیت نغمے ااور تاریخ میں کہانیاں بنتی اور زندہ رہتی ہیں۔ میاں صاحب نے جب سے اپنی سیاست کے انداز بدلے ہیں مصیبتیں تب سے ان کے در پر دستک ہی نہیں۔ پھلانگ کر اندر داخل ہو چکی ہیں۔

ارشاد بھٹی جیسے ’’مفکر‘‘ 72سال کا حساب مانگتے ہیں۔ صافی صاحب جیسے ایٹمی پروگرام میں سائنس دانوں کو اہمیت دیتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے بنیاد رکھی ۔ ضیاء نے آگے بڑھایا۔ محترمہ بی بی نے حصہ ڈالا اور نواز شریف نے دھماکے کیے۔ اصل کام سائنسدانوں کا تھا جبکہ صرف بھٹو صاحب کا کارنامہ ہے جو انٹرنیشنل سمگلروں کے ذریعے پوری دنیا کو دھوکہ دے کر ایٹمی پلانٹ لا سکتے تھے وہ سائنس دان بھی سمگل کر سکتے تھے۔ ختم نبوت کا معاملہ، سٹیل مل، اسلامی امہ کو ایک پلیٹ فارم، عام آدمی کو پاسپورٹ ، عام آدمی کو بینک سے قرضہ اور امپورٹ کی اجازت اور جمہوری جدوجہد وغیرہ بھٹو خاندان سے باہر نہیں آتی۔ ہم کسی کو تاریخ مسخ نہیں کرنے دیں گے۔

دیکھتے ہیں تاریخ کیا رخ اختیار کرتی ہے ابھی چلتے لمحے میں شیخ رشید کو میاں صاحب اور بلاول بھٹو کی آئندہ سیاست نظر نہیں آتی جبکہ میں لکھ رہا ہوںکہ اگر فوری انتخابات ہوتے ہیں تو مریم نواز پی ٹی آئی کو پنجاب میں اتنا دل برداشتہ کر دے کہ ٹکٹ لینے والے بھی نظر نہیں آئیں گے کیونکہ ایسا وقت آنے سے پہلے پی ٹی آئی میں آنے والے حکم ثانی کے مطابق واپس اپنے گھونسلوں (پارٹیوں) میں واپس جا چکے ہوں گے۔ اگر دو سال کا عرصہ گزار لیا تو بلاول بھٹو کی سیاسی پرواز کی پی ٹی آئی دھول بھی نہ چھو پائے گی بلکہ پنجاب میں جن لوگوں نے میاں صاحب کو شکست دینے کے لیے پیپلزپارٹی کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ دیئے تھے۔ اب ان کی اپنی قیادت اور عمران خان سے مایوسی مل چکی ہو گی۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کا ووٹر واپس اپنے نمائندوں کوووٹ دے گا۔ آئندہ کوئی معجزہ

بھی عمران خان کو دوبارہ حکومت میں نہیں لا سکتا۔ اول تو آج بھی جس طرح وہ حکومت میں ہیں سب کے علم ہے۔ ’’اگر‘‘ بی بی شہید نہ ہوتیں تو عمران خان کا ذکر بھی نہ ہوتا۔ کسی داستان میں لیکن یہ ’’اگر‘‘ کچھ یوں استعمال ہوا کہ بی بی ’’اگر‘‘ زندہ رہتی ہیں تو پھر ارادے ادھورے رہ جائیں گے۔

موجودہ حکومت لوگوں نے تبدیلی کے لیے قبول کی۔ اگر احتساب ہی کرنا مقصد ہے جو انتقام بن چکا تو پھر 126دن دھرنے کی دھاندلی کے لیے انکوائری ہوتی تو پتا چلتا خان صاحب 3 نمبر پر بھی نہ تھے۔ مگر انسان جب انسان کا شکار کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو بڑی بے رحمی اور خون خواری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ سازش اور شجاعت کا کبھی میل نہیں ہوتا موجودہ میڈیا اور حکومت کی اکثریت سازشی لوگوں پر مشتمل ہے جس میں شیخ رشید، شہباز گل، واوڈا، فروغ نسیم، شہزاد اکبر ایسے لوگ (چیخا اور مخولیہ کردار) صف اول کے ہیں۔ تکبر، سازش، خود غرضی، منافقت، شقاوت، نا اہلیت اور کہہ مکرنی موجودہ حکمران طبقے کا طرۂ امتیاز ہے۔ مخالفین تو چاہتے ہیں کہ یہ 5 سال پورے کریں مگر ان کو خود ہی پویلین میں واپس آنے کی جلدی ہے۔ شہباز شریف جیسے منتظم کا نعم البدل کسی کے پاس نہیں۔

کرونا، ٹڈی دل، این ایف سی ایوارڈ، 18 ویں ترمیم، پارلیمانی نظام میں مشاورت مانگتے ہیں جبکہ خان صاحب ابھی زمین پر نہیں ہیں۔ اور سنیتھارچی جیسی بین الاقوامی عورتوں کا مردانہ ایڈیشن شیخ رشید کا سہارا لے رہے ہیں، یہی زمینی حقائق ہیں۔


ای پیپر