سوچ کے بھنور میں گھرے عوام
08 جون 2020 (20:45) 2020-06-08

بلاشبہ وطن عزیز میں آئی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور بہت سے لوگ متاثر بھی ہو رہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ صحت یاب بھی ہو جائیں گے ہو بھی رہے ہیں۔ ڈیڑھ دو فیصد اپنی جان کی بازی ہا ر رہے ہیں آنے والے دنوں میں جب اس وبا کی دوا آتی ہے تو سب خیر ہو جائے گی۔ مگر یہ جو نظام حیات ہے کہ جن میں لوگوں کو جانی و مالی تحفظ حاصل نہیں اس کا کیا بنے گا؟

اس وقت میں دیکھ رہا ہوں کہ جب حالات غمناک ، افسوسناک اور اذیت ناک ہیں حکومتی فیصلے ایسے نہیں آ رہے سامنے کہ جس سے ان کا تدارک ہو سکے۔ ان کی شدت میں کمی آ سکے۔

مہنگائی مافیا غریب عوام کی کھال ادھیڑنے میں مصروف ہے ۔ وہ اشیائے ضروریہ و غیر ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اپنی مرضی سے کیے جا رہا ہے۔اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوام پر سب کا زور چلتا ہے اور وہ بے چارے دبکے بیٹھے ہیں۔ حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر وہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق سڑکوں پر آ گئے تو کیا ہو گا۔ آئے روز انہیں دبانے اور رسوا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا قانون بنا لیا جاتا ہے جس پر عمل درآمد بھی کرایا جاتا ہے جبکہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں۔ ان پر کوئی قانون لاگو نہیںہوتا؟

اس قدر نا عاقبت اندیشی نظر آ رہی ہے کہ حیرانی ہوتی ہے یا پھر لگتا ہے کہ دانستہ عوام بیزاری کے اقدام کیے جاتے ہیں؟

بہرحال دکھائی یہ دے رہا ہے کہ ملک میں غیر یقینی کی صورت حال ہے ۔ عوام کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کریں

کدھر جائیں ۔ ایک طرف انہیں وبا ڈرا رہی ہے تو دوسری جانب غربت ، بھوک ، ننگ ان کی دہلیز پار کر رہی ہے۔ وہ پہلے بھی تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتوں سے محروم تھے ، اب بھی ہیں۔ انہیں مافیاز جنہیں اہل اختیار کی شاید آشیر باد حاصل ہے، کسی سے نہیں خوف زدہ، وہ بظاہر عوام کی بات کرتے ہیں مگر عملاً ان کے مخالف ہیں انہیں آج تک غریب لوگوںپر ترس نہیں آیا جب بھی دیکھا ان کی جیبوں سے پیسا ہی نکالتے دیکھا۔ کچھ تو سوچو، کچھ تو ان کی حالت پر رحم کھاؤ، آخر وہ بھی انسان ہیں، وہ تمہارے منافعوں اور تمہارے خزانوں میں اضافے کے لیے محنت مشقت کرتے ہیں ۔ انہیں بھی اچھی غذا اور انصاف چاہیے۔ شعور کی اس صدی میں انہیں مختلف طریقوں سے زچ کرنا اور بھی تکلیف دہ ہے مگر پتھر دل کب ایسا سوچتے ہیں انہیں اپنے آپ سے غرض ہے، اپنی تجوریاں بھرنا مقصود ہے لہٰذا زندگی بے کیف اور بے رنگ ہو گئی ہے۔

ہر وقت وہ مختلف النوع خوفوں کے درمیان گھر چکی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو تو اسی لیے لایا گیا تھا کہ وہ ان کے دیرینہ مسائل حل کریں گے، اُن کو خوشحالیوں سے ہمکنار کرنے کی راہ پر گامزن ہوں گے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ ٹھیک ہے اس وبا نے معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے اس سے پہلے مہنگائیوں اور گرانیوں کے بم ان پر نہیں پھینکے گئے ۔ آئے روز ایک نیا ٹیکس لگایا جا رہا تھا اب بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ بجلی کے بل بڑھائے جا رہے ہیں ، گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت کم کی گئی مگر وہ غائب ہو گیا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ سو سے اوپر پچیس تیس روپے فی لٹر مل رہا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کہاں ہیں وہ اپنے اختیارات کا استعمال کب کریں گے جب لوگ نڈھال و بے حال ہو جائیں گے ہو اب بھی رہے ہیں لہٰذا عین ممکن ہے وہ احتجاج کرنے کا ارادہ کر لیں؟

موجودہ صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے جن چیزوں کی اشد ضرورت ہے وہ ناپید ہیں اور اگر ملتی بھی ہیں تو تین چار گنا زیادہ قیمتوں میں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سب کچھ موجود ہے مگر مہنگے داموں انہیں جو چاہے خرید لے۔ انتظامیہ اس کا کیوں نوٹس نہیں لے رہی وہ ماسک نہ پہننے والوں پر تو چڑھ دوڑتی ہے مگر ان کاخون کشید کرنے والوں سے منہ دوسری طرف کر کے گزر جاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ وزیراعظم خود دیانت دار ہیں، انہیں بدعنوانی بالکل پسند نہیں مگر وہ ایسے لوگوں سے کنارہ کش کیوں نہیں ہو جاتے جو اُن کے پروگرام پر عمل درآمد نہیں ہونے دے رہے۔ وہ انہیں بتا دیں کہ اب ایسا نہیں چلے گا۔ وہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کو بھی کہہ د یں کہ دنیا بدل رہی ہے لہٰذا وہ اپنے قواعد و ضوابط پر نظر ثانی کریں اور انہوں نے جو قرضے پر سودلینا ہے اس میںکمی لائیں۔ دو برس تک ان سے نہ پوچھا جائے پھر وہ دوست ممالک سے بھی گزارش کریں کہ وہ ان سے تعارن کریں مگر سوال یہ بھی ہے کہ ان کے رفقاء ان کے ہم آواز ہوں گے؟

حرف آخر یہ کہ اب عوامی مفاد میں سخت ترین فیصلوں کا وقت آگیا ہے کیونکہ ان کے صبر کاپیمانہ لبریز ہو سکتاہے لہٰذا حکومت کو اُن کی تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے جنگی بنیادوںپر غور کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ اکہتر برس کے بعدبھی وہ بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور اشترافیہ پر آسائش زندگی بسر کر رہی ہے ۔ ان حالات میں بھی اسے یہ خیال نہیں کہ ان کے ہم وطن پریشانیوں کے بھنور میں گھرے ہوئے ہیں جنہیںنکالنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر