ایک سیاہ فام قوم اور ایک ہم…
08 جون 2020 (20:45) 2020-06-08

کوا ایک ایسا جانور ہے جو چالاک ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سمجھدار بھی ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ وہ انسان سے بھی زیادہ سمجھدار ہے تو برملا اس بات کا دو ٹوک جواب دوں گا کہ ہاں وہ انسان سے بھی زیادہ سمجھدار ہے۔ انسان سے زیادہ سمجھدار اس لیے ہے کہ کوا اپنی برداری کا حد سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ عرف عام میں سمجھدار اس لیے کہ کوے کو آج تک کسی ذی روح نے اپنی مادہ کے ساتھ دن دیہاڑے کسی درخت کی اوٹ میں، کسی مکان کی منڈیر پر، کسی صحن کی لمبی دیوار پر اٹھکیلیاں اور رومانس کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔ بچپن میں مجھے کوے کو پکڑنے کا بڑا شوق تھا۔ اس قدر والہانہ شوق تھا جس قدر ولیم وڈز ورتھ کو کوئل کو دیکھنے کا شوق تھا۔ ایک دن میں اس کوشش بسیار میں کامیاب ہو گیا۔ کوا دیوار پر بیٹھا تھا اور میں نے دیوار کے ساتھ ساتھ خود کو جھکا کر کوے تک رسائی حاصل کر لی اور اسے ٹانگوں سے پکڑ لیا۔ یونہی میں نے کوے کو ٹانگوں سے پکڑا اس نے اپنی لمبی کالی کلوٹی اور بھدی چونچ سے میری نرم و نازک انگلیاں کو دبول لیا۔ غزال جیسی ایک لمبی سی چیخ میرے حلق سے نکلی اور میں نے درد کی اس کراہٹ میں کوے کو دیوار سے پورے زور سے پٹخ دیا۔ کوا دیوار کے ساتھ لگتے ہی اپنی روح پرواز کر گیا اور قید حیات اور کشمکش حیات سے آزاد ہو گیا۔ اتنا ہونا تھا کہ اس کے چند ساتھی کووں نے شور مچانا شروع کر دیا اور چند ہی منٹوں میں ہر طرف سے کائیں کائیں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ چہار اطراف کوؤں کی آمد سے منظر کالے کالے نظر آنے شروع ہو گئے۔ چند کووؤں نے تو مجھے ٹھونگوں سے آلیا اور کچھ میرے آس پاس ڈیرہ ڈالنے لگے۔ ایک کوے کی موت پر اس قدر احتجاج… اس قدر شور و غوغا… اتنا واویلا… میں نے کسی سیاسی جلسے میں بھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کسی کرپٹ حکمران سے لوٹی ہوئی رقم وصول کرنے کے لیے کوئی احتجاج دیکھا گیا تھا۔ اور نہ ہی اس قدر

احتجاج چینی مافیا کے خلاف دیکھنے میں آیا۔ خیر میں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بھاگ کر اور چھپ کر جان بچھائی اور خود کو کمرے میں مقید کر لیا۔ میں نے کمرے کی کھڑکی سے جو منظر دیکھا وہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کوے باقاعدہ اس مردہ کوے کے پاس آتے اور ایسے محسوس ہوا جیسے تعزیت کر رہے ہیں اور کوے کی موت پر نوحہ کناں ہیں۔ بقول تجمل کلیم

کانواں تک نوں ذات پیاری

بندہ سن کے مر نئیں جاندا؟

امریکہ میں پولیس نے ایک سیاہ فام کو قتل کر دیا۔ پھر کیا ہوا؟ پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سیاہ فاموں نے امریکیوں کو ناکوں چنے جبوا دیئے۔ چشم فلک نے دیکھا کہ سیاہ فاموں نے اپنے اس بھائی کی خاطر اپنی ہستی تک کو مٹا دینے کی بھی پروا نہ کی۔ سیاہ فاموں نے امریکہ کو بتا دیا کہ بلا وجہ کسی کو قتل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر کا غرور اور نخوت بھی خاک میں مل گیا اور اسے چھپ کر پناہ لینا پڑی۔ یہ صرف ایک قتل تھا جس پر اس قدر ہنگامہ ہوا۔ یہ قتل پر ہنگامہ تھا۔ اس کے پس پردہ نہ کسی نے ڈاکہ ڈالا تھا اور نہ کسی نے چوری کی تھی۔ ایک ہم ہیں۔ جو سالوں سے کشمیریوں پر ظلم و ستم ہوتا ہوا دیکھ رہے۔ ایک ہم ہیں جو اپنی کشمیری بہنوں کی عزتیں اور عصمتیں تار تار ہوتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔ ایک ہم ہیں جو کشمیری بوڑھوں اور بچوں پر ظلم و ستم ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ایک ہم ہیں جو اپنی بہن عافیہ صدیقی کے لیے کچھ نہ کر سکے… ایک ہم ہیں جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کو اپنے ہاتھوں واپس کیا۔ ایک ہم ہیں جو غدار کلبھوشن کا کچھ نہ کر سکے… ایک ہم ہیں جو اپنے شامی اور فلسطینی بھائیوں بہنوں اور بچوں کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ ہم کھوکھلے نعروں کے ذریعے تسلیاں دینے والوں میں سے نکلے۔درج ذیل جذباتی کیفیات تو بین الاقوامی سطح پر تھیں۔ دیکھئے سوچیئے ہم نے قومی سطح پر کیا کیا۔ آئے دن جنسی واقعات جو معصوم بچوں کی کومل زندگیوں کو نگل رہے ہیں۔ ان کے لیے کیا کیا؟ ان کے لیے کونسا احتجاج کیا؟ ان کے لیے کس وزیر کا در کھٹکھٹایا۔ حفظ و امان اور امن و امان کے کس رکھوالے کو عرضی پیش کی؟ کب وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کی گاڑی کو روکا گیا اور اپنے دل اور روح کا مسئلہ بتایا گیا۔ ہم سے تو ڈاکٹر صغیر احمد صغیر ہی اچھے نکلے جنہوں نے چھاتی تان کر نڈر ہو کر اور برملا کہہ دیا تھا:

تینوں دل دا مسئلہ دسیا ایوی دسیا مسئلہ توں ایں

تیرے ولوں نہ تسلی نہ کوئی حل اے، ایہ کوئی گل اے

سچی بات ہے ہم سے وہ سیاہ فام اچھے نکلے جو اپنی قوم اور اپنی برادری کے فرد کے لیے، اس کے حق کے لیے، اس کے انصاف کے لیے آخری حدیں پار کرنے کو بھی تیار ہو گئے۔ انہوں نے آنے والے حالات مستقبل کے خدشات کا بھی نہ سوچا۔ ہم سے وہ کوا اچھا تھا جس کے مرنے پر ہزاروں کی تعداد میں کوے اکٹھے ہو گئے جو مجھے نوچنے کے لیے تیار تھے۔ جو رو رو کر ، پیٹ پیٹ کر احتجاج کر رہے تھے کہ ہمارے بھائی کو مار دیا ہے۔ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ ہماری داد رسی کی جائے۔ ایک ہم ہیں جن کا خدا ایک ہے ، جن کی کتاب ایک ہے۔ جن کا رسولؐ ایک ہے۔ جن کی تہذیب اور کلچر ایک ہے۔ جن کا زندگی گزارنے کا طریقہ ایک ہے۔ جن کے سامنے فطرت کے بنائے ہوئے قوانین ایک ہیں۔ جن کے لیے نبیؐ کا اسوۂ حسنہ ایک ہے۔ پھر بھی بھٹک رہے ہیں۔ پھر بھی ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ اغیار کی جانب روئے سخن کر کے بیٹھے ہیں۔ ان کی جھولیوں میں سردھرے ہوئے ہیں۔ انہی کی طرف کشکول لے کر جاتے ہیں۔ انہی کو اپنا حامی و ناصر گردانتے ہیں۔ اگر ہم ابھی بھی نہ سمجھے اور ابھی نہ سنبھلے تو پھر اپنا نقصان ڈھونڈنا مشکل ہو جائے اور کرونا تو کیا اس سے بڑا عذاب بھی ہماری راہوں میں دل تھام کر کھڑا ہو گا اور ہمارے لیے واپسی کے تمام در مکمل طور پر مقفل ہو جائیں گے اور زندگی کی کشتیاں بغیر ناخداؤں کے ہچکولے کھاتی ہوئی نظر آئیں گی۔


ای پیپر