کرونا وائرس یا نواز شریف؟
08 جون 2020 (14:57) 2020-06-08

کرونا وائرس یا نواز شریف؟ تبدیلی سرکار کی اولین ترجیح نواز شریف۔’’ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‘‘۔ کرونا کے بارے میں روز اول سے کنفیوژن کا شکار۔ لاک ڈائون سخت یا نرم، کبھی سخت کبھی نرم، مریض 90 ہزار سے تجاوز کرگئے۔ نیوزی لینڈ میں قابو ہمارے یہاں بے قابو۔ 5 لاکھ ٹیسٹ ایک لاکھ مریض، 22 کروڑ میں کتنے ہوں گے۔ ’’گھر کا گھر بیمار ہے کس کس کو دیں تسکین ہم ‘‘1838 ہلاکتیں، معاملہ کہاں جا کر رکے گا۔ اب ارشاد عالی کہ’’ ملک لاک ڈائون برداشت نہیں کرسکتا۔ کرونا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے۔ اس نے پھیلنا ہے مستقبل میں ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنا پڑے گا‘‘۔ عالمی وبا نے پاکستان میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ گلی محلوں میں پنجے گاڑ رہی ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سمیت لوگ موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں۔ ہم انہیں بچا نہیں سکتے۔ صرف اعداد و شمار بتا بتا کر زندہ انسانوں کو خوفزدہ کرسکتے ہیں۔ جانے والوں کے لیے صرف مغفرت کی دعائیں ’’موت سے کس کو رستگاری ہے، آج تم کل ہماری باری ہے‘‘ کرونا پھیل رہا ہے لیکن سرکار کو کرونا کی بجائے نوازشریف کی فکر ہے فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت درجنوں وزیر، مشیر اور چھوٹے بڑے ترجمان لکیر پیٹ رہے ہیں۔ قسمت کی لکیریں کون مٹا سکتا ہے۔ تین بار وزیر اعظم رہنے والا دوسری بار چنگل سے نکل گیا۔ جیسے ہاتھ سے پھسل گیا ہو، تا حیات نا اہلی، 7 سال قید، دلی مسرت ہو رہی تھی کہ جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑے گا تو انتقام بھرے سینوں میں ٹھنڈک محسوس ہوگی ،کچھ نہ ہوسکا لکیر پیٹنے سے فائدہ، اللہ پچھتانے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، فواد چوہدری ’’نچلا تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا‘‘ کے فلسفہ پر عمل پیرا ہیں۔ عید کے چاند سے فارغ ہوئے تو بیکار مباش کچھ کیا کر کے مصداق نواز شریف کے مسئلہ کو لے بیٹھے۔ لوگوں نے ٹوئٹ کیا۔ ’’بھائی آپ ٹھہرے سائنس کے وزیر اس کی فکر کریں، دو سال میں کیا ’’چن چڑھایا‘‘ سیاسی معاملات ڈھیر سارے ترجمانوں اور بڑے صاحبان کے لیے چھوڑ دیں۔ اڑ گئے پنچھی کی واپسی کے لیے بے تاب مشیروں اور ترجمان کی کمی نہیں ’’ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں‘‘ تصویریں وائرل کر کر کے کوسنے دے رہے ہیں۔ بقول آصف زرداری کوئوں کے کوسنوں سے کب کوئی مرا ہے ’’موت کا ایک دن معین ہے‘‘ لیکن بہتوں کی آرزو کہ ’’گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے‘‘ گلیاں بازار کرونا نے سنسان کر دیے ہیں لوگ گھروں میں مقید، نفسیاتی مریض بن گئے بقول ایک تجزیہ کار باہر کرونا گھر میں رونا، بندہ گھر میں بیٹھے بیٹھے کیا کرے، ٹی وی لگا لے پاپ میوزک اور اس پر اوٹ پٹانگ ڈانس دیکھ رہا ہو تو بیوی کی کڑک دار آواز سے دہل جائے۔ ہائے ہائے اپنی عمر دیکھو اور کرتوت، پرانا گانا سننے لگے تو بھی طعن و تشنیع جوانی یاد آرہی ہے کون تھی جس کے ساتھ گھومتے پھرتے گانے سنا کرتے تھے۔ شوہر بے چارہ معصوم ذات، کرونا کا قیدی، چپ کا روزہ، کرے تو کیا کرے، ہر گھر کا یہی رونا، ہائے کرونا ہائے کرونا ،کہنے لگے کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، قدرت سے لڑ کر دیکھ لیا محاورہ بدل لیجیے ڈرنا اور لڑنا نہیں بچنا ہے۔ اللہ اپنا کرم کرے بندہ گھر سے باہر نکلے تو کولہو کے بیل کی طرح منہ پر ماسک، سانس لینا دشوار مگر لازمی قرار اس کے بغیر چارہ نہیں، تبدیلی سرکار کو دہری فکر، لاک ڈائون نہ کریں تو کرونا سے ہلاکتیں،

کردیں تو بھوک سے اموات کیا کریں کیا نہ کریں، یہ الگ بات کہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کے بقول بھوک سے اب تک ایک بھی شخص نہیں مرا کرونا سے 21 دنوں میں 837 افراد جاں بحق ہوگئے۔ لاک ڈائون گرم یا نرم، قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس گھنٹوں چلا، بریفنگ پر بریفنگ، جس میں جتنی ہمت اور حوصلہ تھا بولا، باقی سنا کیے، پتا نہیں فواد چوہدری اجلاس میں بھی کچھ بولے یا بولنے والوں کا انداز بیاں دیکھتے رہے۔ ما شاء اللہ پی ٹی آئی میں ایک سے بڑھ کر ایک مقرر شیریں بیاں بلیغ اللسان پڑا ہے۔ قدرت نے اس پارٹی کو جہانگیر ترین جیسے سخی دل تونگروں کی دولت کے علاوہ متعدد مقررین جیسی نعمت سے بھی نوازا ہے۔ البتہ مفکرین کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ دور کیوں جائیں پوری دیمک زدہ اپوزیشن میں مراد سعید جیسا مقرر موجود نہیں۔ وہ جب خطاب کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو اپوزیشن واک آئوٹ کر کے چائے پینے چلی جاتی ہے ان کا پشتو نما اردو کا لہجہ مزہ دیتا ہے جبکہ اپوزیشن کے منہ کا ذائقہ خراب کردیتا ہے۔ اپوزیشن کڑھتی ہے تو کڑھتی رہے اس کی قسمت میں تو 5 سال کڑھنا لکھا ہے۔ عربی فارسی کے استاد کہا کرتے تھے’’ دین ملا فی سبیل اللہ فساد، دین لیڈر فی سبیل اللہ عناد‘‘ عناد کی بیماری کرونا سے زیادہ مہلک۔ عناد کی آگ میں جلنے والے غیبت اور اتہام کے عادی جب تک دن بھر میں دو چار کی غیبت نہ کرلیں دو چار تہمتیں نہ دھر لیں کھانا ہضم نہیں ہوتا تنخواہ حلال نہیں ہوتی۔ اس لیے ناشتہ کر کے گھر سے نکلتے ہیں اور اولین فرصت میں ڈیرے پر پہنچ کر آل شریف کو دو چار صلواتیں سنا کر لنچ کرتے ہیں۔ غالب رقیبوں کا سراغ لگانے کے لیے گلی گلی خط لکھوائو کی صدائیں دیا کرتے تھے۔ اس دور میں ہوتے تو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ سرکار کو پیشکش کرتے کہ’’ کوئی دلوائے گالی اس کو تو بس ہم سے دلوائے۔ ہوئی صبح اور کان پر رکھ کر قلم نکلے‘‘۔ نہیں جانتے کہ غیبت کیا ہے کسی کی غیر موجودگی میں سچا یا جھوٹا الزام لگانا غیبت، جھوٹی تہمت گناہ کبیرہ، قرآن پاک میں دونوں کی ممانعت، فرمایا گیا ایک دوسرے کی غیبت مت کرو، کیا تم پسند کرو گے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائو، فکر ھتہموہ (یقینا تمہیں کراہت محسوس ہوگی) ہم کیا کر رہے ہیں اللہ معاف کرے اب تک منوں مردہ گوشت کھا چکے ہیں کوئی کراہت نہ نفرت بلکہ یک گو نہ بے خودی، دلی تسکین یہی سیاست ہے، نواز شریف کو اپنے ڈاکٹروں کے کہنے پر باہر بھیجا تھا۔ وہ ہارٹ کے مریض ہیں۔ خدانخواستہ ہاتھ پائوں سے معذور نہیں۔ ہارٹ پیشنٹ کو افاقہ ہونے کی صورت میں معالج واک کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر دوران علاج چائے کے کپ کو منہ لگا لیا تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ لو پلیٹیں کی تعداد انتہائی کم ہونے سے حالت خراب ہوئی۔ تعداد بڑھنے سے مریض دل نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ یہ سمجھے کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ حالانکہ مرض باقی علاج جاری ہے۔ ناقدین اگر وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کی دعا کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا ایک تصویر پر قیامت برپا ہوگئی۔ وفاقی کابینہ میں تذکرے بڑے صاحب نے مصاحبین کے تذکروں پر کہا ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ نواز شریف نے سن کر کہا ہوگا۔

نیکیاں کم پڑ رہی تھیں نامہ اعمال میں

شکر ہے کہ دشمنوں کی گالیاں کام آگئیں

سوال اٹھا کیا نواز شریف نے وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ کرلیا ہے؟ غیب کا علم تو علام الغیوب کے پاس مگر سوال پر سوال کہ کیوں آئیں گے۔ بھاڑ میں گئی ایسی سیاست، چولہے میں گیا ایسا اقتدار جوہر پانچ سال بعد جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈال دے ایک منظر سے غائب دوسرا ملک سے غائب کھیل ختم۔ اپنی جمہوریت سدا سے کرونا زدہ، ہر پانچ دس سال بعد ٹیسٹنگ نتیجہ کبھی مثبت کبھی منفی، لیکن ہر بار نقصان دہ، پورا ملک کمیٹیوں اور کمیشنوں پر چل رہا ہے۔’’ ہر کمیشن پر ہمیں آیا خیال ،جانے ہم کتنے کمشن کھا گئے۔ 22 مہینوں میں ہزاروں فائلیں تحقیقات کے لیے تڑپ رہی ہیں کوئی ایک الزام ثابت ہوا ؟آل شریف قابو میں نہیں آرہی۔ معاملات ٹھپ ملک ساکت حکومت چل رہی ہے۔ کیسی چل رہی ہے ایک کالم نظر سے گزرا لکھنے والا دلا بھٹی کی طرح بہادر اور نڈر لکھا۔ تبدیلی سرکار کو 22 مہینے ہو رہے ہیں۔ کرونا کے 3 ماہ نکال دیں۔ 19 مہینے اقتدار کے ملک کے لوٹے گئے 2 سو ارب ڈالر باہر سے آنا تھے کیا آگئے۔ 90 دنوں میںکرپشن ختم ہونا تھی کیا ہوگئی۔ 3 مہینوں میں چوروں ڈاکوئوں نے جیلوں میں ہونا تھا کیا ہوگئے۔ نیا صوبہ بننا تھا کیا بن گیا؟ 50 لاکھ گھر تعمیر ہونے تھے کیا ہوگئے۔ ایک کروڑ نوکریاں ملنا تھیں کیا مل گئیں، وغیرہ وغیرہ کچھ نہیں ہوا، نوکریاں دینے کے بجائے ہر ادارے سے ملازمین فارغ، اسٹیل مل سے 9300 ملازمین کو نکالنے کی منظوری، کچھ مت کہو خاموش رہو، جالب زندہ ہوتے تو شاید کوئی پھڑکتی نظم لکھتے اور لاٹھیاں کھاتے۔


ای پیپر