ڈی جی آ ئی ایس پی آ ر کا بھا رت کو وا ضح جوا ب
08 جون 2020 (14:57) 2020-06-08

بھارت اور مقبو ضہ کشمیر کے مسلما نو ں پہ بھا رتی حکو مت کے مظا لم کو ئی آ ج کی با ت نہیں۔اور اب جبکہ بھارت کی شاطرانہ چا لو ں اور مکارانہ سوچ نے مظلوم کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاہے، وہیں بھارت میں اسلامو فوبیا کی لہر کو پوری دنیا نے محسوس کیا ہے، کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں بھی عروج پر ہیں۔ بھارت کا خطے میں سپرپاور بننے کا خواب بہت پرانا ہے، اس خواب کی تعبیر کے لیے وہ عیارانہ روش پر چل رہا ہے۔اس سلسلے میں ہمارے ڈی جی آ ئی ایس پی آ رنے بھا رت کو وا ضح اور وو ٹو ک الفا ظ میں پیغا م دیا ہے ہے کہ بھارت جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جواب کے لیے تیار ہیں۔ ڈی جی آ ئی ایس پی آر کا یہ بیان بلاشبہ قومی امنگوں کا ترجمان ہے۔ توسیع پسندانہ عزائم اور نفرت بھری سیاست کے پیروکار نریندر مودی دراصل مقبوضہ کشمیر میں دس ماہ سے جاری لاک ڈائون اور جبر و ستم پر سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ کسی کو پتہ نہیں ہے کہ مظلوم کشمیری کس حال میں ہیں، انہیں پہلے ہی علاج و معالجے کی سہولتیں میسر نہیں ہیں او رکورونا وائرس نے انہیں کس حد تک متاثر کیا ہے، دنیا کو کچھ خبر نہیں۔ خطے کے ہر ایک ملک کو اپنا دشمن سمجھنا یا بنانا موجودہ بھارتی سرکار نے اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔ حالانکہ بھارت کو چین، نیپال سرحد کے علاوہ دیگر محاذوں پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی میں بھارتی سرکار کا ثانی نہیں ہے۔ اس طرح کی توسیع پسندانہ سوچ خطے کے امن کے لیے شدید ترین خطرہ ہے۔

ما ضی پہ نظر دو ڑ ا ئیں توبھارت نے 5؍ اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈائون کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹر نیٹ سروس معطل کردی اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرارداد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی اور یوں کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے دور کا آغاز کیا گیا۔ ویسے تو کشمیریوں پر ظلم و ستم پون صدی سے جاری ہے، مگر اس کے باوجود کشمیریوں کی صدائے حریت بھی برسوں سے ہی گونج رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ کشمیری گزشتہ برس پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے، نوجوان کشمیریوں کی نسل کشی کا عمل بھی جاری ہے۔ اس وقت انسانی المیہ یہ ہے کہ ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں لاک ڈائون جاری ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، علاقے میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے جبکہ باہمی رابطے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر

موجود ہونے کے باوجود تاحال حل طلب ہے۔ مظلوم کشمیریوں کی نگاہیں اقوام عالم کو دیکھ رہی ہیں کہ وہ کب انہیں انصاف فراہم کرتی ہیں۔عالمی طاقتوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ خطے میں تمام دیرینہ معاملات کا تعلق بھارت کے ساتھ ہے۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان چین بھارت سرحدی کشیدگی کا پُرامن حل چاہتا ہے اور امید ہے کہ بی جے پی کی شدت پسند سوچ سے علاقائی امن خطرے میں نہیں پڑے گا۔ انتہائی جامع اور بلیغ انداز میں ترجمان نے صورتحال کی نشاندہی کردی ہے۔ اس حقیقت سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی جارحیت کا ہدف سی پیک کا منصوبہ ہے۔ بھارت نے حالیہ دنوں میں اچانک چین کے ساتھ جو چھیڑ چھاڑ شروع کی ہے اس میں بھی اسے ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی اور پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ بھارت اور چین کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر صورت حال تشویشناک ہے۔ جبکہ بھارت اور چین کے درمیان سکم اور لداخل سرحدی تنازعہ حل کرنے کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کے سینئر فوجی کمانڈروں کے درمیان 6 جون کو مذاکرات ہوں گے۔ جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے بھارت اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے حوالے سے ٹیلیفونک بات چیت ہوئی ہے۔ بھارت جو بو رہا ہے وہی کاٹنا بھی پڑے گا۔بھارت ہندوتوا کی جس پالیسی پر گامزن ہے اس کے بھیانک اثرات نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ بھارت میں صدیوں سے آباد اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ یہ جبر و ستم آزادی کی تحریکوں کو نہ صرف مستحکم کرے گا بلکہ بھارتی ریاست کے مستقبل میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیںگے۔

موضوع سخن بھارتی جنگی جنون کو بنائیں تو صرف مسئلہ کشمیر پر ہونے والی تینوں جنگوں میں اسے ہماری بہادر و جری مسلح افواج کے ہاتھوں شکست و ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے چھ گنا بڑا ملک ہے۔ اس کے باوجود اسے ہمیشہ پاکستان کے ہاتھوں مار ہی پڑی ہے۔ یہ کھلی حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے اور بھارتی ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور سازشی تھیوری پر عمل کرکے خطے کا ’’بدمعاش‘‘ ملک بننا چاہتا ہے۔ پاکستان مذموم بھارتی عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھارت میدان جنگ میں ہمارا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے تو وہ سازش کے جال بچھانا شروع کردیتا ہے، بلوچستان کی صورت حال اس بات کی گواہ ہے۔افغانستان جو پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے وہاں بھی بھارت نے اربوں کی سرمایہ کاری کرکے سازش کا ایک جال بنا ہے، لیکن ہر سازش میں ناکامی بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔

لائن آف کنٹرول پر بلاوجہ فائرنگ کرکے معصوم عوام کو نشانہ بنانا بھارت کی علت بن چکا ہے، فائرنگ کے نتیجے میں شہادتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پاکستانی فوج بہت بہتر انداز میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ پاک فوج کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایل او سی پر شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ عالمی مبصرین کو بھی مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ ’’جائے وقوع‘‘ کا معائنہ کرسکیں۔ بھارت کے دماغ میں سپریم ہونے کا جو خناس سمایا ہوا ہے، یہ اس کا نتیجہ ہے کہ وہ مہم جوئی پر آمادہ نظر آتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک جانب کورونا وائرس سے بھارت میں اموات کی شرح بڑھتی جارہی ہے اور دوسری جانب اس کی معیشت کو وائرس نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں بھارتی قیادت کسی بھی طرح سفارتی آداب کی پاسداری نہیں کر رہی ہے۔ چند روز پیشتر پاکستانی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو ’’ناپسندیدہ‘‘ قرار دے کر ملک بدر کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اگر خطے میں امن کی خواہاں ہیں تو انہیں بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا۔


ای پیپر