نام نہاد آپریشن میں کشمیریوں کی شہادت
08 جون 2020 (14:55) 2020-06-08

بھارتی فوج نر یندر مودی کے مشن کے تحت نام نہاد انسداد دراندازی آپریشن کے نام پر کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہی ہے۔ کشمیر آج بھی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ہم کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی سمیت ہر قسم کی حمایت کر رہے ہیں اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہم انکے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قر بانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔بھارت کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے اس کی بربریت کشمیری عوام کے عزم کو توڑ سکتی ہے اور نہ ہی اس کا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔ہرکشمیری کی شہادت کشمیریوں کے بھارتی قبضے سے ا ٓزادی کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی۔

مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کیلئے بھارت نے فوجی طاقت کا سہارا لیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھارت کو وہاں صرف اتنی ہی فوج رکھنے کا حق حاصل ہے جو قیام امن کے لیے نا گزیر ہو، لیکن آج یہ تعداد 8 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے اتنی بڑی فوج پاکستانی دراندازوں کو روکنے کیلئے رکھی ہوئی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں پچھلے دس سالوں میں اسی ہزار نئی قبروں کا اضافہ ہوا ہے جن پر شہداء کے نام اور پتے درج ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے دعویدار کی حیثیت سے بھارت کا فرض تھا کہ وہ کشمیر کا مسئلہ جمہوری انداز سے حل کرتا لیکن اس نے ہمیشہ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ بھارت کے عزائم حد درجہ خطرناک ہیں اور اب اس کی خود سری کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی بھی وقت ہمارے لیے نت نئے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

ہندوستان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے پر عالمی برادری کو اب کوئی اعتبار نہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے اتحاد نے غیر قانونی وغیر انسانی اقدامات اور انتہا پسندی بالخصوص ہندوتوا ایجنڈے کے لئے ہندوستان کودنیا کے سامنے بے نقاب کھڑے ہیں۔ساتھ ہی ہندوستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی بربریت کشمیری عوام کے عزم کو توڑ سکتی ہے اور نہ ہی اس کا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔ ہر کشمیری کی شہادت کشمیریوں کے بھارتی قبضے سے آزادی کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت اقوام متحدہ نے دیا ہے جسے وہ کبھی بھی ترک نہیں کریں گے۔ پاکستان کی قیادت اور عوام ان کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کے اپنے عہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مقبوضہ وادی میں لاک ڈاون جاری ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ علاقے میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے جبکہ باہمی رابطے کیلئے انٹرنیٹ کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ اس ذہنی اذیت والے ماحول میں جب کشمیری بے جا پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو بھارتی فوج ان پر گولیاں برسانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔مئی کے مہینے میں دوبچوں سمیت 21 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کشمیر میں سات لاکھ کے قریب فوجی اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار تعینات ہیں۔بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے اور وہ موت کو گلے لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

بھارت جدوجہد آزادی کشمیر سے خوفزدہ ہو کر نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہے۔ انہیں بہانوں بہانوں سے گرفتار کر کے ماروائے عدالت پولیس مقابلوں میں شہید کر دیا جاتا ہے۔ صرف ایک روز کے دوران 13کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیاگیا۔ ان میں سے دس نوجوانوں کو قابض اور ظالم بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی کے علاقے میندر میں اور ضلع پونچھ کے مختلف گاؤں میں شہید کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں ایک ہی دن میں 13 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جعلی مقابلوں اور نام نہاد ‘‘دراندازی’’ کی کارروائیوں میں کشمیری نوجوانوں کے بے قابو ماورائے عدالت قتل پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔شمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا ہندوستانی حکومت کے انسانیت کے خلاف جاری جرائم کا ایک نیا ثبوت ہے۔ ان جرائم کو چھپانے کے لئے ہندوستانی حکام کشمیری جوانوں کی ‘‘تربیت’’ اور ‘‘دراندازی’’ کے بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ عالمی برادری کورونا مرض سے لڑنے میں جبکہ بھارت کشمیری عوام پر اپنی بربریت کو تیز کرنے میں مصروف ہے۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے ایک ہی روز میں 13کشمیر یوں کے ماورائے عدالت قتل کوبدتر ین دہشت گردی قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دنیا بھارتی مظالم کا مزید تماشے دیکھنے کی بجائے بھارت کو فوری طور پر دہشت گرد ملک قرار دے۔کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیتوں میں بدلنے جیسے بھارتی منصوبہ خطے میں امن کی تباہی ہیں اور ایسے منصوبوں سے بھارت خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ نر یندرمودی کے ہاتھ انسانیت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

بھارت نے کشمیر میں 3سو سے زائد دن سے بدتر ین کر فیو لگا کر کشمیر میں دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے مگر اسکے باوجودتاریخ گواہ ہے کہ تحر یک آزادی کشمیرہر گزرتے دن کیساتھ مضبوط اور فعال ہو رہی ہے۔دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔ بھارت کے پاس کشمیر یوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی دینے کے سواکوئی آپشن نہیں ۔جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوگا خطے میں امن بھی قائم نہیں ہوسکتا۔


ای پیپر