نسل پرستی…
08 جون 2020 (14:55) 2020-06-08

دنیا کی مہذب ترین سمجھے جانے والی امریکی قوم کی حرکات وسکنات بذریعہ سوشل میڈیا وائرل ہیں، لوٹ مار، توڑ پھوڑ میں جس طرح مردوزن مگن ہیں یہ انکا ہی خاصہ ہے،تعلیم نے انکا کچھ نہیں بگاڑا کے مصداق ان پر ہی لازم آتے ہیں، عوام سیاہ فام مسٹرجارج فلائیڈ کی پر تشدد ہلاکت پر سراپا احتجاج ہیں،یہ چالیس شہروں میں پھیل چکا ہے ، جن گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، جنکی دوکانیں لوٹی جارہی ہیں وہ بھی تو امریکی شہری ہی ہیں، اگر پر امن رہتے تو سیاہ فام طبقہ اور دنیا کی زیادہ ہمدردی سمیٹتے، مگر ذاتی مفاد کی لوٹ مارسے غلط پیغام گیا ہے، امریکی سرزمین پر یہ سیاہ فام کا پہلا بیہمانہ قتل نہیں ہے اس سے پہلے بھی پولیس کے ہاتھوں سینکڑوں افراد کو جان سے ہاتھ دھوناپڑا، تشدد کے واقعات کی نگرانی کرنے والی ایک ویب سائٹ پولیس میٹینگ کے مطابق 2013-2019 کے درمیان ہونے والے غالب افراد کے قتل میں پولیس افسران پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا، باراک اوبامہ سیاہ فارم سابق صدر نے اس واقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے، کہ وڈیو نے مجھے توڑ دیا اور میں رو پڑا، محض بیس ڈالر چوری کی اتنی بڑی سزا کسی نفرت کا پتہ دیتی ہے، سیاہ فام امریکی آبادی کا تیرہ فیصد ہیں، امریکہ کی تعمیر میں ان کا بڑا کردار ہے، اس کے باوجود معروف مصنف ریڈلی کہتی ہیں کہ زیادہ تر عوام خود کو سیاہ فام کی جگہ پر رکھ کر نہیں دیکھ سکتے، ہر چند قانون کی کتابوں میں سیاہ فام افراد کو تو مساوی مقام دیا ہے مگر امریکی عوام انکو دل میں جگہ دینے کو تاحال تیار نہیں ، ماہرین قتل کی وجوہات عسکریت پسندی، احتساب اورشفافیت کے فقدان سے جوڑتے ہیں۔ سیاہ فام باشندوں پر منشیات نوشی کرنے کا الزام بھی لگتا ہے ،سفید فام بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، لیکن گرفتاری ہمیشہ سیاہ فاموں کا ہی مقدر ٹھہری۔

ایک ایسے وقت میں جب کورونا سے ایک لاکھ سے زائد شہری اسکا ایندھن بنے، چار کڑور کو بے روزگاری کا سامنا ہے، صدارتی الیکشن کی بھی آمد آمد ہے، پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ انداز میں سیاہ فام کی ہلاکت کی حماقت کیوں کی گئی ہے اس کے اثرات امریکی سیاست پر ضرور مرتب ہونگے۔ زیادہ شہروں میں اجتماعی احتجاج نے

سرکار کے ہوش اڑا دئیے ہیں، وائٹ ہاوس پر حملہ عوامی غصہ کا عکاس ہے، ناقدین کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے شہریوں کوغم وغصہ سے بھر دیا ہے۔ پولیس کو بھی اس قتل کی بھاری قیمت ادا کر پڑے گی۔

ایسا پرتشدد سانحہ پولیس کے ہاتھوں شائد پہلی بار امریکہ میں ہوا ہو، جس نے عوام کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کیا ہے، لیکن فلسطینی اور کشمیری مردوزن کو تو ہرروزاس سے بھی زیادہ سنگین ظلم و ستم سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں سہنا پڑتا ہے، اگر طاقتور ریاست کے باشندے مذکورہ مظلومین کے لئے بھی پر امن احتجاج کو رواج دیتے تو آج سیاہ فام کی یوں بے آسرا ہلاکت نہ ہوتی، جس طرح امریکی شہریوں کے حقوق مقدم ہیں اسی طرح باقی دنیا کے انسان بھی سول رائٹس رکھتے ہیں، البتہ دیگر ممالک کے سیاہ فاموں نے اپنے پلے کارڈ سے احتجاج کے دوران انکل سام کو اپنی طاقت کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کاوش کی ہے کہ وہ عرب نہیں جو ہر ناانصافی برداشت کرلیں، انکا یہ پیغام عرب حکمرانوں کے لئے ایک طمانچہ کی حیثیت رکھتا ہے،جنہوں نے تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود اپنی عوام کو قتل ہونے کے نام پر نیٹو جیسے بھیڑئے کے سامنے ڈال دیاتھا ،ہر چند کہ ہم امریکی پولیس کے رویہ کو غیر انسانی کہنے میں حق بجانب ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قریبا ایسا ہی سلوک ہر بے بس عجمی سے کیا جاتا ہے ، حالنکہ عرب کے صحرا آبادکرنے اور قد آدم عمارات تعمیر کرنے میںعجمیوں کی محنت اسی طرح شامل ہے جس طرح کالوں کی امریکی آباد کاری میں ہے لیکن کسی عجمی کوعربی کے برابر حقوق میسر نہیں رہے۔ وہ ہمیشہ سے اجنبی ٹھرے ہیں۔

ارض پاک کے تعلیم یافتہ شہر کراچی میں کئی بار خون کی ہولی کھیلی گئی، بوری بند لاشوں کا کلچر آباد رہا ، مگر ہم احتجاج کی ایسی روایت قائم نہ کرسکے،اسی شہر میں پولیس کے ایک سورماء پر سینکڑوں شہروں کو بے دردی سے ہلاک کرنے کا الزام ہے، ایک فیکٹری میں مزدوروں کوزندہ جلانے کا سانحہ آج بھی انصاف کا منتظر ہے، کراچی کی آدھی آبادی بھی اس وقت نکل کھڑی ہوتی تو حالات مختلف ہوتے، ہمارا پولیس کلچر سامراجی روایات کا آیئنہ دار ہے، ہر سرکار اسکی تبدیلی کا لولی پاپ دیتی ہے، لیکن ستر سال سے پرنالہ اپنی جگہ پر ہے، امریکی عوام کے ایک بھر پور احتجاج نے پولیس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرد یا ہے۔ نجانے ہمیں بھی پولیس کے ظالمانہ کلچر سے نجات کے لئے یہی راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟ ہمارا خمیر جس مذہب سے اٹھا ہے عدل وانصاف اس کا بنیادی وصف ہے، جس ہستی کے ہم پیرو کار ہیں انھوں انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے والے تمام امتیازات کے خاتمے کا حکم صادر فرمایا، پسے ہوئے طبقہ کو زندگی دی، کا لے اور گورے کے جس تنازعہ میں انکل سام الجھا ہواہے، نبیؐ آخرزمان نے حسب ونسب کے تمام بت اپنے پائوں تلے روند دئے، اسلام کا اصل پیغام ہی انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا ہے، وہ فتح مکہ کا کیا منظر تھا جب سارے قریش کے سردار بڑے ادب سے کھڑے تھے، آپ ؐ نے حضرت بلال حبشیؓ کو کعبہ کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم صادر فرمایا، یہ سیاہ فام شخصیت ان سرداروں سے آج بہت ہی محترم تھی، جو کبھی ان کی نظر میں کم تر تھی

یہ عقیدت بعد میں بھی جاری رہی، روایت ہے کہ حضرت بلالؓ آپ ؐ کے بعد شام چلے گئے، خواب میں آپؐ کی زیارت ہوئی، تو کہا تم بے وفائی کر گئے ،ہمارا شہر چھوڑ دیا،سواری لی فورا مدینہ چلے آئے،دیوانہ وار آپ ؐ کو تلاش کیا، کہی نہ پا کر روضہ اقدس سے لپٹ کر رو دیئے جب آپکی ؓ آمد کی خبر اہل مدینہ کو ہوئی تو انھوں نے مسجد نبوی ؐ کا رخ کیا اور اذان سنانے کی استدعا کی، آپؓ کو اس ماحول میں اذان سنانا مناسب نہ لگا، کیونکہ آپؐ کی موجودگی میں شہادت دیتے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، اتنے میں حضرت امام حسین ؓ کو آتے دیکھا تو لوگوں نے ان سے کہا کہ بلال ؓ کو اذان دینے کی درخواست کریں، ظاہر اب حکم عدولی ممکن نہ تھی ،کہا جاتا ہے آواز کا سننا تھا کہ پورا مدینہ امڈ آیا، شاید وہی دن تھا جب اہل مدینہ جی بھر کے رو دیئے۔

ایسے وقت میں جب انسانی حقوق کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے،اس طاقت ور سرکار کو نسل پرستی کا معاملہ در پیش ہے، جو دوسروں کے حقوق کی ٹھیکدار رہی ہے، آج اسکے شہری اپنی سرزمین پر امتیازی سلوک کے خلاف آگ کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے پسے ہوئے طبقات، انسان آج بھی نبی آخرالزماں کی تعلیمات میں پناہ لے سکتے ہیں،، تاہم ہماری ناکامی یہ ہے کہ ہم آپ ؐ کے خوبصورت پیغام کو دنیا کے سامنے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے، تقویٰ کی بجائے، حسب نسب کے غرور نے ہمیں بھی محکومی کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ جو نسل پرستی کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے۔


ای پیپر