عرفان خان کا آخری خط
08 جون 2020 (14:54) 2020-06-08

زندگی کیا ہے۔ یہ جب ختم ہونے لگتی ہے تو کیسی لگتی ہے اور زندگی میں سکون کس وقت حاصل ہوتا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر عاقل اور بالغ انسان کے دماغ میں گاہے باگاہے جنم لیتے رہتے ہیں۔ کسی کو ان کے جواب جلد مل جاتے ہیں، کچھ ساری عمر تلاش میں گزار دیتے ہیں اور کچھ مرتے وقت جواب تلاش کر پاتے ہیں۔ایسے ہی کچھ جواب بھارتی نڑاد بولی وڈ اور ہالی وڈ کے مسلمان اداکار مرحوم عرفان خان کے آخری خط میں موجود ہیں۔ یہ خط نہیں ہے بلکہ زندگی کو سمجھنے کا نایاب فارمولہ ہے۔ آپ یہ خط پڑھتے جائیں اور زندگی کی بند گر ہیں کھلتی جائیں گی۔ مسائل کے گنجلوں میں الجھی ہوئی زندگی میں ڈور کا سرا مل جائے گا۔ لامحدود خواہشات کے خمیر سے گوندھے گئے زندگی کے مقاصد کی اصلیت عیاں ہو جائے گی۔ انسانی غرور اور تکبر کو اپنی ہی مٹھی میں سے ریت کی طرح سرکتے دیکھنے کا احساس آپ کے دماغ کی رگوں میں سرائیت کر جائے گا، جسے آپ چاہتے ہوئے بھی اپنے خون سے نکال نہیں سکیں گے۔ دولت، شہرت اور رتبے کا نشہ کس طرح سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں زمین بوس ہو جاتا ہے اس کا حقیقی احساس آپ کو ہو سکے گا۔ خود کو اپنی ہی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھنے کے جذبات جس بے قراری اور قرب سے عرفان خان نے اپنے خط میں بیان کیے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آئیے وہ خط پڑھتے ہیں۔

’’کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمھاری آنکھ اس جھٹکے سے کھلتی ہے جو زندگی تمھیں جگانے کے لیے دیتی ہے۔ تم ہڑبڑا کر اٹھ جاتے ہو۔پچھلے پندرہ دنوں سے میری زندگی ایک سسپنس والی کہانی بنی ہوئی ہے۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ انوکھی کہانیوں کا پیچھا کرتے کرتے میں خود ایک انوکھی بیماری کے پنجوں میں پھنس جاؤں گا۔ ابھی تھوڑے دنوں پہلے ہی مجھے اپنے نیورو اینڈو کرائن کینسر کا پتہ چلا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ایسی بیماری ہے جس کے مریض پوری دنیا میں بہت ہی کم ہیں۔نہ ہونے کے برابر۔مریض نہیں ہیں تو اس پر تحقیق ویسی نہیں ہوئی جیسی ہونی چاہیے تھی۔ نتیجہ کیا ہو گا۔ ڈاکٹرز کے پاس دوسری بیماریوں کی نسبت اس کے بارے میں کم معلومات

ہیں۔علاج کامیاب ہو گا یا نہیں یہ بھی سب ہوا میں ہے اور میں بھی۔میں بس دواؤں اور تجربوں کے کھیل کا ایک حصہ ہوں۔یہ میرا کھیل نہیں تھا۔ میں تو فل سپیڈ والی بْلٹ ٹرین میں سوار تھا۔میرے تو خواب تھے،کچھ کام تھے جو کرنا تھے،کچھ خواہشیں تھیں، کچھ منزلیں تھیں، کچھ تمنائیں تھیں، آرزوئیں تھیں اور میں بالکل ان کے درمیان میں لٹکا ہوا تھا۔ اب کیا ہوتا ہے کہ پیچھے سے کوئی آکر میرا کندھا تھپتھپاتا ہے۔میں جو مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ بلٹ ٹرین کا ٹکٹ چیکر ہے۔ ٹکٹ چیکر مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے کہ ’’تمھارا سٹاپ آنے والا ہے بابو، چلو اب نیچے اترو‘‘۔ میں ایک دم پریشان ہو جاتا ہوں۔ نہیں نہیں بھائی میاں میری منزل ابھی دور ہے اور پھر ٹکٹ چیکر مجھے سمجھانے والے انداز میں کہتا ہے۔’’نہیں یہی تمھارا سٹاپ ہے۔سٹاپ تو بس یہی ہے‘‘۔ ہو جاتاہے۔کبھی کبھی کچھ ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ اس اچانک پن میں پھنس کر مجھے سمجھ آ گئی کہ ہم سب سمندر کی بے رحم لہروں کے اوپر تیرتے چھوٹے سے لکڑی کے ٹکڑے کی طرح ہیں۔ بے یقینی کی ہر بڑی لہر کے آگے ہم تو بس اپنے چھوٹے سے وجود کو سنبھالنے میں لگے رہتے ہیں۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اس مصیبت میں پھنسنے کے بعد میں جب ڈرا سہما ہوا ہسپتال جا رہا تھا تو میں نے اپنے بیٹے سے یونہی بڑبڑاتے ہوئے کہا، مجھے اپنا سکون اپنا اطمینان واپس چاہیے۔ میں ایسی قابل رحم قسم کی ہولناک حالت میں اب مزید نہیں رہنا چاہتا۔ میں برداشت کر رہا تھا۔ درد کی شدت کا احساس کر رہا تھا۔لیکن اس پوری مدت میں کوئی بھی چیز اسے ختم نہیں کر پارہی تھی۔کوئی ہمدردی، پیار بھرے بول، کوئی ہمت بندھانے والی بات، کچھ بھی نہیں۔اس وقت پتہ ہے کیسا لگتا تھا۔جیسے پوری کائنات صرف ایک چیز کا روپ دھار چکی ہے۔ درد، خوفناک درد۔ وہ درد جو ہر چیز سے بڑا ہے۔ہر چیز سے مایوس ہو کر تھکا ہارا، بے حال جب میں ہسپتال کے اندر داخل ہورہا تھا تو سامنے کی طرف میری نظر پڑی۔یہ لندن کا ایک ہسپتال تھا۔سامنے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ تھا۔وہ لارڈز جسے دیکھنا میری بچپن کی سب سے بڑی حسرت تھا اور اب اس تکلیف کے دوران وہاں لگا ویون رچرڈ کا بڑا سا پوسٹر بھی مجھے اپنی طرف کھینچ نہیں سکا۔ دنیا تو اب جیسے میرے کام ہی کی نہیں رہی۔ایک دن میں ہسپتال کے اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا تھا تو جیسے ایک دھماکا ہوا ہو۔ گیم آف لائف اور گیم آف ڈیتھ کے بیچ میں ہے کیا۔ایک سڑک۔ کرکٹ کو گیم آف لائف بھی کہتے ہیں۔ ایک طرف ایک ہسپتال ہے اور اس کے بالکل سامنے ایک کرکٹ سٹیڈیم اور دونوں میں کھیلے جانے والے کھیل میں ایک چیز کامن ہے، بے یقینی۔ نہ لارڈز سٹیڈیم میں پتہ ہے کہ اگلی گیند پر کیا ہوگا اور نہ ہسپتال میں اگلی سانس کا پتہ ہے۔کامل بے یقینی۔یہ احساس جیسے میرے اندر اتر گیا۔اب مجھے کائنات کی وسعت، اس کی طاقت اور اس کے نظام سب کچھ کہیں نہ کہیں سمجھ آنا شروع ہو گئے تھے۔ آخر میرا ہسپتال ایک کھیل کے میدان کے سامنے کیوں تھا اور صرف میں نے ہی اس بات کو اتنی شدت سے کیوں محسوس کیا۔ یہ سب مجھے آپس میں جڑا ہوا لگنے لگا۔ یو ں سمجھو کہ اس کائنات میں بے یقینی کے علاوہ کوئی بھی ایک چیز ایسی نہیں ہے جسے یقینی کہا جا سکے۔ اب جب سبھی بے یقینی کے بہاؤ میں ہیں تو میں کیا اور میری بے یقینی کیا۔مجھے تو بس اپنی باقی رہ جانے والی طاقت کو سنبھالنا ہے اور اپنے حصے کا کھیل اچھے سے کھیلنا ہے۔تو بس اس ایک لمحے کے بعد مجھے سمجھ آ گئی۔میں جان گیا نتیجہ جو بھی نکلے، مجھے اس حقیقت کو ماننا ہو گا۔ادھر سب کچھ ایسا ہی ہے۔چاہے میرے پاس آٹھ مہینے بچے ہیں، چاہے دو مہینے، یا بیشک دو اور، یا سال یا بے شک دو مزید سال۔ سب کچھ ایک طوفانی لہر میں ہے۔ اس کے بعد تمام خدشے، تمام ڈر، تمام خوف،پریشانیاں، سب کچھ دھندلے ہوتے گئے اور میرا دماغ ان سب سے خالی ہو گیا۔ساری عمر میں پہلی بار تب مجھے اندازہ ہوا کہ آزادی کا کوئی مطلب واقعی میں ہے۔جس دن انسان زندگی اور موت کی فکر سے آزاد ہو جاتا ہے وہی حقیقی آزادی کا دن ہوتا ہے۔ایسا لگتا تھا جیسے مجھے کوئی بڑی کامیابی ملی ہے۔ جیسے زندگی کا جادو بھرا ذائقہ مجھے پہلی بار چکھنے کو ملا ہے اور یہ سب میرے جسم کی ایک ایک پْور میں اتر چکا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ تو وہ جو ننھا سا لکڑی کا ٹکڑا ہے نا اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ پانی کے بہاؤ کا رخ بدلنے کی کوشش کرے۔اسے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم سب قدرت کی گود میں بیٹھے ہیں۔جو ہمیں ہلکے پھلکے جھولے دے رہی ہے۔ نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کچھ بھی کم۔ بس یہی حقیت ہے‘‘۔


ای پیپر