یادیں سفر حجاز کی قسط (5)
08 جون 2020 2020-06-08

اللہ رب العزت نے اس روئے زمین پر بے شمار نعمتیں نازل فرمائی ہیں۔ ان تمام میں سب سے عظیم اور انمول " ایمان" کی نعمت ہے۔ سورت حجرات میں فرمان الٰہی ہے کہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی۔ سورت انعام میں فرمان ربانی ہے ۔ترجمہ: جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستے پر ڈالنا چاہے، اس کے سینے کو اسلام کیلئے کشادہ کر دیتا ہے۔اس شام میںطے شدہ وقت کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئی، تو قرآن کی یہ آیات مجھے یاد آگئیں۔ خیال آیا کہ اللہ کے انعام اور احسان کی انتہاءہے کہ اس نے ہندو گھرانے میں جنم لینے والے کو صراط مستقیم کیلئے منتخب کیا۔اسے بانکے رام سے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی بنا ڈالا۔مدینہ یونیورسٹی اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حدیث کے معلم اور مبلغ کی مسند پر لا بٹھا یا ۔

ڈاکٹر صاحب کا گھر مسجد نبوی سے چند منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔ گھر پہنچی تو اعظمی صاحب استقبال کیلئے کھڑے تھے۔ نہایت شفقت سے ملے۔ کہنے لگے آپ پہلے گھر والوں سے مل لیجئے۔ چائے وغیرہ پیجئے۔ اس کے بعد نشست ہوتی ہے۔ مہمان خانہ (drawing room) میں داخل ہوئی تو ان کی بیگم منتظر تھیں۔ محبت اور تپاک سے ملیں۔ چند منٹ بعد انکی دونوں بہوئیں چائے اور دیگر لوازمات تھامے چلی آئیں۔ کچھ دیر بعد ان کی بیٹی بھی آگئی۔ اس کے بعد گھر میں موجود تمام چھوٹے بچے بھی۔ ان کی بیگم نے جامعہ کراچی سے ایم۔اے کر رکھا ہے۔ کہنے لگیں پی ۔ایچ۔ڈی میں داخلہ لینے کا ارادہ تھا۔لیکن شادی ہو گئی۔ تجسس سے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب ہندوستانی تھے۔ جبکہ آپ پاکستانی۔ شادی کیسے ہو گئی۔ کہنے لگیں کہ میرے ماموں مدینہ یونیورسٹی سے منسلک تھے۔ اعظمی صاحب سے انکی میل ملاقات رہتی تھی۔ بتانے لگیں کہ اعظمی صاحب اسقدر مصروف رہا کرتے تھے کہ میرے پڑھنے لکھنے کی گنجائش نہیں نکلتی تھی۔ البتہ چند سال قبل میں نے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ تینوںبچے اشاعت دین کی طرف نہیں آئے ۔ ان کا خیال تھا کہ جتنا کام ان کے والد نے کیا ہے۔ اسقدر وہ کبھی نہیں کر سکیں گے۔ یہی سوچ کر وہ مختلف شعبوں میں چلے گئے۔ پھر کہنے لگیں کہ آپ کسی بھی شعبہ میں ہوں، اللہ کے بندوں کی خدمت کر کے اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔

آدھ پون گھنٹہ بعد اعظمی صاحب کا بلاوا آگیا۔ ان کے لائبریری نما دفتر کا رخ کیا۔ ابتدائی تعارف کے بعد کہنے لگے کہ میڈیا اور دیگر لوگ انٹرویو وغیرہ کیلئے رابطہ کرتے ہیں۔ میں اپنی ذاتی تشہیر سے گھبراتا ہوں۔ درخواست کرتا ہوں کہ میری ذات کے بجائے، میرے تحقیقی کام کی تشہیر کی جائے۔ تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ اس سے آگاہ اور مستفید ہو سکیں۔ پھر اپنی کتابیں دکھانے اور تحقیقی کام کی تفصیلات بتانے لگے۔ ان کی تحقیق اور درجنوں تصانیف کی مکمل تفصیل کئی صفحات کی متقاضی ہے۔ لیکن ایک تصنیف (بلکہ عظیم کارنامہ) کا مختصر تذکرہ ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بیس برس کی محنت اور جانفشانی کے بعد " الجامع الکامل فی الحدیث ال صحیح ا لشامل©" کی صورت ایک عظیم الشان علمی اور تحقیقی منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔اسلا م کی چودہ سو سالہ تاریخ میں یہ پہلی کتاب ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی تمام صحیح حدیثوں کو مختلف کتب احادیث سے جمع کیا اور ایک کتاب میں یکجا کر دیا گیا ہے۔الجامع الکامل سولہ ہزار صحیح احادیث پر مشتمل ہے۔ اسکے 6 ہزار ابواب ہیں۔ اس کا پہلا ایڈیشن 12 جبکہ دوسرا ایڈیشن اضافات کیساتھ 19ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔

اعظمی صاحب نے بتایا کہ کم وبیش 25 برس میں بطور پروفیسر دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کرتا رہا۔ اکثر یہ سوال اٹھتا کہ قرآن تو ایک کتابی شکل میں موجود ہے۔ مگر حدیث کی کوئی ایک کتاب بتائیں ، جس میں تمام احادیث یکجا ہوں۔ جس سے استفادہ کیا جا سکے۔ صدیوں سے علمائے کرام اور مبلغین سے غیر مسلم اور مشتشرقین یہ سوال کیا کرتے ۔ مگر کسی کے پاس اسکا تشفی بخش جواب نہ تھا۔ مجھے بھی یہ سوالات درپیش رہتے۔ لہذا میں نے حدیث کی ایک کتاب مرتب کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔انہوں نے بتایا کہ طبع دوم میں 99 فیصد صحیح احادیث آگئی ہیں۔ سو فیصد کہنا اس لئے درست نہیں کہ صد فیصد صحیح صرف اللہ کی کتاب ہے۔

انتہائی حیرت سے استفسار کیا کہ اس قدر دقیق اور پیچیدہ کام آپ نے تن تنہا کیسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ کہنے لگے میری یہ بات گرہ سے باندھ لیجئے کہ کسی کام کی " لگن اور جستجو" ہو تو وہ نا ممکن نہیں رہتا۔ سوال کیا کہ اسقدر بھاری بھرکم تحقیق کیلئے آپ دن رات کام میں جتے رہتے ہونگے۔ کہنے لگے ۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا کرتا تھا۔ صبح سویرے کام کا آغاز کرتا اور رات دو اڑھائی بجے تک مصروف رہتا۔ بتانے لگے کہ یہ (وسیع و عریض) گھر جو آپ دیکھ رہی ہیں۔ یہ سا را گھر ایک لائبریری کی مانند تھا۔ ہر جانب کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ یوں سمجھیں کہ میں نے ایک لائبریری میںاپنی چارپائی ڈال رکھی تھی۔ جب تحقیقی کام مکمل ہو گیا تو میں نے تمام کتابیں عطیہ (donate) کر دیں۔ خاندان کا تعاون میسر نہ ہوتا تو میں یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ کمپیوٹر کی جانب اشارہ کر کے بتانے لگے کہ میں اسے استعمال نہیں کر سکتا۔ عشروں سے معمول ہے کہ اپنے ہاتھ سے لکھتا ہوں۔ کوئی نہ کوئی شاگرد بطور کمپوزر میرے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ وہ کمپوزنگ کر تا ہے۔

ڈاکٹر اعظمی صاحب ہندی اور عربی زبان میں بیسیوں کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان تصانیف کے تراجم درجنوں زبانوں میں چھپتے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جامعات اور دینی مدارس میں انکی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔ کہنے لگے کہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکمرانی کی۔ بادشاہوں نے عالیشان عمارات تعمیر کروائیں۔ تاہم غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے ہم وطن غیر مسلمین کو اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے اشاعت دین کا کام نہیں کیا۔ ہندووں کی کتابوں کا فارسی اور سنسکرت میں ترجمہ کروایا ۔ مگر قرآن و حدیث کا ہندی ترجمہ نہیں کروایا۔اگر مسلمان حکمران یہ کام کرتے تو یقین جانیں آج سارا بھارت مسلمان ہو چکا ہوتا۔ (ان دنوںبھارت میں مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی مہم عروج پر تھی)۔ کہنے لگے کہ اگر اشاعت دین کا فریضہ سرانجام دیتا ہوتا، تو آج یہ نوبت نا آتی۔بھارت میں 80 کروڑ ہندو بستے ہیں۔ مشن میرا یہ ہے کہ ہر ہندو گھرانے میں قرآن اور حدیث کی کتب پہنچیں۔ یہی سوچ کر میں ہندی زبان میں لکھتا ہوں۔

اس مقصد کے تحت ڈاکٹر صاحب نے ہندی زبان میں " قرآن مجید انسائیکلو پیڈیا " کی تصنیف فرمائی۔عرصہ دس برس میںیہ تحقیقی کام مکمل ہوا۔ یہ کتاب قرآن پاک کے تقریبا چھ سو موضوعات پر مشتمل ہے۔ تایخ ہند میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جو اس موضوع پر لکھی گئی۔ یہ کتاب بھارت میں کافی مقبول ہے ۔ اب تک اس کے آٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔کچھ برس قبل اس کا انگریزی اور اردو ترجمہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچا۔ سوال کیا کہ آپ کی کتابوں سے ہندو اور دیگر غیر مسلم متاثر ہوتے ہیں؟ کہنے لگے جی ہاں اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ میری فلاں فلاں کتاب پڑھنے کے بعد فلاں فلاں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

کم و بیش گزشتہ بیس برس سے انہوں نے کوئی سفر نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ لائبریری سے دور کہیں آنے جانے کو جی نہیں چاہتا۔ کتابوں سے دور ہوتا ہوں تو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ معلوم کیا کہ آج کل کیا مصروفیات ہیں۔ بتانے لگے کہ کچھ تحقیقی کام جا ری ہیں۔ گزشتہ آٹھ دس برس سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حدیث کا درس دیتا ہوں۔ پہلے بخاری شریف اور صحیح مسلم کے دروس دئیے۔ آج کل سنن ابی داود کا درس جاری ہے۔ بتانے لگے کہ میں لیکچر کچھ اس طرح تیار کرتا ہوں کہ شرح تیار ہو جائے۔تاکہ لیکچرز مکمل ہونے کے بعد کتابی شکل میں چھپ سکے۔مختصر یہ کہ انہوں نے دین کی نشر و اشاعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ ان کی ہر تعلیمی، علمی اور تحقیقی سرگرمی کے پیچھے یہی جذبہ و جنون کار فرما ہے۔

آخر میں مجھے اپنی کچھ کتابوں کا اردو ترجمہ عنایت کیا۔ان پر میرا نام اور عربی زبان میں دعائیہ کلمات تحریر فرمائے۔ کم و بیش اڑھائی تین گھنٹوں بعد میں نے واپسی کی راہ لی۔ اعظمی صاحب برآمدہ (porch) تک تشریف لائے۔ گاڑی گھر سے باہر نکلنے تک وہیں کھڑے رہے۔ ہوٹل واپس لوٹتے وقت مجھے ان پر نہایت رشک آیا۔ خود پر انتہائی ندامت ہوئی۔ خیال آیا کہ ایک میں ہوں، جسے سالوں سے دنیا جہاں کے بے وقعت کاموں سے فرصت نہیں۔ ایک یہ ہیں جو برسوں سے حقیقی فلاح اور کامیابی سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ دعا کی کہ کاش مجھے بھی اللہ کا پیغام سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسکی نشر و اشاعت کی توفیق نصیب ہو جائے ۔ آمین ۔


ای پیپر