کیسی بلندی کیسی پستی
08 جون 2019 2019-06-08

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو حالیہ انتخابات میں غیر معمولی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ایک دفعہ پھر پیشکش کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کو آپس میں مل بیٹھ کر باہمی تعلقات میں کشیدگی کو دور کرنے کے لیے مذاکرات آغاز کرنا چاہیے… کشمیر سمیت جملہ متنازع امور کے پر امن حل کی خاطر آگے بڑھنا چاہیے… وزیراعظم عمران خان اس سے قبل بھارت کی مودی حکومت کو یہاں تک پیشکش کر چکے ہیں کہ انہیں مسئلہ کشمیر کے علاوہ دہشت گردی پر بھی بات چیت کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے… موجودہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اپنے ہمسایہ ملک کو پہلی مرتبہ پیشکش نہیں کی جا رہی بلکہ گزشتہ برس اگست میں جب عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اس وقت بھی بھارتی وزیراعظم کو کھلے دل کے ساتھ پیغام دیا کہ اگر وہ ایک قدم آگے بڑھائیں گے تو جواب میں پاکستان دو قدم اٹھانے کے لیے تیار ہو گا… پاکستان کے سول حکمران کی جانب سے ایک سال سے کم عرصہ کے دوران بھارت کو آمادۂ مذاکرات کرنے کی یہ تمام پیشکشیں اگرچہ ہماری جانب سے خلوص اور باہمی تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے خیر سگالی کے جذبات کی آئینہ دار ہیں لیکن جواب میں نئی دہلی کے حکمرانوں کا جو بھی ردعمل آیا ہے، وہ تکبر اور نخوت پر مبنی رہا ہے… تازہ ترین خط کے جواب میں بھی تادم تحریر نریندر مودی نے عمران خان سے براہ راست مخاطب ہونے کے بجائے اپنی وزارت خارجہ کی وساطت سے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ آئندہ ہفتے کرغزیستان میں منعقد ہونے والی شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن کے سربراہی اجلاس کے موقع پر دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات نہیں ہو گی یعنی باقاعدہ تبادلہ خیالات کا امکان نہیں… مبصرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان رسمی مصافحہ اور مسکراہٹ کا تبادلہ تو ہو سکتا ہے مگر بھارتی حکومت کا سربراہ سرِ دست اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ علیحدہ بیٹھ کر مذاکرات کا ڈول نہیں ڈالنا چاہتا… مذاکرات تو بہر صورت ہونے ہیں… دونوں حکومتیں ان کے بغیر نہیں رہ سکتیں… بین الاقوامی دباؤ بھی ہر دو وزرائے اعظم کو مذاکرات کی میز پر آج نہیں تو کل آمنے سامنے بیٹھنے پر مجبور کر سکتا ہے… لیکن بھارت باہمی کھچاؤ، تناؤ اور کشیدگی کو جس سطح پر لے گیا ہے اور خاص طور پر پردھان منتری نریندر مودی نے اسے اپنی سیاسی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے کیونکہ ان کی رائے کے مطابق حالیہ بھارتی چناؤ کے نتیجے میں انہیں 2014ء کے مقابلے میں جو غیر معمولی اکثریت حاصل ہوئی ہے اور وہ اپنے ملک کے بلا شرکت غیرے حکمران بن گئے ہیں، کانگریس سمیت اپوزیشن کی جماعتوں کو ننھی منی اقلیت میں تبدیل کر کے پارلیمنٹ ہاؤس کے پچھلے بنچوں کی طرف دھکیل دیا ہے… اس میں ان کی پاکستان دشمنی کا بہت عمل دخل ہے… ان کا یہ بھی خیال ہے کہ پلوامہ واقعہ کے نتیجے میں موصوف نے پاکستان کے ساتھ جو شدید معاندانہ رویہ اختیار کیا، اس کے بعد قوم پرستی کی زبردست لہر اٹھی۔ بھارتی ووٹر ان پر کئی درجہ زیادہ فریفتہ ہو گئے اور یہ مقبولیت ان کی غیر متوقع انتخابی کامیابی پر منتج ہوئی…

عمران خان کی بھی خواہش تھی کہ مودی صاحب دوبارہ اپنے ملک کے وزیراعظم بن جائیں… اگرچہ پاکستان کے مقتدر حلقے اور اہل دانش اس رائے کے حامل تھے کہ بی جے پی کو کامیابی تو مل سکتی ہے لیکن پہلے کے مقابلے میں نریندرمودی کی حکومت نسبتاً کمزور ہو گی اور اپوزیشن خاص طور پر کانگریس معتدبہ تعداد میں نشستیں لے کر بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں واپس آئے گی… اس بنا پر پاکستانی وزیراعظم اور ان کے مشیروں کا خیال تھا کہ نریندر مودی بہت زیادہ طاقتور نہیں ہوں گے… وہ امریکہ وغیرہ کے دباؤ میں آ کر برابر کی سطح پر مذاکرات پر مجبور ہوجائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا… پلوامہ اور اس سے جنم لینے والے واقعات خاص طور پر پاک ایئر فورس کی جانب سے گرائے جانے والے بھارتی مگ طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کی بلا تاخیر اور غیر مشروط طور پر بھارت کے سپرد کیے جانے کے واقعے نے نریندر مودی کے غبارے میں بہت زیادہ ہوا بھر دی اور وہ اپنے عوام کو بھی باور کرانے میں کامیاب رہے کہ ابھی نندن کی رہائی پاکستان پر بین الاقوامی خاص طور پر امریکہ وغیرہ کے دباؤ کا نتیجہ تھی…یوں نئی دہلی سرکار کی ڈپلومیسی اس کے لیے ثمر بار ثابت ہوئی اور بھارت کے اندرمیڈیا کے

ذریعے یہ غلط تاثر بھی پھیلایا گیا کہ اگر ابھی نندن کو فوراً رہا نہ بھی کیا جاتا تو ہم پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو خاظر میں نہ لاتے ہوئے حملہ کر دیتے اور اپنے آدمی کو چھڑا لاتے… ایسا ممکن تھا یا نہیں… اس سے قطع نظر نریندر مودی نے اپنے حق میں زبردست فضا بنائی… یہاں تک کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کا خیال تھا کہ انہوں نے جو بھارتی حکومت کو اتنی بڑی رعایت دے دی ہے… ان کے قیدی کو رہا کرنے میں ایک روز کی تاخیر نہیں کی تو وہ کچھ تو ہمارے ممنون ہوئے ہوں گے… چنانچہ خان بہادر نے اسی شب وزیراعظم بھارت سے تین مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو کرنے کی سعیٔ ناتمام کی… اُدھر سے جواب ندارد… اگر چناؤ سے پہلے یہ تاثر عام تھا تو ان میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے بعد مودی صاحب کا دماغ آسمان سے باتیں کرنے لگ گیا ہے… ظاہر ہے وہ تکبر اور نخوت کے اس عالم میں وزیراعظم پاکستان کے خط کا براہ راست جواب کیوں دیتے مگر جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا… بھارتی حکومت دیر یا سویر مذاکرات کی میز پر ضرور آئے گی لیکن اپنی شرائط پر… عمران خان پاکستان کے پہلے حکمران ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ بھارت جیسے دشمن سے تنازع کشمیر کے ساتھ ساتھ دہشت گردی پر بھی گفتگو کرنے کی پیشکش کر ڈالی ہے… نئی دہلی والوں نے سر دست اسے بھی قابل اعتناء نہیں سمجھا حالانکہ ان کی ایک دیرینہ شرط بغیر مانگے منظور کر لی گئی ہے… وہ آگے چل کر بھی کئی سخت شرائط منوائیں گے اور پھر اپنے تئیں Point of strength پر ہمارے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولیں گے اور اس دوران کسی کی پرواہ کیے بغیر کشمیر کے نہتے اور آزادی پسند عوام پر ظلم ڈھاتے رہیں گے جبکہ ہمارے پاس ہلکے پھلکے بیانات مذمت کے علاوہ کچھ نہ ہو گا…

ہم اہل پاکستان کے لیے یہ امر قابل توجہ ہے کہ ہماری پالیسیوں کے زیر و زبر نے ہمیں کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے… 21 واں یوم تکبیر منائے زیادہ روز نہیں گزرے… 28 مئی 1998ء وہ تاریخی دن تھا جب پاکستان نے نہ صرف ڈنکے کی چوٹ پر بھارت کے مقابلے کی ایٹمی قوت بن جانے کا اعلان کیا اور اس سے پہلے 13 مئی کو پوکھران کے دھماکوں کی وجہ سے مودی صاحب کے پیشرو اٹل بہاری واجپائی حکومت نے جنوبی ایشیا کے اندر انا واللہ غیر ی کا جو نعرہ بلند کیا تھا پاکستان کے منتخب وزیراعظم نواز شریف نے ’’اندرونی‘‘ اور بیرونی دباؤ کو در خور ِ اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ایٹمی دھماکے کر کے نئی دہلی والوں کا بت پاش پاش کر کے رکھ دیا… حاصل اس کا یہ ہوا کہ واجپائی صاحب وزیراعظم پاکستان کے ایک اشارے پر بس کی سواری کرتے ہوئے لاہور آن پہنچے… گورنر ہاؤس میں پڑاؤ کے فوراً بعد سیدھے مینار پاکستان جا کر اپنے الفاظ میں پاکستان کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی… معاً بعد مسئلہ کشمیر پر ٹریک ٹو مذاکرات شروع ہوا چاہتے تھے اور بھارت والوں کی زبان پر اٹھتے بیٹھتے دہشت گردی کا نام سوار نہیں تھا… کم از کم باہمی مذاکرات کے لیے اسے شرط کے طور پر (جسے ہماری موجودہ حکومت نے یک طرفہ طور پر تسلیم کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگائی) پیش نہیں کیا گیا تھا… مگر اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو جو بعد میں آئین کا غاصب ثابت ہوا ، یہ سب کچھ راس نہ آیا کارگل کی مہم جوئی کر ڈالی… اس میں اتنے پاکستانی فوجی شہید ہو گئے کہ 65 ء اور 71ء کی جنگوں میں ملا کر نہ ہوئے تھے… جبکہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے جو پیشرفت ہونے والی تھی،اکارت ہو کر رہ گئی… یہ شاخسانہ ہے ہمارے اس طرز عمل کا جس میں پالیسی سازی کا مرکز ایک نہیں، کم از کم دو ہیں… مودی کے پہلے دور میں بھی اس طرح کی کہانی دہرائی گئی … اس نے 2014ء کو اقتدار سنبھالا … دوسرے ہمسایہ ممالک کے سربراہان حکومت کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف کو بھی حلف برداری کی تقریب میں نئی دہلی آنے کی دعوت دی گئی… وہ چلے گئے لیکن پیچھے ملک میں باقاعدہ منظم طریقے سے اتنا شور مچایا گیا … یہاں تک کہاگیا وہاں اپنا کاروبار دیکھنے گئے ہیں جو سب جھوٹ تھا… مگر اس خانہ سازی نے وہ کام نہ ہونے دیا جس کے لیے آج ہم منتیں کر رہے ہیں اور کمینہ دشمن ہمیں گھاس ڈالنے کے لیے تیار نہیں… اس طرح مودی وزیراعظم پاکستان کی نواسی کی شادی پر مبارکباد دینے کے بہانے رائیونڈ چلا آیا تب ’’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘‘ کے ایسے نعرے بلند کیے گئے کہ کانوں پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی… یہ سارا ناٹک اس لیے رچایا گیا کہ ہماری مقتدر قوتوں کو ایک منتخب اور آزاد روش کے مالک وزیراعظم کی جانب سے ایسی کوئی پیشرفت ہضم نہ ہوتی تھی وہ ملک کی خارجہ پالیسی کو غیر آئینی طور پر اپنی مرضی کے تابع رکھنا چاہتی ہیں… نواز شریف کو تیسری بار اٹھا کر پھینکا گیا … عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ان کے زمانے کے بھارتی کرکٹر نجوت سنگھ سدھو اسلام آباد آئے … آرمی چیف نے آگے بڑھ کر گلے لگایا اور کھلے عام پیشکش کر دی کہ کرتار پور کا کوریڈور کھول کر سکھوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنا چاہتے ہیں… نجوت سنگھ سدھو یہ تحفہ لے کر وطن واپس گیا … مودی حکومت نے اتنی بڑی پیشکش کو پر کاہ کی اہمیت نہ دی… نہ بھارتی سکھوں کے اندر پاکستان کے حق میں متوقع زبردست لہر پیدا ہوئی اگرچہ مذہبی لحاظ سے وہ بہت خوش ہیں… اس کے بعد امسال بھارتی وزیراعظم کا جب دوسری بار حلف اٹھانے کا موقع آیا تو ہمارے خان بہادر وزیراعظم آس لگائے بیٹھے رہے کہ دعوت نامہ موصول ہو گا… اور وہ کشاں کشاں نئی دہلی جا کر اپنی ڈپلومیسی کا جادو جگائیں گے… مودی نے جو پلوامہ اور مابعد فصل کاٹی تھی، اسے ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا… تھک ہار کر ہمارے وزیراعظم ہاؤس سے مبارک باد اور مذاکرات کا نیا خط بھیج دیا گیا… وہاں سے تیسرے درجے کے افسر نے جواب دیا ہے کہ ہمارے یہاں ملاقات کی کوئی ایسی تمنا نہیں پائی جاتی… یہ ہے وہ مقام جہاں پر ہمیں لا کھڑا کیا گیا ہے… کیسی بلندی کیسی پستی … کہاں یکے بعد دیگرے بھارتی وزرائے اعظم چل کر ہمارے پاس آتے تھے… کہاں ہماری با ربار کی پیش کش کا جواب دینا گوارا نہیں کرتے… تنازع کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف سو فیصد مبنی بر حق ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ساتھ عین مطابقت رکھتا ہے مگر اس کا کیا کیجیے جہاں پالیسی بنانے کے ایک کے بجائے دو مراکز ہوں… گاڑی گھوڑے کے آگے باندھ دی جائے… پالیسی میں یکسوئی نہ ہو بلکہ ایسا تناقض پایا جاتا ہو کہ چھپائے نہ چھپ سکے… جن کے ہاتھوں میں پرچی کے بجائے کسی اور چیز کی طاقت ہو… آخری تجزیے میں وہ بھاری نظر آئیں … وہ حاوی ہو جائیں تو نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات …


ای پیپر