طریق کو ہکن میں بھی …
08 جون 2019 2019-06-08

عید کے موقع پر وزیر اعظم نئے جوتوں سے محروم کر دیئے گئے۔ شاید اسی لیے انہوں نے نماز عید حکمرانوں کی فیصل مسجد میں پڑھنے کی روایت بھی توڑ ڈالی۔ بنی گالہ یا شاید گھر کے پچھواڑے میں ہی مسجد میں نماز عید ادا کی۔ اگرچہ خلفائے راشدین تو ہمیشہ ( سنت نبوی ؐ پر) دار الحکومت کی مرکزی جامع مسجد کی امامت کروایا کرتے تھے تمام نمازوں کی۔ خیر یہ تو جملہ معرضہ تھا۔ تفصیل یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لیے تحفہ عید ، اژدھے کی کھال سے تیار کردہ گرانقدر جوتا، وائلڈ لائف محکمے والوں نے دھر لیا۔ اژدھے کے حقوق دیکھ کر ہم انگشت بد نداں رہ گئے! کس کی مجال کے اژدھے کی کھال وزیر اعظم کے جوتوں پر منڈھ دے ! ( IMF کے ہاتھوں اُدھڑتی پاکستانیوں کی کھال کے ہوتے ہوئے ؟) وائلڈ لائف ( حقوق ) قوانین فوراً حرکت میں آئے اور جوتے دھرلیے گئے۔ جوتا ساز فرار ہو گیا ۔ اژدھے، چیتے، تلور، ہرنوں کے حقوق پر ہم تو رشک و حسد سے دہک اٹھے۔ آج دنیا میں سبھی پر قوانین ہیں۔ مسلمان ممالک میں اقلیتوں پر قوانین ہمہ وقت تلوار بن کر ہمارے سر پر تانے رکھے جاتے ہیں۔ نکسیر بھی پھوٹ جائے کسی اقلیت کی تو ہماری شامت آ جاتی ہے۔ پوری دنیا کائیں کائیں کر اٹھتی ہے۔ وائلڈ لائف ؟ جنگلی حیات ! ہماری زندگی کچھ کم ’’ وائلڈ ‘‘ تو نہیں کر دی گئی۔ بلکہ پوری دنیا ہی ایک جنگل کا منظر پیش کر رہی ہے۔۔ اژدھے کے حقوق اور انسانوں کے اڑتے چیتھڑے بھی تو جنگل کے قانون ہی کا نتیجہ ہے۔ معاشرت، معیشت، سیاست، عالمی سطح پر بال بکھیرے سینہ کوبی کرتی وحشت زدہ دیکھی جا سکتی ہے۔ شعور کو تھپک تھپک کر سُلا نہ دیا گیا ہو تو اخباروں کی ساری سرخیاں، ’ وائلڈ ‘ ہوتی ہیں۔ پڑھنے والادیوانہ ہو اٹھتا ہے۔ بھارت میں گوشت کھانے کے جھوٹے الزام میں چار مسلمان مزدور گائے کے احترام میں ادھ موئے کر ڈالے۔ برما میں 2012 ء سے مسلمانوں کو بھبھوڑنے، جلا مارنے، غرق کر ڈالنے کا تسلسل کئی مسلم ممالک میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا انخلاء اور مظلومیت۔ تاہم اس درندگی کے ماحول میں اژدھا پروری کی یہ رحمدلی، نرم مزاجی تو اژدھے کی چمکتی کھال سے زیادہ ’ حسین‘ اور حیرت انگیز ہے۔ چین کے الیغور مسلمانوں کی تو ہم بات ہی نہیں کر رہے جو روزہ رکھنے، نماز پڑھنے کے حق سے محروم ہیں۔ ساونڈ وژن (شکاگو) کی رپورٹ کے مطابق نازی جرمنی کے بعد سب سے بڑا دنیا کا حراستی کیمپ 30 لاکھ الیغور مسلمانوں کا ہے۔ وائلڈ لائف قوانین کی چھتری تلے آنے کے لیے کیا بہتر نہ ہوگا کہ اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کر کے مسلمانوں کو جانور قرار دے دیا جائے؟ کشمیری، بھارتی مسلمان، روہنگیا، فلسطینی ، شامی؟ شام میں بشار الاسد اور روس کی وحشیانہ بمباری شہریوں، معصوم بچوں کے چیتھڑے اڑا رہی ہے۔ ادلب میںدرندگی کا عالم یہ کہ 8 ہسپتال تباہ کر دیئے۔ عید الفطر کے سارے رنگ شامیوں کے خون میں نہائے لال رنگ تھے۔مسلم دنیا ( ساری شام بارے احادیث کے ہوتے ہوئے) منہ موڑے بے بسی اور بے حسی کی تصویر ہے۔ کافر دنیا ہمارے خون کی ندیاں بہانے پر متفق و متحد ہے۔ صرف ادلب ( شام) کی چند و ڈیوز دیکھ لیجئے۔ جان بلب بچے۔ 3 معصوم بیٹوں کی لاشوں پر کلمہ، تکبیر پڑھتا باپ! جلی ہوئی سیاہ لاشیں۔ درندہ صفت بیرل بم۔خونچکاں یا بے حس مسلم دنیا میں افغان استثناء ہیں جنہوں نے بظاہر مہذب گوروں کے چہروں کے غلاف اپنی شجاعت و حمیت کے بل بوتے پر نوچ پھینکے ہیں۔ ہمی گھگیائے مسمی صورتیں بنائے ان کے پیچھے غلام بنے اپنی معزز ملت کی سودا گری پر تلے بیٹھے ہیں۔ اپنی شناخت کھرچ کھرچ کر اتار پھینکنے کے سارے جتن کر ڈالے۔ رمضان گزر گیا۔ ایک اخباری باتصویر رپورٹ میں رمضان ٹرانسمیشن ( ٹیلی وژن) کی حسب سابق دیدہ دلیریوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اداکارائیں کس طرح رمضان کا تقدس پامال کرتی رہیں۔ ’دھیمے، دلکش، خوبصورت انداز میں ‘ شوبز رمضان چلا۔ سورۃ النور، الاحزاب کے عورت بارے حیا، وقار، تقدس اور حجاب کے احکامات والے ماہ قرآن میں یہ دیدہ دلیری؟ الیس منکم رجلِ رشید۔ پوری حکومت، اسٹیبلشمنٹ، میڈیا خوف خدا سے اس درجہ عاری، بے بہرہ ہو چکے؟ خبر، ان خواتین کے حسن و جمال، خوبصورت سٹائل ( عشوے غمزے) نیم وا لباس کی تراش خراش، ( آواز کی حیا، سورۃ احزاب کے علیٰ الرغم) ترنم کی تعریفوں سے پُر تھی۔ خدارا ہوش کریں۔ رحمت مغفرت کے مہینے، قرآن، التزامِ قرآن کے مہینے میں اس درجہ بے خوفی؟ نہ جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے پکڑ اس کی، ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا ! پورا قرآن نہ سہی صرف سورۃ القمر کا مطالعہ کر لیجئے۔ پہلے

ہی چاند پر کمندیں ڈالتے اپنی بھداڑوا چکے ہیں۔ قوم کی معاشی جیب کترنے کے بعد حکومت اب دین پر دست درازی کی مرتکب ہوئی۔ خیبر پختونخواہ میں ساڑھے 3 کروڑ آبادی کے روزوں سے کھلواڑ کے بعد ( زبردستی عید کا چاند نکالا) اب خود ہی اعلان فر ما رہے ہیں کہ ایک روزے کا کفارہ دیں گے ! کون کونسے کفارے ادا کریں گے؟ صوبہ بھی وہ واحد جو صوم و صلوٰۃ کی پابندی کا بہتر ریکارڈ رکھتا ہے ! یہ ہے نیا نکور پاکستان۔ اتنا نیا کہ پہچانا ہی نہیں جا رہا۔ یہ نیا پن اتنا ہی بڑا المیہ اور اضحوکہ ہے کہ جیسے ایک مردانہ مرد اچانک مغربی اصطلاح کے مطابق، Gender Fluid ہو جائے۔ یعنی صنفی طور پر اچانک پل میں مذکر پل میں مونث ! شدید زنانہ میک اپ، لباس اوڑھ پہن کھڑا/ کھڑی ہو جائے۔ سو اقبال کے خوابوں کی یہ ہونق تصویر ! دوبئی، جو ہمارے سیاست دانوں، حکمرانوں کا میکہ بھی

ہے، جائیداد گھر بھی ، پکنک کا تفریحی مقام بھی ، کچھ ایسا ہی حال رکھتا ہے۔ یعنی یہ کہ گردوارے مندروں کو چھوٹی سی ریاست میں وسیع و عریض زمین دینے والا۔ انہی گردواروں، مندروںمیں ضمناً مسلمانوں کو ذیلی طور پر جگہ دے کر نماز تراویح، 8 رکعتوں میں بھاگم بھاگ چھوٹی سورتیں پڑھوا کر ( مکمل قرآن نہیں) نیا دوبئی بھی تو دکھا دیا گیا ۔ ایک طرف گلف نیوز، بھارت کی مسلم آبادی کے خلاف نسل کشی اور مبنی بر نفرت جرائم کی ( مذکورہ بالا خبر سمیت) تمام خبریں دے رہا ہے۔ دوسری طرف ہندو نوازی، بھارت نوازی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ یہی تمام مسلم حکمرانوں کا المیہ ہے اور یہی فتنہ دجال بھی ہے ! یہی خبر جو مسلمان مزدوروں پر تشدد کی سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی اگر پاکستان میں کسی عیسائی یا ہندو بارے ہوتی توپوری دنیا آگ بھبھوکا ہو کر ہم پر ٹوٹ پڑتی، قیامت برپا ہو جاتی !

ہر حکومت کرسی تک رسائی سے پہلے آسمانی دعوے لے کر آتی ہے۔ بعد ازاں ، طریق کو ہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی، قرار پاتی ہے۔ اب خواہ یہ پرویز ایرانی بادشاہ ہو، پرویز مشرف ہو، یا نئے پاکستان کے شاہان، شبنم گل کی تعیناتی ہو یا عمرے پر سرکاری خرچ پر دوست احباب، سابق گھر والے ہوں۔ سارے سابقے لا حقے لاد کر لے جانے پر عوام بہت جُزبز ہوئے۔ عوام ٹیکسوں اور مہنگائی کی چکی میں پیس نچوڑ ڈالے گئے۔ اب ان سے نچوڑا گیا پیسہ، بھینسوں، سرکاری گاڑیوں کو ( کیمروں کی چکا چوند میں ) بیچ کر حاصل کیا گیا پیسہ سب احبابی عمرے پر لٹا دیا گیا ۔ عجب دین الٰہی بنا رکھا ہے۔ رمضان کے عمرے کا تقدس دیکھئے اور اس پر لٹایا گیا مال یتیم ملاحظہ ہو ! ( قوی خزانے کی حیثیت مال یتیم کی سی ہے۔) ادھر آپ کا وعدہ ایک کروڑ نوکریوں کا بھی تھا۔ اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ تھا یا چھیننے کا ؟ قومی خزانہ بھرنے کے نام پر ایک نیا شوشہ یہ بھی ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے ایئر پورٹ پر ٹھپے لگا کر کچھ ممالک کو ویزوں کی کھلی چھوٹ عنایت ہو گی ۔ ان میں امریکہ بھی شامل ہے ! یہ عین وہی سب کچھ ہے جو پرویز مشرف کر کے ملک کھوکھلا کروا چکا۔ سی آئی اے ایجنٹوں اور ریمنڈ ڈیوسوں کی یلغار اسی بے دریغ، بلا سوال فوری ویزوں کے ہاتھوں ہوئی تھی ۔ ہمارے تو سفارتکاروں کو بھی وہاں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ ہو اور ہم ان کی صد اور دشمنی کے مسلسل چرکے کھا کر بھی طواف کوئے ملامت سے باز نہ آئیں؟


ای پیپر