عمرہ نامہ !
08 جون 2019 2019-06-08

قارئین میں اِن دِنوں مدینہ شریف میں ہوں۔ دِل کی جو کیفیت ہے، دِل میں جو سکون ہے اُس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں، بس ایک کونے میں بیٹھا رہتا ہوں، اور التجا کرتا رہتا ہوں جِس کے در کا گدا گر بن کر بیٹھا ہوں روز حشر اُس کی شفاعت نصیب ہوجائے ۔ رمضان المبارک میں مدینہ شریف میں آمد اور عمرے کی سعادت نصیب ہونے کا اپنا ہی لطف ہے۔ سو مسلمانوں میں یہ لطف اُٹھانے کا رجحان ہر سال بڑھتا جارہا ہے، یہاں لوگوں نے مجھے بتایا اِس برس رمضان المبارک میں پوری دنیا سے اتنی بڑی تعداد میں مسلمان عمرے کی سعادت حاصل کرنے آئے ماضی میں اُس کی مثال نہیں ملتی، ویسے بھی ہم نے اپنے بزرگوں سے سُن رکھا ہے رمضان المبارک میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے کا ثواب حج کے برابر ہوتا ہے ،....رمضان المبارک میں اِس مقدس سرزمین پر حاضری پہلی بار قسمت میں لکھی گئی ہے، یا ہوسکتا ہے قسمت میں لکھی تھی مگر اُس کا وقت اب آیا ہے ، اِس سے قبل میں تین بار عمرہ کرچکا ہوں، اِس بار فیملی بھی ساتھ ہے، میری فیملی بہت مختصر ہے، ایک بیٹی ہے جس کی سال قبل شادی کردی تھی، اور ایک بیٹا راحیل بٹ سوفٹ ویئرانجینئرنگ کا طالب علم ہے اور اِس وقت میرے ساتھ ہے، وہ میرے ساتھ آدھی دنیا گھوم چکا ہے مگر عمرہ کے لیے میرے ساتھ پہلی بار آیا ہے ۔اُس کے علاوہ بہت سے اور عزیز دوست اور رشتہ دار بھی میرے ساتھ ہیں، سگے چھوٹے بھائی کی طرح عزیز شیخ عمرارشد اُن کے بڑے بھائی شیخ قاسم ارشد اور برادر عزیز شیخ شہزاد الٰہی بھی ساتھ ہیں، ....میرے ایک محسن اور محترم بھائی میاں عادل رشید مجھے اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہیں، اللہ نے دوبار اُنہیں نئی زندگی دی، ایک بار کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوئے اور دوسری بار دِل کا ایسا شدید دورہ پڑا میں اُس وقت ہسپتال میں اُن کے پاس کھڑاتھا، میں دیکھ رہا تھا اُن کی ”لائف لائن“ بالکل سیدھی ہوگئی تھی، ڈاکٹرز باقاعدہ اُن کے سینے پر سوار ہوکر اُنہیں جھٹکے دے رہے تھے ، مجھ سے یہ منظر دیکھا نہ گیا، مجھے ہوش اُس وقت آیا جب میرے کانوں میں کسی کی آواز پڑی، ”اللہ نے میاں عادل کو نئی زندگی عطا کی ہے“....میاں عادل کی اولاد بھی مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز ہے، کسی نے بالکل درست فرمایا ہے، اور شاید یہ حضرت واصف علی واصف کا فرمان ہے ”رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں“.... میاں عادل رشید اور اُن کے چھوٹے بھائی میاں عمر رشید کے ساتھ میرا خون کا نہیں احساس کا رشتہ ہے، اور کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اچھا ہی ہے اُن کے ساتھ میرا احساس کا رشتہ ہے، خون کا ہوتا اب تک شاید قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہوتا، زندگی میں جب کبھی کسی بھی معاملے میں کوئی مشکل پیش آئی، اللہ کے فضل سے وہ میرے ساتھ کھڑے ہوئے، اور اِس طرح ہوئے کہ ”احساس کے رشتے“ کا حق ادا کردیا ، میاں عادل رشید کی اکلوتی بیٹی کا نکاح اُن کے چھوٹے بھائی میاں عمر رشید کے بیٹے میاں رحمت اللہ جاوید کے ساتھ طے پایا ہے، میاں عمر رشید تقریباً ہر برس رمضان المبارک عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، سو اُنہوں نے اِرادہ کیا بیٹے کے نکاح کی رسم مدینہ شریف میں اداکی جائے۔ اِس مقصد کے لیے اُن کی پوری فیملی تیار ہوگئی، مجھے وہ چونکہ ہمیشہ اپنی فیملی کا ہی حصہ سمجھتے ہیں، اور میرے جذبات بھی ایسے ہی ہیں، تو اُنہوں نے مجھے حکم دیا مدینہ منورہ میں ہونے والے اِس نکاح میں آپ بھی بمعہ اہل وعیال شریک ہوں گے، میرے لیے یہ یقیناً بڑے سعادت کی بات اِس لیے بھی تھی کہ پہلی بار رمضان المبارک میں مدینہ شریف اور اُس کے بعد مکہ شریف میں عمرے کا موقع ملے گا، سوعید کے فوراً بعد کچھ اہم ترین مصروفیات جن میں عید کے فوراً بعد دوماہ کے لیے برطانیہ اور یورپ کے دورے پر روانہ ہونا تھا کو نظرانداز کرتے ہوئے یا پرے پھینکتے ہوئے اِس حکم کی تعمیل ظاہر ہے میرے لیے اعزاز کی بات تھی، ....اب ہم سب مدینہ شریف میں ہیں، فیصل آبادسے میرے عزیز ترین چھوٹے بھائی حسن سرفراز کی فیملی بھی یہاں

ہے، وہ بھی ہرسال رمضان المبارک کا آخری عشرہ اِسی مقدس ترین سرزمین پر گزارتے ہیں، بلکہ اُن کے والد حافظ سرفراز صاحب کو تو رمضان المبارک کے آغاز میں ہی اس مقدس ترین سرزمین پر اُترنے کی طلب محسوس ہونے لگتی ہے، یہ بڑے نصیبوں کی بات ہوتی ہے ورنہ میں نے بڑے بڑے دولت مندوں کو دیکھا ہے حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنا تو دور کی بات ہے اُس کے تصور تک کرنے کی توفیق اُنہیں نہیں ہوتی، البتہ ایک ”گروہ“ ایسا بھی ہے جو ہرسال حج اور عمرے بڑے ذوق وشوق سے کرتا ہے کہ سال بھر میں جو گناہ پوری توجہ اور لگن کے ساتھ وہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے مسلسل حج اور عمرے کرنے سے ساتھ ساتھ وہ معاف ہوتے جائیں گے، تاکہ اُس کے بعد اُسے ”تازہ دم“ ہوکر گناہ کرنے کی طاقت یا ہمت نصیب ہو جائے ۔ہمارے جاننے والے ایک الحاج صاحب فرما رہے تھے کاش ایک برس میں دو حج ہوتے کیونکہ بعض اوقات ایک برس میں گناہ کچھ اتنے زیادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ شاید ایک حج میں معاف نہ ہوتے ہوں‘ .... خیر قارئین اب میں مدینہ شریف میں ہوں، میرے نزدیک پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اِس سے بڑھ کر خوبصورت اور پُرسکون مقام کوئی اور ہونہیں سکتا، دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے اعلیٰ اور منفرد مقام پر بیٹھ کر وہ سکون نصیب نہیں ہوتا جو مسجد نبوی میں بیٹھ کر ہوتا ہے، ابھی دو چار روز میں مزید مدینہ شریف میں ہوں، میں اکثر کسی کونے میں بیٹھ جاتا ہوں، اور اُونچی آواز میں یہ نعت رسول مقبول پڑھتا ہوں ”رحمت برس رہی ہے محمد کے شہر میں ....مجھے یہاں رہ رہ کر امجد فرید صابری قوال یاد آتے ہیں جنہیں شہید کردیا گیا تھا، مجھے رہ رہ کر یہاں اپنے مرحومین والدین یاد آتے ہیں جن کے سر پر صرف ایک ہی بھوت سواررہتا تھا کہ اُنہیں مسجد نبوی کے ”ٹائیلٹس“ صاف کرنے کا کام مِل جائے۔ مجھے یہاں رہ رہ کر اپنا چھوٹا بھائی محمد ثاقب یاد آتا ہے جسے الحمدللہ کینسر کے موذی مرض سے نجات تو مِل گئی مگر کیموکے چوبیس کورس لگنے کے بعد وہ مختلف چھوٹے چھوٹے امراض میں مبتلا رہتا ہے، اور اِس قابل نہیں رہا طویل سفر کرسکے، سو میں جب لاہور سے مدینہ شریف کے لیے روانہ ہورہا تھا آنسوﺅں کا سیلاب اُس کی آنکھوں میں تھا، وہ روئے جارہا تھا اور مسلسل یہ کہے جارہا تھا ”مدینے والے سے میرا سلام کہہ دینا “ (جاری ہے)


ای پیپر