کالا باغ ڈیم: چیف جسٹس کے مستحسن عزائم
08 جون 2018 2018-06-08

پانی کا بحران یا دوسرے لفظوں میں قلت آب کا مسئلہ صرف پاکستان ہی کا نہیں بلکہ دنیا بھر کا ایک سنگین ترین مسئلہ ہے۔ آنے والے سالوں میں قلت آب انسانیت کو درپیش ایک بڑے چیلنج کی صورت میں سامنے آئے گی۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر انسانوں نے آبی ذخائر کی تعمیر و ترقی کے عمل کو بالائے طاق رکھ کر موجودہ شرح سے پانی کے استعمال کو جاری رکھا تو 2025ء تک دنیا کے 2ارب 70کروڑ افراد پانی سے محروم ہو جائیں گے۔1968ء کے بعد ہمارے ہاں ایک بھی بڑا آبی منصوبہ بام تکمیل تک نہیں پہنچا۔ ان50 برسوں میں وطن عزیز کی آبادی اور ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ آبی ضروریات کی تکمیل کرنے والے منصوبوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو تو قحط نہ ٹلنے والی تقدیر اور قضائے مبرم کا روپ دھار لیا کرتے ہیں۔ آبی وسائل رفتہ رفتہ کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1951ء میں 5ہزار 650 مکعب میٹر فی کس پانی دستیاب تھا، جو 49سال بعد سن 2000ء میں کم ہوتے ہوتے 1400مکعب میٹر رہ گیا ہے۔ 2005ء تک یہ مزید کم ہو کر 1000 مکعب میٹر تک رہ گیا۔ مزید 13 سال بعد صورت حال ناگفتنی ہوچکی ہے اور موجود منظرنامہ آنے والے برسوں میں پانی کے قحط کے یقینی امکان کو جنم دے رہا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ معدودے چند سیاست کار جو سرحدی گاندھیوں کی باقیات اور ان کے پاکستان مخالف پیروکار اپنے آقائے ولی نعمت بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اسی پر موقوف نہیں وہ محض ذاتی مفادات کے حصول کیلئے اف ڈیک کے مسئلہ پر سندھی، بلوچی اور پختون عوام کو گمراہ کر رہے اور بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

یہ بات بلامبالغہ اور بلااشتباہ کہی جا سکتی ہے کہ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے وطن عزیز کے گھمبیر مسائل کا حل ناممکن ہے۔ ماہرین ایک سے زائد بار ناقابل تردید اعداد و شمار اور حقائق و شواہد کی روشنی میں ملک و قوم کوآنے والے دور کے خطرات و خدشات سے مطلع کر چکے ہیں۔ مطلع نہیں بلکہ انباہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ، ایتھوپیا اور موزمبیق نہیں بنانا تو بلا تاخیر سچ تو یہ کہ 2004ء میں دکٹیٹر پرویز مشرف حسب وعدہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کرسکتا تھا۔یہ ہمارے ملک، اس کے مستقبل اور عوام کیلئے ناگزیر تھا۔لیکن اس نے قومی منصوبے کی تعمیر کے بجائے دانیال عزیز، طلال چوہدری ، زاہد حامد، ماروی میمن اور امیر مقام اور چوہدریوں ایسے مشیران اعظم نے انہیں تاحیات صدر بننے کے خواب دکھانا شروع کردیے ۔ وہ اتنا با اختیار آمر مطلق تھا کہ اگر کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ اور عزم کرلیتا تو محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی خان، ممتاز بھٹو اور سید جلال شاہ میں کسی کی مجال نہ تھی کہ چوں بھی کرتے۔ سب نے سرجھکا کے داخل مے خانہ ہوجانا تھا۔

حقائق سے آگاہ ہر باشعور پاکستانی جانتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارہ یو این ڈی پی نے 1982ء 1988ء تک کالا باغ ڈیم منصوبے کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے مکمل رپورٹ تیار کرلی تھی۔ اس زمانے میں اس رپورٹ کی تیاری پر ایک ارب 10کروڑ روپے کی لاگت آئی تھی۔ عالمی ماہرین نے منصوبے کو پاکستان اور اس کے چاروں صوبوں کے عوام کیلئے نہایت مفید، قابل عمل اور زرعی و صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیا تھا۔ ماہرین نے اس دور میں تخمینہ لگایا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر بخیر و خوبی ہو جائے تو یہ منصوبہ سالانہ 33ارب 20کروڑ روپے کی آمدنی فراہم کر سکے گا اور اس طرح بجلی کے شعبے میں سالانہ 25ارب روپے کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ آپ آج کہہ سکتے ہیں کہ یہ آمدن330ارب سے کہیں زائد ہوتی اور زر مبادلہ کی بچت سالانہ250ارب ہوتی اور قومی خزانے میں سالانہ 500 ارب جمع ہوتا۔ واضح رہے کہ کالاباغ ڈیم ایک محفوظ ترین کثیر المقاصد منصوبہ ہے۔ صوبہ سندھ، صوبہ سرحد، صوبہ بلوچستان اور صوبہ پنجاب کے عوام کی تب سالانہ ضرورت 9200 میگا واٹ تھی۔ تب ملک میں تھرمل اور پن بجلی گھروں میں بجلی پیدا کرنے کی اہلیت 8300میگاواٹ تقریباً ہے۔ ماہرین کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے صوبہ سرحدکے کسی شہر کے ڈوبنے کا قطعاً کوئی خطرہ اور خدشہ نہیں ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد پاکستان کی دو کروڑ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کے بنجر پن پر قابو پانے کے امکانات روشن ہوں گے۔ وفاق پاکستان اور اس کی تمام چھوٹی بڑی اکائیوں کے عوام زرعی خودکفالت کی منزل کو

پا لیں گے۔ اندریں حالات عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کالاباغ ڈیم قطعاً سیاسی ایشو نہیں۔ ڈیم بن گیا تو اس کے فوائد و ثمرات صرف ایک صوبہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کے عوام بھی اس سے متمتع ہوں گے۔اب تو عالمی بنک سمیت مختلف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی حکومت پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ ’’ کالا باغ ڈیم پر فوری کام شروع کیا جائے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان پانی کے زبردست بحران سے دوچار ہے اگر اس بحران پر قابو پانے کے لئے جنگی بنیادوں پر فوری اور ہنگامی نتائج خیز اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے دنوں میں وطن عزیز کے بہت سے زرخیز ترین علاقے بھی موزمبیق اور ایتھوپیا کے ریگزاروں کی طرح بنجر اور ویران ہو جائیں گے۔ ڈیم کا نام خواہ کچھ ہی ہو یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک بڑے ڈیم کی فوری تعمیر وطن عزیز کے بہتر مفاد میں ہے۔ جہاں تک کالا باغ ڈٰیم کا تعلق ہے تو محتاط ترین الفاظ میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس طرح کا بڑا ڈیم تعمیر کرنے کے وطن دوست اقدام پر چاروں صوبوں کی حکومتوں اور عوام میں اتفاق رائے کا پیدا ہونا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ محض سستی شہرت، جذباتی بیان بازی اور نفرتوں کو چھوتے ہوئے قوم پرستانہ جذبات کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتے اس سے چند طالع آزما اور مہم جو پریشر گروپس تو ذاتی اور نجی مفادات کی تحصیل و تکمیل تو کر سکتے ہیں لیکن یہ عوام ان کے علاقوں اور صوبوں کے حق میں کسی بھی طور بہتر اور مفید نہیں ہو سکتے۔ محض سیاسی دکانداری چمکانے کیلئے اہم ترین قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کو یکسر مسترد اور نظر انداز کر دینا کسی طور قرین مصلحت و دانش نہیں ہو اکرتا۔

یاد رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو آگاہ کیا گیا کہ’ پاکستان کا 90 فیصد پانی صرف زراعت میں استعمال ہوتا ہے، اگر 10فیصد پانی نکال کرگھریلو صارفین کو فراہم کر دیا جائے تو پانی کا مسئلہ با لکل ختم ہو سکتا ہے،پاکستان میں اس وقت145ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح1577ملین ایکڑفٹ ہے،پاکستان میں پانی اور بجلی کا انفراسٹرکچر نہایت پرانا اور فرسودہ ہے جس کے باعث بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ1958سے1978 تک پاکستان میں ڈیم بنائے گئے لیکن اس کے بعد ڈیم بنانے کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں چھوٹے اور بڑے کل ملا کر155ڈیم ہیں جبکہ بھارت میں اس وقت5,102ڈیم ہیں اور نئے بھی بنائے جا رہے ہیں، پاکستان میں نئے ڈیم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انڈس واٹر کمیشن بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے جس بنا پر بھارت پانی پر اپنا قبضہ جما رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 25ملین ایکڑ فٹ پانی سالانہ ضائع ہو رہا ہے جس کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے جبکہ پاکستان کی پانی جمع کی صلاحیت15ملین ایکڑ فٹ ہے نیسپاک پاکستان کا بہترین ادارہ تھاجس میں 921نا اہل لوگوں کی سیاسی بھرتیاں کر کے ادارے کو تباہ کر دیا گیا، کالا باغ ڈیم پر اگر سیاسی اتفاق رائے ہوجاتا ہے تو تکنیکی طور پر یہ منصوبہ فائدہ مند ہوگا، اس بات کا سارا اختیار سیاسی جماعتوں کو ہے وہ جو بھی فیصلہ کریں۔ کالا باغ ڈیم پر سندھ کے تحفظات حقیقی ہیں اس لیے اگر کالا باغ ڈیم کا سارا انتظام سندھ حکومت کو دیدے تو ممکن ہے سیاسی طور پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے ‘۔کمیٹی چیئرمین سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ’ پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ بھاشا ڈیم بنے گا نہیں اور کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا جائے گا،سارے پاکستان کی نظریں گوادر پر جمی ہیں لیکن وہاں کی صورت حال یہ ہے کہ گوادر میں پانی کا ایک ٹینک45ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے، اگر فاٹا کا مسئلہ3روز میں حل کیا جا سکتا ہے تو پھر بلوچستان میں پانی کا مسئلہ حل کرنے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں‘۔ ۔ اس پر چئیرمین سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ بھاشا ڈیم بنے گا نہیں اور کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا جائے گا۔

آخر میں اس امر کا ذکر ازبس ضروری ہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ نے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں قرار دیا پانی کے مسئلہ سے ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کراچی رجسٹری سے مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ووٹ کوعزت دو کا مطلب یہ ہے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں، ووٹ کی یہ عزت ہے عوام کو صاف پانی اور ہوا دیں۔ اربوں روپی کا پانی سمندر میں جاتا ہے،لیکن یہا ں ایسی صورتحال نہیں،پانی کا مسئلہ قوم کے لئے عذاب بن جائے گا، پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے، ہم پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا، اربوں روپے کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندر میں ضائع کر رہے ہیں، اگر اس معاملے پرتوجہ نہ دی گئی تو پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے، اگرپانی نہ ہوا تو ہماری زمین بنجر ہو جائے گی،ہم نے لگڑری گاڑیاں خرید لیں، میں تقریر نہیں حقائق بیان کررہا ہوں ، جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بنے،پانی ذخیرہ کرنے کا کام تب ہوگا جب دل میں درد ہو گا، پانی کے معاملے پر لاہور میں 4 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد پانی کی ایک بوند تک نہیں ملی،وزیراعلی شہباز شریف نے تسلیم کیا 4 ارب خرچ کرنے کے بعد بھی لوگوں کو پانی نہیں مل سکا،آئندہ نسلوں کو بچانے کے لئے ایک نسل کو قربانی دینی پڑتی ہے، شمالی علاقہ جات میں چھو ٹے پانی کے منصوبے لگانے سے کس نے منع کیا، سیاست سے ہٹ کر پانی کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،گزشتہ 2 حکومتوں نے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا،نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا، بھارت کی وجہ سے نیلم دریا بھی ختم ہو جائے گا، کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرناہو گا،میں بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوں،پانی کی کمی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں ہیں اور جو چھوڑ کر گئے ہیں، زرداری اور نواز شریف آکر بتائیں پانی کے لیے کیا کیا، کیوں نہ ان لوگوں پر پانی کے مسئلے کی ذمہ داری ڈالی جائے،پانی کے مسئلے کو بطور قوم حل کرنا پڑے گا۔ شمس الملک کوبھی میں نے پانی کے مسئلے پر بلایا ہے،کالاباغ ڈیم پر کانفرنس کرانے پرتوجہ دی جائے گی تاکہ اس معاملے پرٹھوس تجاویز سامنے آسکیں‘۔

کڑوا اور غیر زود ہصم سچ تو یہ ہے کہ (ن) لیگ سمیت آج تک کسی سیاسی جماعت کو کالاباغ ڈیم پر قوم میں اتفاق رائے پیدا کر نے کی توفیق نہیں ہوئی مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے قوم میں اتفاق رائے کیلئے مہم شروع کردی ہے۔

آفریں باد بر ایں ہمت مردانہ تو


ای پیپر