پاک سیاسی کلچر اور انسانی تاریخ
08 جون 2018

اچھا اگر آپ غور کریں تو آپ کو پاکستان کے سیاسی کلچر میں ایک خاص ترتیب نظر آے گی۔ پاکستان بنا تو نوزائیدہ مملکت کو چلانے کے لیے سیاستدانوں نے سول بیوروکریسی کی مدد حاصل کی۔ جسے سمجھنا مشکل نہیں۔ چناچہ ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا جیسے سول بیروکریٹس کاروبار حکومت میں شامل ہو گئے۔ پچاس کی دہائی میں جنرل ایوب خان کی شکل میں خاکی بیوروکریسی کا تیسرا عنصر اس سیاسی کلچر میں داخل ہوا۔ اور سیاسی اشرافیہ کو زمیندار اشرافیہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ پچاس کی دہائی میں وزیراعظم محمد علی بوگرہ ، گورنر جنرل ملک غلام محمد ، صدر اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان تمام سول و خاکی بیوروکریسی کے نمائندے تھے۔ جنہوں نے پاکستان پر عدلیہ اور اشرافیہ کی مدد سے اپنا اقتدار اور اختیار مسلط کر دیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے اور کولڈ وار کا حصہ بن گئے اور سیاسی سرگرمیوں کو کنٹرول کیااور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھی۔ ستر کی دہائی میں بھٹو کی شکل میں لبرل اور اشتراکی عناصر کو سیاست میں اہم مقام حاصل ہوا۔ اسی کی دہائی میں ملا اور صنعتکار اس سیاسی کلچر کا حصہ بن گئے۔ اور نئی صدی کے آغاز پر ایک کھلاڑی نے اپنی اننگ کا آغاز کیا اور میڈیا بھی اس کلچر میں شامل ہو گیا۔ گویا پاک سیاسی کلچر میں اس وقت سول و خاکی بیوروکریسی ، زمیندار اشرافیہ ، ملا ، عدلیہ ، میڈیا ، صنعتکار اور کھلاڑی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا۔ ان سب میں فرق کیا ہے۔ اور کس طرح ایک معاشرہ ترقی کی جانب سفر کرتا ہے۔ چلیں اس فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فوجی آمریت لوگوں کو ایک خاص مائنڈ سیٹ میں رکھنا چاہتی ہے۔ تاکہ ان کا کنٹرول قائم رہے۔ پاکستان کا ایک مخمصہ یہی آمریت ہے۔ جس نے لوگوں کو اپنے ترتیب دیے مائنڈ سیٹ میں مقید کر رکھا ہے۔ اور دولے شاہ کے چوہے پیدا کر رہا ہے۔ یہی معاملہ سول بیوروکریسی کے ساتھ ہے۔ جبکہ عدلیہ مفعول اور فائل دونوں کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اور میڈیا مکمل کنفیوژن کا شکار ہے اور طے نہیں کر پا رہا۔ وہ اقتدار کے ساتھ ہے یا عوام کے ساتھ۔
وڈیرا اور سردار اپنے مزارعوں اور ہاریوں کو ان پڑھ اور مفلوک الحال رکھنا چاہتا ہے۔ تاکہ اس کی سرداری اور اس کا جبر چلتا رہے۔ پاکستان کی پچھتر فیصد دیہی آبادی کا یہی المیہ ہے۔پیر اور ملا اپنے پیروکاروں کو ذہنی اور مذہبی اور مالی طور پر اپاہج رکھنا چاھتا ہے۔ تاکہ اس کے ہدیے اور نذرانے چلتے رہیں۔ اور اس کے دربار آباد رہیں۔ اس کا کاروبار چلتا رہے۔ پاکستان کی اکثریت کا یہ مذہبی استحصال صدیوں سے جاری ہے۔لیکن ایک صنعت کار کا معاملہ دوسرا ہے۔ وہ معاشرے میں تعلیم چاہتا ہے۔ تاکہ اسے اپنے کارخانوں کے لیے ہنر مند لوگ ملتے رہیں۔ لوگوں کی قوت خرید پر فوکس کرتا ہے تاکہ تجارت چلتی رہے۔ سڑکیں بناتا ہے۔ تاکہ اس کے مال کی ترسیل آسان ہو۔ بینکنگ سسٹم ، صحت اور ہاؤسنگ پر توجہ دیتا ہے۔ آئی ٹی اور اکاؤنٹینسی
جیسے شعبوں کو فروغ دیتا ہے۔ اور معاشرے کی مجموعی طور پر اپ لفٹ چاہتا ہے۔ یہ اپ لفٹ اور جمہوری شعور اور اپنے حقوق سے آگاہی ایک ایسا سوشل کنٹریکٹ وجود میں لاتی ہے۔ جس میں قانون اور آئین کی فرمانروائی ہوتی ہے۔ تاجر اور صنعتکار اور سرمایہ دار معاشرتی ابتری اور سیاسی عدم استحکام برداشت نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کا کاروبار ختم ہوتا ہے۔ یورپ نے معاشی اور جمہوری ترقی اور فلاحی ریاست کا تصور اس جدید سوچ پر استوار کیا۔
دوسری جانب فوجی آمریت، جاگیرداری ، سرداری ، پیری فقیری اور ملا کی خواہش اور ضرورت اور کوشش یہی ہے۔ کہ معاشرہ ترقی نہ کرے۔ ذہنی ، مذہبی ، مالی اور معاشی اور سماجی و معاشرتی طور پر غربت ، مفلوک الحالی ، معزوریت اور محتاجی اور تقسیم اور ابتری اور طوائف الملوکی اور عدم استحکام کا شکار رہے۔ تاکہ ان استحصالی قوتوں کا دال دلیہ اور کنٹرول اور اقتدار چلتا رہے۔ پاکستان میں ستر سالوں سے ملٹری ، ملا اور اشرافیہ کا روائتی گٹھ جوڑ اسی مسلسل استحصال کی وجہ سے ہے۔ جو سیاستدان اس اتحاد کو چیلنج کرتا ہے اسے عبرت کی مثال بنا دیا جاتا ہے۔ ملٹری اور ملا اور اشرافیہ کے اس ظالمانہ اتحاد کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ اتحاد کسی کٹھ پتلی کے سر پر ہاتھ رکھ دیتا ہے اور اشرافیہ کے مہرے اس جانب مراجعت شروع کر دیتے ہیں۔ آج کل ایک ایسی ہی ہجرت جاری ہے۔ اور کھلاڑی کی باری تیار کی جا رہی ہے۔
انسانی تہذیب کے سفر میں زرعی معاشرہ دس ہزار سال تک جاری رہا۔ اور بادشاہ اور جاگیردار اور ملا اور پادری انسان کو غیر ترقی یافتہ رکھنے میں لگے رہے۔ کبھی ارسطو کو زہر پینے پر مجبور کیا گیا۔ تو کبھی گلیلیو کی مٹی خراب کی گئی اور کبھی وچ ہنٹنگ کی گئی اور کبھی مسلسل جنگیں لڑی گئیں۔ اور ماؤں کے کڑیل بیٹے مروائے گئے۔ بادشاہ اور پادری کمتر انسانوں کو بتاتے رہے۔ ان پر حکومت کرنا ان بادشاہوں اور پادریوں کا آسمانی حق ہے۔ یعنی مذہبی حق ہے۔ اور ان کمتر لوگوں کی زمینی بخشش اور آسمانی نجات اسی میں ہے۔ کہ وہ اس آسمانی حق کو تسلیم کریں۔ اور ان کے سامنے جھولی اور ہاتھ پھیلا کر کھڑے رہیں۔ اپنے بادشاہوں اور ملاؤں کو ماں باپ کہنے کی روایت اور تاریخ اسی وجہ سے ہے کہ انہیں محتاج رکھا گیا۔ آج بھی پاکستان میں درباروں پر اکٹھے ہونے والے پیسوں کی مسلسل گنتی چلتی ہے، ظلم یہ ہے کہ یہ نذرانے ان عسرت زدوں اور غربت کے ماروں سے لیے جاتے ہیں۔ جن کے پاس پہلے سے کھانے کو روٹی نہیں۔ اسی طرح شہر در شہر ڈیفنس کالونیاں بنتی جا رہی ہیں جن میں آج کے بادشاہ لوگ رہتے ہیں۔
یورپ والوں نے دس ہزار سال پرانے اس زرعی کلچر کو پندرہویں اور سولہویں صدیوں میں چیلنج کیا۔ سائنس اور صنعتی ترقی حاصل کی۔ اور صدیوں سے جاری ایک سوئے ہوئے زرعی معاشرے کو صنعتی معاشرے میں تبدیل کر دیا۔ اور اسے ایک ترقی یافتہ ، تعلیم یافتہ اور فلاحی معاشرے کی شکل دے دی۔ یورپ کا صنعتی انقلاب 1837 میں مکمل ہو گیا۔ کارل مارکس نے 1848 میں اپنے کمیونسٹ منشور سے جب اس طبقاتی سرمایہ دار معاشرے کو چیلنج کیا۔ تو اہل یورپ نے ایک قدم آگے بڑھ کر جمہوریت اور قانون اور آئین کی بالادستی قائم کر دی۔ یہ وہ سوشل کنٹریکٹ تھا۔ جس کا آغاز پندرہویں صدی میں نشاتہ ثانیہ سے ہوا اور جسے ہم آج ترقی یافتہ دنیا کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب اہل یورپ کو بادشاہ اور پادری حب الوطنی اور مذہب کے نام پر صدیوں تک لڑواتے رہے اور آج یہی یورپ ایک ملک بن چکا ہے۔ اور اس طرف ہم آج بھی اسی بادشاہ اسی ملا اور اسی اشرافیہ کی تگڈم کا شکار بنے ہوے ہیں۔ ہمیں مذہب اور حب الوطنی کے نام پر لڑوایا جا رہا ہے۔ ہمیں جان بوجھ کر غریب اور ذہنی طور پر مفلوج اور مالی طور پر محتاج رکھا جا رہا ہے۔ تاکہ یہ تگڑم ہم پر حکومت کرتی رہے۔ جو انہیں چیلنج کرتا ہے۔ اسے یہ کافر اور غدار قرار دے دیتے ہیں۔ یا ختم کر دیتے ہیں۔ اور اشرافیہ دوسری جانب مراجعت شروع کر دیتی ہے۔ جہاں ملٹری اور ملا اور اشرافیہ کا ایک نیا کٹھ پتلی سر پر ہما سجاے ان کی نوکری کرنے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ کیونکہ پچھلے والے نے یہ نوکری کرنے سے انکار کر دیا ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے۔ ہم کب تک انسانی تہذیب کے تاریخی سفر اور اس کے جمہوری و معاشی فوائد سے الگ رہ پائیں گے۔


ای پیپر