ریحام خان ۔۔ (A Planted Bomb)
08 جون 2018 2018-06-08

یہ مارچ دو ہزار چودہ کی دھیمی دوپہر تھی ، شہر اقتدار کے نجی ٹی وی چینل میں کرکٹ کے عالمی ٹی 20مقابلوں کی مناسبت سے نشریات کی میزبانی کے فرائض میرے ذمے تھے ، چینل زیادہ مشہور نہ تھا اس لئے مہمانوں کو مدعو کرنا جان جوکھوں کے مترادف تھا ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کے لئے اچھے سے مہمان کی فرمائش کی گئی تھی ۔ ریحام خان ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر اسلام آباد سے حالات حاضرہ کا پروگرام کیا کرتی تھیں ۔مجھے ان کا نمبر چاہیے تھا، تھوڑی مشقت کے بعد اس چینل کے پروڈیوسر کے توسط سے ریحام خان کا نمبر مل گیا۔ محترمہ سے بات ہوئی ، انہیں نشریات کے لئے مدعو کیا گیا اور یوں انہوں نے شام سے لے کر رات گئے تک نشریات میں بطور مہمان بیٹھنے کی پیشکش قبول کر لی ۔ چہرے سے بظاہر معصوم ، سادہ طبیعت اور مزاج کی دھیمی خاتون نے نشریات میں پوری توانائی کے ساتھ شرکت کی ۔ مہمان آتے گئے لیکن ریحام نشریات کامستقل حصہ رہیں ۔نشریات میں ایک موقع پر بریک کے دوران ریحام کا موبائل وائبریٹ کرنے لگا ، چونکہ انہوں نے موبائل میرے قریب والی میز پر رکھ چھوڑا تھا ، اس لئے ناچیز نے نہ چاہتے ہوئے بھی موبائل پر کالر آئی ڈی کو پڑھ لیا تھا، ریحام خان نے لپک کر موبائل اٹھایا تو دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے سرگرم سینئر رہنما اور اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید صاحب موجود تھے ۔ دونوں کے درمیان مزاح سے بھرپور انتہائی بے تکلفانہ انداز میں بات ہوئی ۔ پرویز رشید صاحب ریحام خان کی نشریات میں موجودگی پراور ہمیشہ کی طرح خوبصورت نظر آنے پر تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے جس کا اندازہ ریحام خان کے جوابات سے بخوبی لگایا جا سکتا تھا ، موصوف نے مختصر بات کی اور رات گئے ملنے کا پروگرام طے کر کے بات کو ختم کر ڈالا ۔ غالبا نشریات کے خاتمے کے بعد دونوں کی ملاقات طے تھی۔کیونکہ میری ریحام سے زیادہ ملاقاتیں نہ تھیں اس لئے بے تکلف ہونے کی بجائے ناچیز نے سنجیدگی کو غالب رکھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔ اتنے میں وہ خود سے بولیں ، پاکستان کے میڈیا میں آٹھ یا دس بجے کا پروگرام پکڑ لو اور دیکھو کہ وزرا ء کیسے دُم دباتے ہوئے آپ کے پیچھے آتے ہیں۔ یہ پرویز رشید صاحب تھے ، عشائیے پر مدعو کر رہے تھے ۔ ریحام کے اس جملے میں شوخا پن بھی تھا اور بلا کا غرور بھی ۔نا چیز نے سنی ان سنی کر کے اپنی توجہ نشریات کی جانب مرکوز رکھی ۔ نشریات کا وقت ختم ہوا اور ریحام خان چلی گئیں۔ میں بھی اپنے گھر کی جانب محو سفر تھا کہ مجھے سرکاری ٹی وی کے اس وقت کے کرتا دھرتا کی کال آ گئی ، بظاہر تو وہ سرکار کے زیر انتظام ٹی وی چینل کے صف اول کے ملازم تھے لیکن پرویز رشید صا حب کے قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے انہیں سرکاری ٹی وی کااُس وقت کا ’مالک‘ کہا جائے تو
غلط نہ ہوگا۔ میں ان سے قدرے بے تکلف بھی تھا اور سلام دعا کا تقاضا بھی یہی تھا کہ ہم ملتے رہتے تھے۔ جناب موصوف ، ناچیز کو سرکاری ٹی وی میں حالات حاضرہ کے لئے بطور اینکر منتخب کر چکے تھے اور اب گیند میرے کورٹ میں تھی۔یہ مجھ پر تھا کہ مجھے سرکاری ٹی وی کو ترجیحی بنیادوں پر جوائن کرنا تھا یاکہ کمرشل میڈیا کے ساتھ اپنے کرئیر کو پروان چڑھانا تھا۔ انہوں نے اگلے روز مجھے ڈنر پر آنے کو کہا ۔میں ان کو انکار نہیں کر سکتا تھا اس لئے فورا ہاں بول دی۔اگلے دن شام کو میں جناب کے بتائے گئے ٹھکانے پر عشائیے کے لئے بطور مہمان حاضر تھا۔ شہر اقتدار کے پارلیمنٹ ہاوس کے عین سامنے واقع اس فائیو اسٹار ہوٹل کی رنگینیوں کی ابھی اپنی کہانیاں ہیں ۔خیر ان کہانیوں کا تزکرہ کسی اور وقت کے لئے موقوف رکھتے ہیں ۔ ابھی بات عشایئے کی ۔ ہوٹل میں جاکر مجھے اندازہ ہوا کہ ڈنر پہ محض ناچیز ہی نہیں اور بھی بہت سی قد آورشخصیات مدعو کی گئی ہیں ، مختلف ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں اور سیاستدانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس عشائیے میں مدعو تھی ۔ ہم لوگ کھانے کی میز پر لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ ہال میں تھوڑ ی دیر کے لئے خاموشی چھا گئی ، اطلاع ملی کہ وزیر اطلاعات موصوف براجمان ہوئے چاہتے ہیں ۔پرویز رشید صاحب اکیلے نہیں تھے ، ان کے ساتھ ریحام خان اور دانیال عزیزبھی تشریف لائے تھے ۔ہال میں چلتے ہوئے دائیں طرف پرویز رشید ، بائیں جانب دانیال عزیز اور بیچ میں ریحام خان پاکستان میں صحافیوں کی اصلیت کی قلعی کھول رہی تھیں ۔اس وقت کسے معلوم تھا کہ محترمہ خان صاحب کی اہلیہ جا ٹھہریں گی۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس ٹیبل پر یہ تینوں شخصیات براجمان تھیں ، ناچیز کو بھی اس میز پر دعوت طعام اڑانے کا موقع مل گیا ۔ تینوں شخصیات کی باتیں بہت عجیب اور ذومعنی تھیں ۔ جناب وزیر اطلاعات موصوف نے کھانے کے لقمے کے ساتھ محترمہ کی بات کو لقمہ دیا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ ریحام ۔۔’ خان ‘ کو پھنسا لے اور’ آپ اپنے دامن میں صیاد آ گرے‘۔اس جملے پر ریحام زیر لب قہقہہ لگا کر ہنستی رہیں جبکہ سرکاری ٹی وی کے کرتادھرتا نے موقع لگا کر چوکا دے مارا ۔ بولے ’ خان ‘کا تو پتہ نہیں کیا بنے لیکن ہم بطور سرکار اپنا دل ہار چکے ہیں اور ریحام کو بطور کرنٹ افئیرز میزبان سرکاری ٹی وی میں شمولیت کی پیش کش کرتے ہیں ۔شرائط و ضوابط خود ریحام طے کرلیں ۔ ریحام نے بھی تین گنا پیکیج پر ڈیل کرنے کی حامی بھر لی ۔ اس تمام نشست میں ریحام خان کا لالچی پن اور ن لیگ کے سینئر رہنماوں کے عزائم میرے اوپر کھل چکے تھے۔کچھ ہی دنوں میں ریحام سرکاری ٹی وی کا حصہ بن گئیں ۔عشائیہ برخاست ہوا لیکن میرے لئے بہت سارے سوال چھوڑ گیا۔سوال تو بنتے تھے لیکن سرکار کی گود میں پلنے والے اس وقت کے سرکاری ٹی وی کے کرتا دھرتا سے کبھی بے تکلفانہ ملاقات ہوتی تو پوچھے جا سکتے تھے۔کچھ دن بعد مجھے جناب ’کرتادھرتا‘ کی پھر کال آئی ، اس با ر انہوں نے مجھے سرکاری دفتر بلایا تھا۔ میں ہمیشہ کی طرح بلا تردد چلا گیا ۔غیر رسمی سی ملاقات میں چائے کا دور چل نکلا۔باتوں باتوں میں ناچیز نے پوچھ لیا ۔ کہ کیا ریحام خان کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جواب ملا ۔ یار جمیل فاروقی ۔ آج کون استعمال نہیں ہوتا۔میں نے پوچھا ، خان صاحب ! خواتین کے معاملے میں خاصے غیر محتاط ہیں ، کیا ریحام انہیں شیشے میں اتار پائیں گی۔ جناب موصوف نے جواب دیا ۔ اتار پائیں گی کا کیا مطلب ۔ خان صاحب محترمہ کی زلفوں کے اسیر ہوچکے۔ بہت جلد دونوں ایک ہوں گے۔میں نے کہا اس کا پرویز رشید یا دانیال عزیز کو کیا فائدہ ۔ بولے یہ لانگ ٹرم فائدہ ہے۔ جئے نام خان صاحب کا ۔ جیسے ’جئے بھٹو ‘ہوتا ہے ۔ اور پارٹی ریحام خان کی۔کیونکہ ’ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ‘۔مطلب پارٹی ہائی جیک کرنے کی پوری’ پلاننگ ‘ہوچکی تھی ۔میں نے کہا کہ کیا محترمہ خان صاحب کے بیڈروم میں ن لیگ کا پلانٹڈ بم ہوں گی۔ جواب ملا RDXبولو جمیل فاروقی RDX۔قہقہوں سے بھرپور یہ میری جنا ب موصوف کے ساتھ آخری ملاقات تھی ۔بعدازاں دھرنے کے دنوں میں ریحام اور عمران کے درمیان ملاقاتوں کے چرچوں کے بعد یہ باتیں مجھے سچ ہوتی دکھائی دیں۔ پارٹی ہائی جیک ہونے والی بات تو حسرت رہ گئی لیکن ریحام بطور RDXکارگر ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔پر ایسا ہوگا نہیں، عوام اتنے بھی بھولے نہیں جتنا ن لیگ نے انہیں سمجھ رکھا ہے۔عائشہ گلالئی سے لے کر ریحام خان تک ۔۔ سب پلاننگ کا حصہ ہیں۔ سب خریدے ہوئے مہرے ہیں۔ ریحام خان کی متنازعہ کتاب سے ن لیگ کیسے دامن چھڑا سکتی ہے جب ان کے اپنے رہنما اس کتاب کے حوالے سے بہت پہلے لب کشائی کر چکے ہوں۔ جب اس طرح کی ملاقاتوں کے احوال اب کالموں کا حصہ بن رہے ہوں ۔ تو حقائق کو پہچاننا لوگوں کے لئے کونسا مشکل کام ہے ۔مانا کہ خان صاحب رشتوں اور خواتین کے معاملے میں’ بھولے‘ ہیں لیکن ریحام خان کی اصلیت بہر حال یہی ہے کہ وہ انتخابات دوہزار اٹھارہ سے پہلے عمران خان کو بہت بڑا سیاسی دھچکا دینا چاہتی ہیں ۔ ان پر ن لیگ کی انویسٹمنٹ ہوئی پڑی ہے۔ یہ پرانا قصہ ہے ۔ اس قصے کے نتائج اب برآمد ہونا شروع ہوں گے۔ لیکن یہ طے ہے کہ عمران خان کا اپنا سیاسی قد ہے ۔ ذاتی نوعیت کی غلطی انہیں سیاسی مات نہیں دے سکتی۔ عمران خان کھلے آسمان پر چمکتے چاندکی مانند ہے ۔ آب وتاب سے چمکتا ہوا چودہویں کا چاند۔ جسے ریحام خان جیسی کالی گھٹا سے گھٹنے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ۔چاہے حملے کرانے والا کتنے Below the bletحملے کیوں نہ کرالے۔ خان صاحب اور جوبن سے ابھریں گے ۔۔بس خانصاحب کو پلانٹڈ بم کو ’ڈی ایکٹی ویٹ ‘ کرنے کے لئے بم ڈسپوزل اسکواڈچھان کے چننا ہوگا۔


ای پیپر