احوال روزوں اور کچھ افطار دعوتوں کا۔۔۔!

08 جون 2018

ساجد حسین ملک

برکتوں اور رحمتوں کے مہینے رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ جاری ہے اور عید الفطر میں ایک آدھ ہفتہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ یہ ماہِ مبارک ہم جیسی عمر کے لوگوں کو آئندہ کیسے نصیب ہو گا اللہ کریم ہی بہتر جانتے ہیں تاہم اس بار روزے کچھ زیادہ ہی سخت گزر رہے ہیں ۔ شروع کے تین چار دنوں کو چھوڑ کر ہر گزرتے دن کے ساتھ گرمی زور پکڑتی رہی اور پیاس کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ یہ کچھ مبالغہ نہیں کہ منہ خشک اور زبان پر کانٹے پڑنے کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شکر ہے اللہ کریم کا کہ منگل کو پنڈی ، اسلام آباد میں آندھی اور پھر زور کی بارش ہوئی جس سے گرمی کی شدت میں کچھ کمی ہوئی لیکن بجلی کی طویل بندش کے بعد بجلی کی بحالی ہوئی تو ہر گھنٹے کے بعد گھنٹے بھر کا اس کا تعطل یا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران شروع اور کیے گئے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں سے کم و بیش 10 ہزار میگا واٹ حاصل کیے جانے والی اضافی بجلی کی قومی سسٹم میں شمولیت کے بعد بھی بجلی کا یہ تعطل یا لوڈشیڈنگ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ بجلی کے اس عارضی تعطل یا لوڈ شیڈنگ کے باوجود پانچ سال قبل مئی 2013 ؁ء میں جب ملک میں پچھلے عام انتخابات ہو رہے تھے اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار کی جو کیفیت اور لوڈ شیڈنگ کا جو حال تھا اُس کے مقابلے میں اس وقت صورتحال کتنے ہی درجے بہتر اور قابلِ برداشت ہے۔ خیر اس موضو ع پر آئندہ کسی کالم میں تفصیل سے اظہارِ خیال کیا جائے گا اس وقت ذکر رمضان المبارک کے روزوں اور کچھ افطاریوں کا مقصود ہے ۔
رمضان المبارک کے دوران صبح سحری کے لیے جاگنا، سحری کھانا اور شام کو افطاری کے لیے خصوصی اہتمام کرنا ایک ایسا معمول ہے جسے ہر گھرانے میں تقریباً یکساں طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ نمازِ پنجگانہ کی باقاعدگی سے ادائیگی، کلامِ مجید کی تلاوت، ذکر اذکار اور مساجد میں باجماعت نمازِ تراویح میں قرآن پاک سننا اور قیام الالیل بھی ایسے پاکیزہ معمولات ہیں جن کی ادائیگی سے روحانی بالیدگی ، قلبی سکون اور اللہ کریم کی رضا حاصل کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کریم کے فضل اور عنایت سے ممکن ہوتاہے کہ کچھ خوش نصیب تردد اور اہتمام کر کے ان پاکیزہ معمولات میں شریک ہو کر اللہ کریم کی رحمتیں ، برکتیں اور بخشش سمیٹتے ہیں جبکہ کچھ بد نصیب مہلت، مواقعے او رسہولیات ہونے کے باوجود ان معمولات اور اللہ کی بندگی میں شریک نہ ہو کر اللہ کریم کی رحمتوں، برکتوں اور بخشش سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ اللہ کریم ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کا کون سا عمل اللہ کریم کے ہاں مقبول و محبوب ٹھہرتا ہے۔ ہم اپنے دل کی تسلی کے لیے نماز تراویح اور کچھ افطار دعوتوں کا ذکر کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں مسجدِ حنیفہ (لالہ زار راولپنڈی) میں قاری صلاح الدین پچھلے اڑھائی تین عشروں سے رمضان المبارک میں قرآن پا ک سُنا رہے ہیں۔ قاری صاحب محترم مسجد کے خطیب بھی ہیں اور اپنے معمولات کے بڑے پابند۔ جمعتہ المبارک کو اُن کامختصر بیان زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک ہوتا ہے اور اُس کے بعد ٹھیک 1 بجے جمعے کا خطبہ ہو جاتا ہے ۔ قاری صلاح الدین کا قرآن پاک سنانے کا انداز بہت خوبصورت اور منفرد ہے۔ اللہ کریم کے پاک کلام کے اعجاز کا تو کوئی شمار نہیں تاہم قاری صلاح الدین خوبصورت قرات میں ایک ایک لفظ کی الگ الگ ادائیگی کرتے ہیں تو لطف آ جاتا ہے۔ تراویح کی 20 رکعتوں میں سوا / ڈیڑھ پارہ گھنٹے سوا گھنٹے میں مکمل کر لیتے ہیں بعد میں وتر کی نماز میں جب ذرا ٹھہر ٹھہر کر اور مقابلتاً اُونچی آواز میں سورہ فاتحہ اور دوسری چھوٹی سورتوں کی قرات کرتے ہیں تو لگتاہے کہ اللہ کریم کی کبریائی اور اُس کے پاک کلام کی عظمت پوری کائنات اور زمین و آسمان کی تمام وسعتوں میں پھیل اور بکھر کر گونج رہی ہے ۔ سچی بات ہے میری طرح کے گناہ گار ، عصیاں کار اللہ کے پاک کلام کے اعجازمیں کھو جاتے ہیں۔ ہماری اسی مسجد میں قاری عبدالوہاب صاحب بھی ہوتے ہیں ۔ حافظِ قرآن ہیں اور مسجد کے مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے ہیں ۔ کہنہ مشق قاری ہیں اور بہت خوبصورت انداز میں کلامِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ختم قرآن پاک کے موقع پر تقریب کا آغاز ان ہی کی تلاوت کلامِ مجید سے ہوتا ہے ایک سماں باندھ دیتے ہیں ۔ قاری عبدالوہاب مجھ سے خصوصی شفقت فرماتے ہیں جب بھی ملاقات ہو پُر خلوص دعاؤں سے نوازتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہوئی کے سوموار 28 مئی کو تہذیب بیکرز کے جناب خلیل احمد نون کی طرف سے افطار ڈنر میں شرکت کی دعوت تھی ۔ خلیل احمد نون موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہم جماعت اور سی بی سرسید سکول و کالج کے میرے ابتدائی دور (1969-1974 ) کے شاگردوں میں شامل تھے ۔ میں تذبذب کا شکار تھا کہ اتنی دور اسلام آباد سیکٹر ای الیون میں کیسے جاؤں۔ سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی اور کچھ یہ خیال بھی تھا کہ دعوت میں شرکت کے بعد واپس آتے ہوئے دیر ہونے سے نمازِ تراویح میں بر وقت شرکت میں بھی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ بادل نخواستہ نہ جانے کا فیصلہ کیا لیکن دل میں ملال ضرور تھا ۔ تاہم اُس وقت دل باغ باغ ہو گیا جب نماز تراویح سے فراغت کے بعد قاری عبدالوہاب صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ کل عمرے کے لیے جا رہا ہوں۔ قاری صاحب محترم کے انتہائی بابرکت سفر پر روانگی سے قبل اُن کی دعائیں سمیٹنا اور حرمین شریفین میں بھی اُن کی طرف سے مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا یقیناًمیرے لیے بڑی سعادت کی بات ہے۔
میں منگل 29 مئی کو عید گاہ شریف کے پیر نقیب الرحمن کی طرف سے دی جانے والی دعوتِ افطار اور اُس میں اپنی شرکت کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ مقررہ وقت پر اپنے بیٹے حارث ملک کے ہمراہ عید گاہ شریف پہنچا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ باہر صحن اور برآمدوں میں بلا شبہ بڑی تعداد میں عقیدت مند اِدھر اُدھر پرے بنائے بیٹھے ہیں اور اُن کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم مہمان خانے میں پہنچے تو دیگر احباب کی آمد بھی شرو ع ہو گئی ۔ پیر نقیب الرحمن ایک جنازے میں شرکت کی وجہ سے ذرا تاخیر سے پہنچے ۔ انہوں نے آتے ہی بڑے پُر خلوص اندازمیں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس دوران صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن بھی تشریف لے آئے انہوں نے بھی مہمانوں کی آمد کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا۔ افطاری کا وقت ہوا تو محترم پیر نقیب الرحمن ایک ایک مہمان کو اپنے ہاتھوں سے کھجوریں اور آب زم زم پیش کرتے رہے ۔ انکساری اور مہمان نوازی کا یہ انداز دل کو موہ لینے والا تھا۔
میں افطاریوں کے ایک اور سلسلے کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا ۔ میرے مولا کا مجھ پر بہت کرم ہے کہ اُس نے مجھے ہمت دے رکھی ہے کہ ہر اتوار کو گاؤں جانا ، شام کو اپنی ہمشیرہ محترمہ جو گاؤں میں ہمارے ساتھ ہی رہتی ہیں کے ساتھ افطاری کرنا اورپھر کم و بیش 35 ، 40 کلو میٹر سفر طے کر کے واپس پنڈی آنا اور مسجد حنیفہ میں عشاء کی نماز اور تراویح میں شامل ہونا اس رمضان المبارک میں ہی نہیں پچھلے کئی رمضان المبارک سے میرا معمول چلا آ رہا ہے۔ میں اس کے لیے اپنے رب کریم کا کس زبان سے شکر ادا کروں۔

مزیدخبریں