کالا باغ ڈیم رہنے دیں، اتفاق رائے ممکن نہیں
08 جون 2018 2018-06-08

روز نامہ ’’کاوش‘‘ اکثر لوگوں اس رائے کے ہیں کہ اگر محکمہ انسداد رشوت ستانی نہیں ہوتا، سندھ میں کرپشن کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ محکمہ کرپشن ختم کرنے کے بجائے اس کو تحفظ کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس محکمہ کا کیا رول ہے؟ اس کا اندازہ صوبے میں موجود عروج پر پہنچی ہوئی کرپشن سے لگایا جاسکتا ہے۔ اکثر معاملات میں نظر یہ آیا ہے کہ یہ محکمہ کرپٹ افسران کو گرفت میں لانے کے بجائے ان کو جھار پونچھ کر لانڈری سے گزار کر صاف ستھرے ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیتا ہے۔ اس کی تازہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھ اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں اور خریدار میں بے ضابطگیوں کی دوبارہ تحقیقاتی رپورٹس ہیں۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی کی ٹیم نے کراچی شہر کے مختلف ٹاوئنز میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر، پابندی کے باوجود کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت، رہائشی پلاٹوں کو غیر قانونی طور پر کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کرنے سمیت دیگر غیر قانونی معاملات کی دوباری تفتیش میں دھو کر صاف ستھرا قرار دے دیا ہے۔ اس سے قبل محکمہ انسداد دہشت گردی کے ڈپٹی ڈائریکٹرنے اپنی پہلی رپورٹ میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 128 افسران کو غیر قانونی کاموں میں ملوث قرار دیا تھا۔ ان افسران کو دوسری رپورٹ میں لانڈری سے دھو کر بے داغ قرار دیا گیا ہے۔ اور معاملات اسی ادارے (بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی )کے ڈائریکٹر جنرل کو ریفر کئے گئے ہیں، جس پر پچاس ارب روپے کے کرپشن کے الزامات ہیں۔ دریں اثناء سندھ اسمبلی میں ایک سو سے زائد غیر قانونی بھرتیوں، سال 2014ء سے لے کر 2017 ء تک 85 کروڑ 38 لاکھ روپے کی خریدار ی میں بے قاعدگیوں کی ازسرنو تحقیقات میں سپیشل سیکرٹری پراجیکٹ

اوردیگر افسران کو بری قرار دیا گیا ہے۔

سندھ میں کرپشن کے معاملات کی جب نیب نے تحقیقات شروع کی تھی، صوبائی حکومت نے نیب کی گرفت سے بچنے کے لئے کئی مقدمات محکمہ اینٹی کرپشن کو بھیجے تھے۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ کرپشن کی تحقیقات صوبائی محکمہ کر رہا ہے۔ اس محکمہ نے کیسی تحقیقات کی ؟ اس کا پتہ ان دو رپورٹوں سے چلتا ہے۔ ان دونوں معاملات کی دو مرتبہ تحقیقات کی گئی۔ پہلی تحقیقات محکمہ کے سنیئر افسران نے کی جس میں کرپشن کی ثبوت ملے۔ لہٰذا دوبارہ تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں تھی، اسی تحقیقات کی بنیاد پر مقدمہ درج ہو نا چاہئے تھا۔ یہ مروج طریقہ ہے جس پر پہلے بھی عمل ہوتا رہا ہے۔ لیکن چیئرمین اینٹی کرپشن نے دوبارہ تحقیقات کی منظوری حاصل کی اور دسری بار ہونے والی تحقیقات میں زیر الزام افسران کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ معاملہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ کو ریفر کردیا گیا۔ کیا یہ ممکن لگتا ہے کہ سندھ میں کرپشن کی بہتی گنگا میں محکمہ اینٹی کرپشن بھی اس میں ہاتھ دھو رہا ہے؟ محکمہ کی دونوں رپورٹس متضاد اورایک دوسرے 180 درجے کے زاویے پر ہیں۔

سندھ کے سماج میں کرپشن سرائیت کر گئی ہے۔ اس کرپشن کی وجہ سے جمہوریت کا پھل عوام تک نہیں پہنچ رہا۔ عوام کے ٹیکس کی رقم کی لوٹ مار لگی ہوئی ہے۔ قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کر کے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے لئے بنائے گئے ادارے کرپشن کو چھپانے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس ’’ کالا باغ ڈیم نا منظور ‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ اپنی کے وسائل سے متعلق سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کالاباغ ڈیم سے متعلق خدشات کو درست قرار دیا ہے۔ شاید یہ پہلا موقع ہے کہ واپڈا کے نمائندے نے سندھ کے موقف کو درست تسلیم کیا ہے۔ چیئرمین واپڈا ک کا ماننا تھا کہ سندھ کے خدشات اس لئے درست ہیں کیونکہ سندھ سمجھتا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پنجاب کو پانی ملے گا۔ لہٰذا جب تک اتفاق رائے سمانے نہیں آتا، اس ڈیم کی تعمیر شروع نہیں کی جاسکتی۔ ہم چیئرمین واپڈا کے اس اظہار کو مثبت سمجھتے ہیں، جس میں انہوں نے سندھ کے خدشات کو محسوس کیا ہے۔ آج ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر بڑے ڈیموں کا تذکرہ ہونے لگا ہے۔ اس صورتحال میں بعض حلقے پانی کی قلت کا واحد کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو قرار دے رہے ہیں۔اس ڈیم پر برسوں سے جاری بحث سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کالا باغ ڈیم اس لئے ملکی مفاد میں نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں دو سوبے سندھ اور پختونخوا تباہی کے کنارے پر پہنچ جائیں گے۔ اب تک ہونے والی سیاسی و فنی تمام بحث سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ ڈیم سندھ اور خیبرپختونخوا کے لئے تباہی کا پروانہ ہے۔ لیکن پھر بھی بعض کوتاہ نظر غیر ضروری طور پراس متنازع ڈیم کا ذکر چھیڑ کر ملک میں مزید غیر یقینی حالات پید اکرنا چاہ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے اس معاملے کو ہوا دیان ناقابل برداشت ہے۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق دریا پر پہلا حق آخری سرے پر آباد لوگوں کا ہے۔ جائز حصہ کا پانی دینے کے سندھ کے مطالبے کو رد کرنا بین الاقوامی خواہ فطرت کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ جہاں تک کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے کا تعلق ہے، یہ اتفاق رائے نہ کل تھا اور نہ آج ہے، نہ ہی آنے والے وتقوں میں ممکن ہے۔ اس متنازع ڈیم کے خلاف چار میں سے تین صوبے ایک ہی وقت قراردادیں منظور کر چکے ہیں اور اس کو رد کر چکے ہیں۔ سندھ میں ہرمکتب فکر کے لوگ اس کو اپنے دریا پر وار سمجھتے ہیں۔ لہٰذا یہ سوال ہی فضول ہے کہ اس منصوبے پر اتفاق رائے ممکن ہے۔ ویسے بھی ایک غیر قانونی اور غیر فطری منصوبے پر اتفاق رائے بے معنی لگتا ہے۔ سندھ کو ابھی پانی کی جس قلت کا سامنا ہے ، اس وجہ کیا صرف مجموعی قلت ہے؟ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پنجاب اس قلت کے دوران اپنے وہ کینال زبردستی چلاتا رہا ہے، جو صرف سیلاب یا بہت زیادہ پانی کے بہاؤ کی صورت میں چلانے ہیں۔ پنجاب پانی سے متعلق منصوبوں کے حوالے سے اعتماد کھو چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں اگر سب کو مل جل کر رہنا ہے، تو سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ غیر ضروری تنازعات کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔ کالاباغ ڈیم بھی اس زمرے میں آتا ہے، لہٰذا اس کے لئے ضد اور تکرار بھی بند ہونی چاہئے۔ کیونکہ پانی کی منصفانہ تقسیم وفاق کی وحدت اور سلامتی کی ایک اہم کڑی ہے۔


ای پیپر