یثرب کی سیر
08 جون 2018 2018-06-08

آج سے چارسال قبل اردو زبان میں لکھی جانے والی مکہ مکرمہ کی مکمل تاریخ’’تاریخ ام القریٰ‘‘کے نام سے مارکیٹ میں آئی جسے ادبی اور مذہبی حلقوں میں خاصی مقبولیت ملی‘اس کتاب کے مصنف معروف شاعر اور مؤرخ محمد عمر ندیم تھے ۔مجھے اس وقت یہ کتاب پڑھنے کا حسین اتفاق ہوا تھا‘آج اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی میں اس حسیں شہر کا خوبصورت لمس محسوس کر سکتا ہوں جو اس کتاب کے پڑھنے کے بعد ملا۔میں اکثر کہتا ہوں کہ سفرنامہ نگار اور مورخ کے اسلوب میں اتنا کمال تو ہونا چاہیے کہ وہ اپنے قاری کی انگلی پکڑ کر اسے اس شہر کی سیر کروائے جس کی تاریخ لکھی جا رہی ہو۔’’تاریخ ام القریٰ‘‘ پڑھنے کے بعد واقعی میں نے مکہ مکرمہ کی سیر کی اور اس کی مقدس وادیوں کا سفر کتاب کی قرأت کے دوران کیا۔۲۰۰۸ء میں محمد عمر ندیم نے پنجابی زبان میں بھی ’’مدینے دی تاریخ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جو مدینہ کی پنجابی زبان و ادب میں لکھی جانے والی پہلی تصنیف تھی جسے مسعود کھدر پوش ایوارڈ سمیت درجنوں قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا ‘مجھے یہ کتاب بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔اب دو دن قبل محمد عمر ندیم نے اپنی تازہ کتاب’’تاریخ دار الھجرہ‘‘ بھیجی‘یہ کتاب اردو زبان میں لکھی جانے والی مدینہ کی تاریخ ہے‘اس پر ان کا کہنا ہے کہ مدینہ کی پنجابی میں تاریخ لکھنے کے بعد قارئین کے بے حد اصرار پر اسے اردو میں ترجمہ کرنا پڑا۔میں نے یہ ضخیم کتاب بھی ایک نشست میں پڑھ ڈالی۔یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں گو کہ میں عمرہ کی سعادت کے لیے نہیں جا سکا مگر مدینہ شریف کی یہ تاریخ پڑھتے ہوئے کئی بار مدینے کی گلیوں میں گھوما‘کئی بار مسجد نبوی کے اس لمس کو محسوس کیا جو مصنف نے کتاب لکھتے ہوئے اور اس مقدس وادی کا سفر کرتے ہوئے محسوس کیا ۔
’’تاریخ داراالھجرہ‘‘کا آغاز ۲۲۰۰ قبل مسیح سے ہوتا ہواآج تک کی تاریخ پر آکر رک جاتا ہے۔شہرِ بے مثال کے سنگِ بنیاد کے تعین کے بعد عرب العبائدہ‘عمالقہ‘ عراقی معالقہ‘عرب الباقیہ‘عرب العاربیہ‘ عرب المستعربہ‘بنی اسرائیل‘حضرت موسیٰؑ ‘اوس و خررج اور ان کے قبائل‘ان کی رہائش گاہوں کی جگہ کا تعین‘یہ سب ماقبل اسلام کا تذکرہ ہے۔جس شہر کی آباد کاری حضرت عیسیٰؑ کے ظہور سے کئی سو سال قبل عمل میں آئی‘روز اول سے ظہور اسلام کا سفر بھی تواتر کے ساتھ ضروری تھا۔زیرِ تبصرہ کتاب’’تاریخ داراالھجرہ‘‘میں اس مسطور تاریخ کو آشکار کرنے کی کوشش کی گئی۔آج کا مدینہ تو سبھی نے دیکھا ہے مگر اس نایاب کتاب میں مصنف نے پوری ایمانداری سے کوشش کی کہ اپنی تحریر کی عکاسی سے قدیم مدینہ ( یثرب ) کی جھلک دکھا سکے۔میں یہ کتاب پڑھتے ہوئے کئی بار اس یثرب کی ان گلیوں میں گھوما جہاں میرے آقاﷺ گھومتے رہے‘اسلام کی تبلیغ کرتے رہے‘جہاں میرے پیمبر کے یار اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں رہے۔میں نے یثرب میں حضرت بلالؓ کی آذان کی گونج کوبھی محسوس کیا اور اصحاب چار یار رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی زندگی کا بھی مطالعہ کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس لحاظ سے بھی اپنی نوعیت کی واحد تصنیف ہے کہ اس میں کسی بھی مذہبی فرقے یا انتشار پسندی کو ہوا نہیں دی گئی۔ورنہ ہمارے ہاں مذہبی کتب کاعمومی مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ مصنف نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے فرقے‘مسلک یا نظریات کی تشہیری مہم اور شدت پسند چھاپ سے بچ نہیں سکتاجس کا نقصا ن بہرحال مذہب کے ہرقاری کو بھگتنا پڑتا ہے۔اس موضوع پر گزشتہ کالم میں سیر حاصل گفتگو ہو چکی ہے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پر اسلام کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھا گیا جس کی وجہ سے مذہبی جنونیت اور مسلکی شدت پسندی نے اس ملک کو بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آج نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اپنی نئی نسل کوفرقہ واریت اور مذہبی جنونیت سے دور نہیں رکھ پا رہے۔اس کی بنیادی وجہ وہ مذہبی لٹریچر ہے جس پر کسی خاص مکتبہ فکر اور شدت پسندی کی چھاپ تھی۔کچھ علماء اگر نیوٹرل ہو کر مذہبی کتب تخلیق کرتے یا کم از کم یہ سوچتے کہ ہمارا ملک کسی بھی فرقہ پرستی کا متحمل نہیں ہو سکتا تو ایسے میں شاید ہم اس آگ سے بچ سکتے۔ محمد عمر ندیم گو کہ مکمل طور پہ مذہبی مؤرخ ہیں مگر انہوں نے اپنے اوپر کسی بھی فرقے یا مسلک کی چھاپ نہیں لگنے دی۔اگر کسی ایسی حدیث یا واقعے کو بیان کرنا پڑا جس پر علماء یا محدثین کا ختلاف ہے تو سب کی رائے یاکتب کو برابر جگہ دی اور سب کے نظریات کو واضح کرتے ہوئے فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا کہ وہ خود شعور کی نگاہ سے دیکھے اور سوچے ‘یہی وجہ ہے کہ مجھے ہمیشہ ان کی کتابوں نے متاثر کیا۔محترم واپڈا میں ایک اچھے عہدے پر فائز ہیں مگر اسلامی شہروں کی تواریخ اور ان کے پیچھے چھپی صدیوں پرانی تہذیب اور ثقافت کی کھوج لگانے کا شوق رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند برسو ں میں کئی اہم تاریخی کتب لکھیں جنہیں خاصی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ملکوال کے ایک پس ماندہ گاؤں(پکا کھوہ)سے تعلق رکھنے والے یہ مؤرخ واقعی داد کے مستحق ہیں کہ ایسا علاقہ جہاں کسی بھی طرح کا بڑا کتب خانہ یا یونیورسٹی موجود نہیں۔اپنے طور پر اس اعلیٰ پائے کی تحقیقی کتب تخلیق کرنا یقیناًاس جنون کا نتیجہ ہے جو محمد عمر ندیم کے اندر موجود ہے۔کتاب میںیثرب کا سنگِ بنیاد‘اوس وخزرج کی جنگیں‘مسجد قبا اورمسجد نبوی کا سنگِ بنیاد سمیت کئی اہم غزوات کے موضوعات زیرِ بحث لائے گئے۔مسجد نبوی کا مکمل نقشہ اور اس میں موجود تاریخی نوادرات کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا۔مدینہ میں موجود میں پندرہ اہم ترین مساجد کی تاریخی اہمیت پر بھی کئی صفحات لکھے گئے۔کتاب کے آخر میں مدینہ شریف میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے گھروں اور ان کے قبروں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب ہر خاص و عام کر پڑھنی چاہیے تاکہ انہیں مدینہ کی تہذیب و ثقافت اور اس کی اسلامی تاریخ کا علم ہو سکے۔ایسی کتب ہماری لائبریریوں کو روشنی اورہمارے اذہان کو جلا بخشتی ہیں۔میری سیکرٹری لائبریرین سے گزارش ہے کہ یہ کتاب پاکستان کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادروں اور کتب خانوں کے لیے منظور کروائیں تاکہ ہماری نئی نسل فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کراسلامی تاریخ کا مطالعہ کرسکے ۔یہ نادر کتاب روزن پبلی کیشنز ‘ریلوے روڈ گجرات سے شائع ہوئی جس کی قیمت ۷۵۰ ہیں اور اس کے صفحات ۳۴۰ ہیں۔مصنف کی دیگر کتب بھی اس ادارے پر موجود ہیں۔مدینے کا ذکر آیاتومحترمہ یاسمین حمید کاباکمال شعر بھی سنتے جائیں:
سوچتی رہتی ہوں تادیر کسی رستے کو
پھر وہ رستہ چلا جاتا ہے مدینے کی طرف


ای پیپر