جاوید ہاشمی: تضادات
08 جون 2018

اولیاء اللہ کی سرزمین ملتان کے سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی اخبارات کی سنگل کالم خبر کے ساتھ مسلم لیگ (ن) میں واپس آگئے ہیں۔ انہوں نے اپنی واپسی کا یہ اعلان 11مئی کے تاریخی دن ملتان کے قلعہ قاسم باغ کے ایک جلسے میں کیا۔ جو مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف اور ان کی سیاسی جانشین اور مالیاتی اسکینڈلز میں شریک ملزم مریم نواز کے لیے ملتان کے لیگی کارکنوں نے سجایا تھا۔ یہ وہی کارکن تھے جنہیں چھوڑ چھاڑ کر جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے ۔بعض راویوں کے مطابق اس موقع پر کلثوم نواز نے اپنا دوپٹہ جاوید ہاشمی کے پیروں میں ڈال دیا لیکن جنوبی پنجاب کے ایک روایتی اور مذہبی گھرانے کے سیاسی چشم و چراغ نے روشن سیاسی مستقبل کی امید پر اس کی بھی پروا نہیں کی تھی ۔ ذیادہ تر اہلِ اقتدار کے قریب رہنے ،باربار اقتدار کے مزے لوٹنے، مگر ہمیشہ عوامی یا اپوزیشن کی سیاست کرنے والے جاوید ہاشمی نے اس جلسے سے مختصر خطاب کیا۔ جو عملاًعذرِ گناہ، اور اعترافِ شکست تھا۔ مگر اخبارات اور چینلوں نے اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ چنانچہ اُس قومی اخبار نے بھی جس نے ان کے لیے سینئر سیاست دان کا سابقہ اختراع کیا تھا،اس نے بھی یہ خبر سنگل کالم میں شائع کی۔ الیکٹرانک میڈیا نے بھی فوکس نوازشریف اور مریم نواز کی تقریروں پر رکھا۔ جاوید ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان نہیں کریں گے، کیوں کہ وہ تو ہیں ہی مسلم لیگی۔۔۔ محض چند لمحوں کے لیے اِدھر اُدھر ہوئے تھے۔ جاوید ہاشمی بھول رہے تھے کہ وہ پورے 6سال پانچ ماہ اپنی اس جماعت سے دور رہے ہیں۔ اور اس دوران ایک مخالف سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر دو حلقوں سے نون لیگ کو ہرا کر قومی
اسمبلی میں بھی پہنچے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف میرے لیڈر ہیں، تھے اور رہیں گے۔ یہ بات ایک بار انہوں نے قومی اسمبلی میں بھی اُس وقت کہی تھی جب وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 2013ء کی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ قومی اسمبلی میں اس جذباتی تقریر پر اسمبلی اور پارٹی دونوں کے اندر خاصی لے دے ہوئی تھی۔ پارٹی کے اندر سے شدید ردعمل آیا اور پارٹی قیادت نے بھی اس کا نوٹس لیاتھا، جس پر اگلے ہی دن اک بہاد�آدمی نے ملتان میں پریس کانفرنس کرکے نہ صرف اپنے الفاظ واپس لیے بلکہ اسمبلی میں کہے گئے جملوں پر معذرت بھی کی تھی۔ شاید انہوں نے یہ بات سوچ سمجھ کر کی تھی، وہ پارٹی کے اندر اور مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں اس کا ردعمل دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر اسوقت مسلم لیگ (ن) کے حلقوں نے خاموشی اختیار کرکے جاوید ہاشمی کو خاصا مایوس کیا تھا۔ انہیں مجبوراً معافی مانگنا پڑی تھی۔ ورنہ وہ نہ تو اس کے عادی تھے اور نہ اس کے لیے تیار۔ انہیں توقع بھی نہیں تھی کہ اس صورت حال سے بھی گزرنا پڑ سکتا ہے۔ جاوید ہاشمی ملتان کے جلسہ میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے یہ تک کہہ گئے کہ جس کی تین حکومتیں گرا دی گئیں، وہ عوام کے حقوق کے لیے لڑ رہا ہے۔ ان کا اگلا جملہ واقعی بے مثال تھا کہ ایسا لیڈر تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا۔ ، یہ بات ان کے اپنے قد سے بھی زیادہ ہے اور نوازشریف کے قد سے بھی زیادہ۔ قارئین یاد رکھیں کہ گزشتہ دنوں ایک لیگی لیڈر نے نوازشریف کو نیلسن منڈیلا سے ملانے کی بات کی تھی جس پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا، پھر ایک ٹی وی پروگرام میں ایک لیگی لیڈر نے نوازشریف کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کی مثال دی تو پروگرام کے کئی شرکاء کھڑے ہوگئے اور اتنا ہنگامہ ہوا کہ اینکر کو مداخلت کرکے وقفہ لینا پڑا۔اگر لوگ نیلسن منڈیلا اور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نوازشریف کا نام سننے کے لیے تیار نہیں تو وہ انہیں تاریخ کا منفرد لیڈر کیسے مان لیں گے! جاوید ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس کی تین حکومتیں گرا دی گئیں وہ عوام کے حقوق کے لیے لڑ رہا ہے۔ جاوید ہاشمی تصحیح فرما لیں، نوازشریف عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہیں اقتدار سے نکالے جانے کا دکھ ہے، واپسی کے لیے وہ عوام کی طاقت استعمال کرنا چاہتے ہیں، ورنہ ان غریب عوام کے لیے اپنے تینوں ادوار میں انہوں نے کچھ نہیں کیا، عام آدمی کو ان کی حکومت سے کوئی ریلیف نہیں ملا، اس کے دکھ ذرہ برابر بھی کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے عوام کو تو جاتی امراء جانے والی سڑک سے آگے کبھی آنے نہیں دیا۔ عوام کے منتخب نمائندے بھی وزیراعظم آفس، وزیراعظم ہاؤس، پی ایم ایل این سیکریٹریٹ اور جاتی امراء میں گھنٹوں خوار ہوکر بھی چند منٹ کی ملاقات نہیں کرسکتے تھے۔ نوازشریف، ان کا خاندان اور پارٹی تینوں نہ ووٹ کو عزت دیتے ہیں
اور نہ ووٹر کو۔ یہی کیس تو تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد خودجاوید ہاشمی آگے بڑھاتے رہے ہیں، جاوید ہاشمی نے اس جلسہ میں سب سے اہم یہ بات کی کہ انہوں نے اپنی اولاد کو وصیت کی ہے کہ مرنے کے بعد انہیں مسلم لیگ کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ انھیں لمبی زندگی دے لیکن موت ایک حقیقت ہے اور ہر آدمی کو اُس کی خواہش کے مطابق دفنائے جانے کا حق بھی حاصل ہے، جاوید ہاشمی ذرا غور کرلیں، وہ ماضی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پرچم میں لپیٹے جانے کی خواہش کرتے تھے، پھر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو اس کے پرچم میں لپٹ کر دفن ہونے کا اعلان کرتے رہے۔ صدر ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہوئے تو وہاں بھی اس خواہش کا اظہار کیا، اور جونیجومسلم لیگ کے لیے تو وہ لڑنے مرنے پر آمادہ رہتے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے بارے میں وہ اب تک کہتے ہیں کہ وہ ہیں ہی مسلم لیگی۔ تحریک انصاف کے پرچم میں لپیٹ کر دفنائے جانے کی وصیت انہوں نے تحریک انصاف کے کسی لیڈر کو ضرور کی ہوگی۔ اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ جب یہ مرحلہ آئے تو ایک طرف اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ جمعیت کا پرچم لیے کھڑے ہوں، دوسری جانب رحمت اللہ وردگ یا منظور گیلانی تحریک استقلال کے پرچم کی شکنیں دور کررہے ہوں، جناب اعجازالحق اپنی پارٹی کا پرچم لیے منتظر ہوں، حاند ناصر چٹھہ اور فضہ جونیجو مسلم لیگ جونیجو کے پرچم کے ساتھ انتظار میں ہوں، تحریک انصاف والے اپنے پرچم کے ساتھ نعرے لگا رہے ہوں، اور نوازشریف آصف کرمانی کے ہاتھ مسلم لیگ (ن) کا پرچم بھیج کر ٹی وی پر بیٹھے اس خبر کا انتظار کررہے ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی دیے۔


ای پیپر