سپریم کورٹ نے 54 ارب کا قرضہ معاف کرانے والی کمپنیوں سے حساب مانگ لیا ؟
08 جون 2018 (20:22) 2018-06-08

اسلام آباد:عدالت عظمی نے 54 ارب روپے کا قرضہ معاف کرانے والی 222 کمپنیوں سے ایک ہفتے میں تفصیلی جواب طلب کرلیا۔


چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قوم کے 54 ارب روپے کھانے کے باجود کمپنیاں تاحال کام کر رہی ہیں، انہوں نے پیسے بھی ہضم کرلیے لیکن لینڈ کروزر اور کاروبار چل رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے حوالے کردیں گے اور قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کردی جائیں گی۔ دوران سماعت فریقین کے وکلاکی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جس پر چیف جسٹس نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس اہم کیس کو ملتوی نہیں کرسکتا، روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔


فاضل عدالت میں وکلاکی جانب سے استدعا کی گئی کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) کے ذریعے کمپنی کو نوٹسز دیے جائیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک نوٹس کردیا ہے، اگر کوئی نہیں آتا تو اپنی ذمہ داری پر مت آئے، جو کمپنیاں نہیں آئیں گی ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ بعد ازاں عدالت نے 222 کمپنیوں سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 19 جون تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سماعت میں عدالت نے تمام کمپنیوں کو عدالت میں پیشی کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔ جسٹس ریٹائرڈ جمشید کمیشن نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرانے والی 222 کمپنیوں کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ222 کمپنیوں نے 18 اعشاریہ 717 ارب کا قرضہ لیا اور قرضے کی رقم کا 8 اعشاریہ 949 ارب روپے واپس کیے۔


رپورٹ کے مطابق222 کمپنیوں کی جانب اس وقت 11 اعشاریہ 769 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہے، اس کے علاوہ ان کمپنیوں پر بینک سود کی مد میں 23 اعشاریہ 572 ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔ کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 620 قرضہ معافی کے مقدمات میں 84 ارب روپے معاف کیے گئے،222 کمپنیوں کے 35 ارب روپے کے قرض سرکلر نمبر 2002/29 کے تحت معاف ہوئے۔


ای پیپر