ریحام خان، عمران خان اور عطاء اللہ خان

08 جون 2018

شکیل امجد صادق

کسی معقول آدمی کے خلاف اخبار میں کوئی خبر لگ گئی۔ موصوف بہت پریشان ہوئے کہ لوگ خبر پڑھ کر اس کے بارے میں عجیب و غریب رائے قائم کریں گے۔ کوئی اس کو کرپٹ گردانے گا، کوئی اس کے کردار پر شک کرے گا، کوئی اس کی نیک نامی اور سچائی کو شک کے پلڑے میں تولے گا، کوئی اس کو منافق کہے گا، وہ یہ تمام باتیں سوچ سوچ کر نفسیاتی مریض ہونے لگا۔ یہ تمام باتیں اور اخباری خبری ایسی اس کے دماغ کے نہاں خانے میں بیٹھی کہ نکلنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ ایک دن طے ہوا کہ اسے کسی ماہر نفسیات کو دکھایا جائے۔ شہر کے بڑے ماہر نفسیات سے وقت لیا گیا۔ مقررہ وقت پر ڈاکٹر صاحب کو موجودہ مسئلے سے آگاہ کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب اس مسئلے سے قطعاً نہیں گھبرائے اور نہ ان کے لیے کوئی نیا مسئلہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مریض سے کہا کہ اس ملک میں بیس کروڑ افراد ہوں گے۔ ان بیس کروڑ عوام میں بمشکل ہزاروں کی تعداد میں اخبار بینی کے شوق سے وابستہ ہیں۔ اور جس اخبار میں آپ کے خلاف خبر لگی ہے۔ اس اخبار کو شاید پچاس فیصد لوگ بھی نہ پڑھتے ہوں۔ جن لوگوں نے یہ خبر پڑھی ہو گی۔ ان میں آدھے تو بھول گئے ہو ں گے۔ باقی آدھے آپ کو جانتے ہوں گے۔ جو آپ کو جانتے ہوں گے ان میں آدھے آپ کے دوست ہوں گے اور باقی آدھے مخالف ہوں گے۔ جو آپ کے دوست ہیں ان کے لیے یہ خبر بے معانی ہے اور جو مخالف ہیں وہ بھی آنے والے چند دنوں یا چند ہفتوں میں یہ خبر بھول جائیں گے۔ ان کے ہاتھ کوئی نیا موضوع
آجائے گا۔ لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔ اپنی زندگی کو نارمل کریں اور موجودہ حالات کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ ریحام خان کی کتاب عمران خان کی زندگی کے لیے کسی بھی طوفان کا پیش خیمہ نہیں ہے۔ سیاست اور سیاست میں حصہ لینا ہر پاکستانی فرد کا حق ہے اور اسی طرح کسی بھی پارٹی سے وابستگی اور کسی بھی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینا ہر ووٹر کا بنیادی حق ہے۔ عمران خان ایک مضبوط سیاسی پارٹی کا چیئرمین ہے۔ اگر عمران خان کے دل میں ملک و قوم کا دور نہ ہوتا اور عمران خان مضبوط اعصاب کا مالک نہ ہوتا تو عمران خان بہت پہلے پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ چکا ہوتا۔ اگر وہ خود غرض ہوتا تو ملک میں فلاحی منصوبے شروع نہ کرتا۔ عمران خان مضبوط عصاب کا مالک تھا تو اس نے چھبیس برس پہلے ورلڈ کپ جیت کر پوری قوم کا اور پورے مالک کا مان رکھا تھا۔ ریحام خان کی کتاب جو ابھی تیاری کے مراحل میں ہے (شاید چھپ ہی نہ سکے) صرف عمران خان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کے لیے ہے تا کہ عمران خان کی کردار کشی کر کے عوام میں اس کی مقبولیت کو کم کیا جائے مگر ریحام خان کو شاید علم نہیں ہے اور نہ ہی اس نے یہ کہاوت پڑھی ہے کہ کسی نے چاند پر تھوکا تھا اور وہ تھوک اس کے اپنے منہ پر آ پڑی تھی۔ ریحام خان نے یہ کتاب لکھ کر اپنے کردار کو ظاہر کیا ہے؟ کہ وہ خود کس کردار کی حامل ہے حالانکہ جمائما سے عمران کی علیحدگی کو عرصہ ہو گیا ہے۔ جمائما نے کبھی خان کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ بلکہ جمائما خود نوبل کاز کے لیے (جمائما شرعی لحاظ سے عمران کی بیوی نہ ہوتے ہوئے بھی پاکستان آئیں۔ ادھر ریحام خان جو خان بھی ہیں اور پیدائشی مسلمان بھی ہیں عمران کی کردار کشی پر اتر آئی ہیں۔ ریحام خان جو چند مہینے عمران کے عقد ثانی میں رہیں ہیں، وہ خان کو کیا سمجھی ہوں گی؟ خان جو کہ ایک معروف ترین پارٹی لیڈر ہیں۔ ریحام نے تو کوئی سیاسی سرگرمی بھی عمران خان کے ساتھ شروع نہیں کی تھی اور علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ سو بہت سے شواہد ایسے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ریحام خان کا مقصد پیسہ بٹورنا تھا اور وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اب کتاب لکھنے کو جواز پیدا کر لیا۔ اس کتاب کے لکھنے اور لکھوانے میں کوئی تیسری قوت موجود ہے اور وہ خلائی مخلوق نظر بھی آ رہی ہے مگر عمران خان اپنے حوصلے بلند رکھیں۔ اگر کتاب آ بھی گئی تو کتاب انگلش میں ہو گی اور صرف چند لوگ ہی پڑھ سکیں گے۔ باقی کچھ پڑھیں گے ہی نہیں اور اکثر کو انگریزی پڑھنی ہی نہیں آتی۔
ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی (میں نہ تو پٹھان ہوں اور نہ ہی مجھ میں سرداروں جیسی عقل ہے) کہ عمران خان ایک سچے ، کھرے اور منجھے ہوئے لیڈر ہیں۔ مگر انہوں نے میانوالی کے کسی حلقے کے لیے عطاء اللہ خان عیسیٰ کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیا۔ اگرمیانوالی نہ سہی کسی اور ضلع کے سیاسی حلقے میں ٹکٹ دے سکتے تھے۔ پی ٹی آئی کے لیے جس قدر محنت، محبت، لگن اور عشق عیسیٰ خیلوی کے دل میں ہے۔ کسی اور پارٹی لیڈر میں قدرے کم ہی ہو گا۔ لالہ نے پارٹی کے لیے اپنا تن، من اور دھن نثار کیا ہے؟ مگر پرابلم کی سمجھ نہیں آئی۔ جس کی بناء عمران خان عیسیٰ خیلوی کو ٹکٹ دینے پر رضا مند نہ ہیں حالانکہ عیسیٰ خیلوی ایک کمٹڈ، ایماندار، محب وطن، شریف النفس شہری ہے۔ ایک سب سے بڑی بات کہ عیسیٰ خیلوی کے دل میں ملک و قوم کا درد موجود ہے۔ عیسیٰ خیلوی کو ملک کے مسائل اور قوم کے مسائل کا کماحقہٗ علم ہے۔ عیسیٰ خیلوی اس سیاسی وژن کا حامل شخص ہے کہ وہ مطلوبہ سیاسی پیمانے پر پورا اتر سکتا ہے۔ عیسیٰ خیلوی کا وجود پی ٹی آئی کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ ان کی خدمات تو پہلے ہی پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر چکی ہیں۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے عمران خان کو اگر عیسیٰ خیلوی سے کچھ تحفظات ہیں تو دور کرلینے چاہیے۔ اگر پارٹی کو کچھ شکوک و شبہات ہیں تو عمران خان کو وہ تمام شکوک و شبہات بالائے طاق رکھ کر عیسیٰ خیلوی کو پارٹی ٹکٹ دے دینا چاہیے۔ عیسیٰ خیلوی کی سیاسی خدمات بھی پارٹی اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گی اور پارٹی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گا۔

مزیدخبریں