ہم سب بیمار ہیں
08 جون 2018

ہمارے ہاں جسمانی اعضاء کی مرض تو وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ ہمیں نفسیات کے صحت کی بھی بہت کمی ہے۔ اس کی وجوہات میں کچھ ہمارا اپنا ہی ہاتھ بھی شامل ہے۔ لیکن رہی سہی کثر ہمارے ہی پیدا کردہ ماحول نے پوری کر دی ہے۔
اس کی بہترین مثال میں کچھ اس طرح دوں گا ۔ ہمارے معاشرے میں تقریباً 90% فیصد جھگڑے ہماری برداشت میں قلت کی وجہ ہے۔ یعنی کے سڑک پر چلتے ہوئے الجھنا، اور یہاں تک کے میں نے اس بات پر بھی لوگوں کو ایک دوسرے کو ختم کرتے دیکھا اور سنا کے تم میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو۔
یہ تو ہم اللہ کی دی گئی نعمت سے نا شکرے ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی قانون میں آنکھ کے دیکھنے پر پابندی نہیں ہے ۔ گو کے یہ دوسرے کو ماری نہ جائے۔ اس سے بھی بڑھ کر ہمیں روزانہ دیکھنے کو سننے کو بھی یہی ملتا ہے کہ ہمارے ارد گرد ہر کوئی ایک دوسرے کے نقصانات کا ازالہ کرنے میں مصروف ہے۔ خواہ دو ملکی سیاست کا لیول ہو خواہ وہ ایک ہی محلے کے ہمسایہ دار ہوں۔ اور مزید نقصان دے کر کیا جا رہا ہے۔ شاید
ہمارے فطری عمل میں بدلے کو نقصان سے ہی جوڑ دیا گیا ہے۔
اس کے برعکس ہمارا دین اسلام نے ہمیں بھلائی کا درس دیا ہے۔ اس خلل کو ختم کرنے کے لئے ہمیں قومی لیول پر اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔ کہ ہماری قوم برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے لگے۔ نقصان کا بدلہ نفع سے دینے لگے۔ جھوٹ کا بدلہ سچ سے دینے لگے۔ ان سب چیزوں کا حاصل کرنا تربیت اور شعور سے ممکن ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں ہمارے گھر کی کھیتی ہیں ۔
تربیت اور شعور گھر کی ذمہ داری ہے اور شعور ریاست کے ذمرے میں آتا ہے۔ میں نے باہر کے ممالک میں سفر کرتے ہوئے دیکھا کہ اُن قوموں میں اخلاق کے اقدار بہت پایہ کے ہیں وہاں پر سڑک پر تھوکنا اس لیے منع نہیں کہ پولیس پکڑے گی۔ بلکہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے۔ اور اس طرح کے اخلاق کو ہم اپنے گھر سے ہی پورا کر سکتے ہیں ۔ جس کابہت کم تعلق پیسے سے دیکھا گیا ہے۔ اس کی مثال ایسے دیکھی جا سکتی ہے کہ میں نے مہنگی گاڑیوں میں سے لوگوں کو تھوکتے دیکھا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی نفسیاتی قدروں کا موازنہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بحثیت قوم برداشت اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کی ضرورت ہے۔
اس کا بہترین حل تعلیم کو فروغ دینے سے ممکن ہے نہ کہ ڈاکٹر نفسیات کی دوائی کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے بنانے کی ضرورت ہے جو ہمیں بحیثیت قوم اعلیٰ اقدار کی تعلیمات دے سکے جس کی بناء پر ہم ایک اعلیٰ قوموں کی صفوں میں شامل ہو سکیں۔
لہٰذا ہمیں شہرے اقتدار کی بجائے اقدار اخلاق کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہمارا اخلاق اور شعور بالا ہو گا۔ پھر ہمارا معیار بھی ایوان بالا سے کم نہ ہو گا۔ ہم بحثیت قوم چاند پر جانا تو چاہتے ہیں ۔ لیکن خلائی تحقیق کا پتہ نہیں۔ لہٰذا ہمیں خواب سکون سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔
ہمیں کچھ کام سے در پیش مسائل کا بھی سامنا ہے۔ وہ یہ کہ ہم اپنا کام نہیں کرنا چاہتے ہمیں کسی کا کام کرنا اچھا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنا کام کی جگ ہنسائی ہو رہی ہو۔
ترقی یافتہ قوموں کے شہری کام کے وقت صرف کام کرتے ہیں ۔ نہ تو ملکی سیاست کو زیر غور لاتے ہیں اور نہ ہی کسی کے کام کو زیرِ بحث لاتے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے قومیں کام کرنے سے ہی بڑھتی اور پھولتی ہیں ۔ ہمیں تنقید برائے تنقید کے زمرے سے باہر آنا ہو گا اس کے لئے کسی ذہنی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں خود اپنا اخلاقیات کا مسیحا بننا ہو گا۔ امید کی جاتی ہے کہ آج اپنی قوم سے کچھ اچھی باتیں ہوئی ہوں گی۔ اگلی ملاقات تک اپنا اور دوسروں کا خیال رکھیں۔ پاکستان زندہ باد۔


ای پیپر