برطانیہ میں داعش کی لڑکی کیخلاف اپنی نوعیت کا اہم مقدمہ
08 جون 2018 (17:56) 2018-06-08

لندن : برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک 18 سالہ لڑکی کے خلاف ٹرائل کی تیاری مکمل کرلی ہے جس پر دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے اور دارالحکومت لندن میں حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے جب داعش کے خواتین سیل کی کسی رکن کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ لندن کی ایک عدالت نے 18 سالہ ایک دو شیزہ پرداعش کے احکامات پر لندن میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش تیار کرنے پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنے والی لڑکی برطانیہ میں داعش کی اکلوتی رکن نہیں بلکہ وہ داعشی خواتین سیل کا حصہ ہے جن کے خلاف برطانیہ میں قانونی کارروائی جاری ہے۔لندن کی عدالت نے اٹھارہ سالہ صفاء بولار پر لندن میں اپنی ہمشیرہ اور ماں کے ساتھ مل کر اجتماعی قتل عام کی سازش تیار کرنے کا الزام عاید کیا۔ عدالت میں یہ انکشاف کیا گیا کہ داعشی خواتین سیل نے ایک دوسرے سے رابطوں کے لیے اشاروں کی زبان کا استعمال کیا۔

وہ وسطی لندن میں ویسٹ منسٹر کے مقام پر دہشت گردی کی کارروائی کرنا چاہتی تھی۔ خیال رہے کہ ویسٹمنسٹر کا علاقہ اس طرح کی کاررائیوں کا پہلے بھی ہدف بن چکا ہے۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ریزلین کا شوہر داعش میں شامل ہونے کے بعد شام میں جنگجوؤں میں شامل رہا ہے تاہم ریزلین لندن میں خون خرابہ کرنے کے اپنے منصوبے میں ناکام رہی ہے۔ اس نے پہلے تو برطانوی میوزیم میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی کیونکہ وہاں پر روز مرہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں سیاح اور زائرین آتے ہیں۔


ای پیپر